یاد رہے کہ اگست 2019ء میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کے بعد مودی حکومت نے کشمیری مسلمانوں کے مکانوں، زرعی اراضی، باغات اور دیگر املاک کی ضبطگی کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں نئی دلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر کے ماتحت انتظامیہ نے کشمیری مسلمانوں کی املاک کی ضبطگی کا مذموم سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ضلع رام بن میں دو کشمیریوں کی 10 کنال اور 18 مرلوں پر مشتمل زرعی اراضی ضبط کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق ضلع کے گاﺅں دلواہ کے رہائشی محمد شریف اور موہڑہ ہرا گائوں کے محمد یونس کی اراضی غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون ”یو اے پی اے“ کے تحت ضبط کی گئی۔ محمد شرف کی 7کنال 3مرلے جبکہ محمد یونس کی 3کنال 15مرلے ارضی ضبط کی گئی۔ انتظامیہ نے ان کی اراضی کی ضبطگی کا جواز فراہم کرنے کیلئے ان پر بھارت مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔ یاد رہے کہ اگست 2019ء میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کے بعد مودی حکومت نے کشمیری مسلمانوں کے مکانوں، زرعی اراضی، باغات اور دیگر املاک کی ضبطگی کا سلسلہ تیز کر دیا ہے جس کا واحد مقصد انہیں مفلوک الحال بنانا اور ضبط شدہ جائیدادیں غیر کشمیری بھارتی ہندوﺅں کو دیکر علاقے میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا ہے۔

.

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کی ضبطگی کا

پڑھیں:

خیبرپختونخوا میں بارش کا نیا سلسلہ شروع، سیاحتی مقامات پر رش بڑھ گیا

پشاور(نیوز ڈیسک)صوبہ خیبرپختونخوا میں بارش اور تیز ہواؤں کا نیا سلسلہ داخل ہو گیا ہے عید کے تیسرے روز سے میدانی علاقوں میں بارش کے بعد موسم خوشگوار ہو گیا ہے جبکہ بالائی علاقوں میں سردی لوٹ آئی ہے۔
پچھلے 24 گھنٹے کے دوران پشاور، مردان، صوابی، نوشہرہ، بنوں اور ڈی آئی خان میں وقفے وقفے سے بارش کے ساتھ تیز ہواؤں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ ملاکنڈ اور سوات کے بالائی علاقوں میں بھی ہلکی بوندا باندی ہوئی۔
چراٹ ، پشاور اور ڈی آئی خان میں ایک ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہےاور محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ملاکنڈ، چترال، دیر، سوات اور گلیات میں آج مزید بارش کا امکان ہے۔
بارش اور ہوائیں چلنے کے بعد درجہ حرارت بھی کافی گر گیا ہے جبکہ بالائی علاقوں گلیات، ناران، کمراٹ، سوات اور کالام میں سردی میں اضافہ ہوا ہے۔
خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقامات میں بارش کے بعد رش میں اضافہ ہو گیا ہے۔ عید کے صرف تین دنوں میں 3 لاکھ 6 ہزار 215 سیاح سیر کے لیے گئے۔ دو لاکھ گیارہ ہزار سیاحوں نے سوات کا رخ کیا جبکہ وادی ناران میں 4 ہزار 111 سیاح سیر کے لیے پہنچے۔
محکمہ سیاحت کے مطابق گلیات میں 28 ہزار سیاح گئے اور کمراٹ کا رخ 16 ہزار 400 سیاحوں نے کیا جبکہ 71 غیر ملکی سیاح بھی خیبرپختونخوا کی سیر کرنے آئے۔
ترجمان محکمہ سیاحت سعد بن اویس کا کہنا ہے کہ بارش کے باوجود سیاحتی پوائنٹس پر رش بڑھ رہا ہے۔
سوات اور ناران میں رش کی وجہ سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی تاہم ٹریفک رواں دواں رکھنے کے لیے محکمہ سیاحت کے انتظامی اہلکار اور ٹریفک پولیس کے اہلکار موجود ہیں۔
ٹورزم اتھارٹی کا کہنا ہے کہ بارش کی وجہ سے سیاحتی مقامات کی سڑکیں بند ہونے کی کوئی اطلاعات نہیں ملیں تاہم ضلعی انتظامیہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیے الرٹ ہے۔
لینڈ سلائڈنگ سے شاہراہیں بند
بالائی حصوں میں کچھ مقامات پر بارش کے بعد لینڈ سلائڈنگ ہوئی جس کی وجہ سے ٹریفک معطل ہے۔ اپر چترال تریچ، کھوژ، سور لاسپور اور یارخون گاؤں کے چند مقامات پر لینڈ سلائڈنگ سے روڈز بند ہیں۔
ان مقامات میں برفانی تودے گرنے کی وجہ سے مرکزی شاہراہ بھی دو روز سے ٹریفک کے لیے بند ہے تاہم انتظامیہ کی جانب سے شاہراہوں کو کھولنے کے لیے کام جاری ہے۔
مزیدپڑھیں:کیا سوزوکی کمپنی مہران گاڑی کی پروڈکشن دوبارہ شروع کرنے جا رہی ہے؟

متعلقہ مضامین

  • کشمیری خواتین کیخلاف مظالم پر عالمی برادری کی خاموشی افسوسناک ہے، کشمیر وومن کانفرنس
  • قابض انتظامیہ سکیورٹی کلیئرنس کے نام پر کشمیریوں کو ہراساں کر رہے ہیں، روح اللہ مہدی
  • آزاد کشمیر اسلامی نظریاتی کونسل کا اجلاس 7 اپریل کو طلب کر لیا گیا
  • خیبرپختونخوا میں بارش کا نیا سلسلہ شروع، سیاحتی مقامات پر رش بڑھ گیا
  • ٹرمپ انتظامیہ کا یوٹرن، پاکستان سمیت 40 سے زائد ممالک پر ویزا پابندیاں روک دی گئیں
  • معاشی میدان میں کامیابیوں کا سلسلہ آگے بڑھا رہے ہیں: وزیراعظم
  • ٹرمپ انتظامیہ کا بڑا اقدام، یو ایس ایڈ کے ہزاروں ملازمین برطرف
  • بھارت متنازعہ جموں و کشمیر میں عالمی قوانین اور اصول و ضوابط کی دھجیاں اڑا رہا ہے، حریت کانفرنس
  • ٹرمپ انتظامیہ کا یوٹرن: پاکستان سمیت 40 سے زائد ممالک پر ویزا پابندیاں روک دی گئیں