پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں 13 سال بعد بڑی پیش رفت
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں 13 سال بعد بڑی پیش رفت WhatsAppFacebookTwitter 0 5 April, 2025 سب نیوز
اسلام آباد: پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ایک اہم قدم اٹھایا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان سیاسی مشاورتی اجلاس 17 اپریل کو بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں منعقد ہونے کا امکان ہے۔ یہ اجلاس 13 سال بعد ہو رہا ہے، کیونکہ آخری سیاسی مشاورتی اجلاس 2012 میں ہوا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس اجلاس میں پاکستان کی جانب سے سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ شرکت کریں گی، جبکہ اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات کو ادارہ جاتی ٹریک پر لانے کی تجویز بھی زیر غور آئے گی۔ اس کے علاوہ، اجلاس میں مشترکہ وزارتی کمیشن کی بحالی پر بھی بات چیت کی جائے گی۔
سیاسی مشاورتی اجلاس کے بعد پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار 22 سے 24 اپریل تک بنگلہ دیش کا دورہ کریں گے۔ اس دورے میں دونوں ممالک کے مابین مزید اقتصادی اور سیاسی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے بات چیت کی جائے گی۔
پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان اس اجلاس اور دورے کی متوقع پیش رفت سے دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید بہتری کی امید ہے۔
.ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاکستان اور بنگلہ دیش کے
پڑھیں:
امریکا کی جانب سے نیا ٹیرف فارمولے کے تحت ہے، سفیر پاکستان
امریکا کی جانب سے نیا ٹیرف فارمولے کے تحت ہے، سفیر پاکستان WhatsAppFacebookTwitter 0 5 April, 2025 سب نیوز
اوکوہاما(آئی پی ایس )امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے نیا ٹیرف سسٹم باقاعدہ فارمولے کے تحت ہے جو تمام ممالک پر یکساں اصولوں کی بنیاد پر لاگو ہوتا ہے۔امریکی ریاست اوکلاہوما میں پاکستانی ڈاکٹروں کی تنظیم اپنا کے اسپرنگ کنونشن کے موقع پر امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے جیو نیوز سے خصوصی گفتگو میں امریکا اور پاکستان کے تجارتی تعلقات، داخلی سیاست، سوشل میڈیا پر گردش کرتی خبروں اور دیگر اہم امور پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے جو نیا ٹیرف سسٹم متعارف کروایا گیا ہے، وہ ایک باقاعدہ فارمولے کے تحت ہے جو تمام ممالک پر یکساں اصولوں کی بنیاد پر لاگو ہوتا ہے، تاہم ہر ملک کی برآمدات، مصنوعات اور تجارتی حجم مختلف ہونے کی وجہ سے اس پالیسی کے اثرات بھی ہر ملک پر مختلف ہوتے ہیں۔انکا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت دونوں پر یہ ٹیرف مختلف شرح سے لاگو ہوئے ہیں۔ امریکا ایک وسیع و عریض منڈی ہے جس کی طلب کو کوئی ایک ملک یا چند ممالک بھی مکمل طور پر پورا نہیں کر سکتے۔ جنوبی ایشیائی ممالک، خصوصا پاکستان اور بھارت، اس طلب کو پورا کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔