مجموعی قومی برآمدات میں 9 ماہ کے دوران 7.67 فیصد اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
مجموعی قومی برآمدات میں جاری مالی سال کے دوران 7.67 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی آئی ٹی ایکسپورٹ میں اضافے کی اصل وجہ کیا ہے؟
ادارہ برائے شماریات پاکستان (پی بی ایس) کے اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ ( جولائی تا مارچ) مجموعی قومی برآمدات کا حجم 24.69 ارب ڈالر تک بڑھ گیا جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے دوران برآمدات سے 22.
اس طرح گزشتہ مالی سال کے مقابلہ میں جاری مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران مجموعی قومی برآمدات میں 1.76 ارب ڈالر یعنی 7.67 فیصد کی بڑھوتری ریکارڈ کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران مجموعی قومی برآمدات 10.54 فیصد کی شرح نمو سے 27.72 ارب ڈالر کے مقابلہ میں 30.64 ارب ڈالر تک بڑھی تھیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ادارہ شماریات برآمدات شرح نموذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ادارہ شماریات برا مدات مجموعی قومی برا مدات مالی سال کے کے دوران ارب ڈالر
پڑھیں:
ٹرمپ ٹیرف پاکستانی ٹیکسٹائل برآمدات بڑھانے کیلیے موقع
اسلام آباد:امریکا کی جانب سے ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد پاکستان وہ ملک ہے جو اس ٹیرف کو امریکا کو ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کے لیے خطرے کے طور پر نہیں بلکہ ایک موقع کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
امریکا نے پاکستانی اشیا پر 29 فیصد ٹیرف لگایا ۔ امریکا اور چین کے درمیان ٹیرف کی جنگ پاکستانی مصنوعات جیسے مکئی، گوشت اور کھیلوں کے سامان کے لیے مزید راستے کھولنے والی ہے۔
تفصیل کے مطابق امریکا کو پاکستانی برآمدات میں گارمنٹس کا حصہ 3.2 بلین ڈالر ہے، ہوم ٹیکسٹائل 1.5 بلین ڈالر ہے۔
مزید پڑھیں: غلط پالیسیوں کی وجہ سے ٹیکسٹائل اسپننگ ملیں بند ہونے کے خدشات
بنگلہ دیش گارمنٹس کے شعبے میں پاکستان کے ساتھ مقابلہ کرتا اور چین گھریلو ٹیکسٹائل میں کلیدی حریف ہے۔ چین کے لیے 54فیصد اور بنگلہ دیش پر 37فیصد ٹیرف لگایا گیا۔گارمنٹس میں پاکستان کو بنگلہ دیش سے 8 فیصد فائدہ ہے اور گھریلو ٹیکسٹائل میں چین کے مقابلے میں 25فیصد فائدہ ہوا ہے۔
بھارت کو پاکستان کے مقابلے میں زیادہ فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ حکام نے بتایا کہ پاکستان کے لیے کچھ شعبوں میں ابھی بھی امریکی ٹیرف میں چھوٹ ہے۔ پاکستان نے امریکہ کو 130 ملین ڈالر مالیت کی پلاسٹک PET برآمد کی تھی اور اس زمرے میں ڈیوٹی کی چھوٹ برقرار ہے۔
مزید پڑھیں: ٹیکسٹائل سیکٹر میں بہتری کے لیے حکومت کو تجاویز پیش
پاکستان پر امریکی محصولات کے کل اثرات کا تخمینہ 600 سے ٓ700ملین ڈالر کا لگایا گیا ہے۔ یہ وہ نقصان ہے جو تجارتی رخ تبدیل کرنے سے پورا کیا جا سکتا ہے۔
امریکہ مکئی پیدا کرنے والا بڑا ملک اور چین اس کا اہم خریدار ہے۔ ان دونوں کے درمیان ٹیرف کی جنگ کی وجہ سے پاکستان کے پاس چینی مارکیٹ کا حصہ حاصل کرنے کا موقع ہے۔ اسی طرح پاکستان چین کو گوشت کی برآمدات کے مواقع سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ وزارت تجارت کے ایک عہدیدار نے کہا ملک میں ڈالر کا کوئی بحران نہیں ہوگا۔