کچھ عناصر ریڈ زون کو یرغمال بنانے پر بضد ہیں‘: بلوچستان حکومت کا بی این پی لانگ مارچ کیخلاف کارروائی کا عندیہ WhatsAppFacebookTwitter 0 5 April, 2025 سب نیوز

کوئٹہ (آئی پی ایس) بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے کہا ہے کہ بی این پی (مینگل) کے مجوزہ لانگ مارچ کے حوالے سے سیکیورٹی خدشات موجود ہیں، جنہیں چند حالیہ واقعات نے مزید تقویت دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مارچ کے دوران قیادت کی جانب سے کی گئی تقریر پر بھی حکومت کو تشویش ہے، جس کا جائزہ لیا گیا ہے اور اب قانونی راستہ اپنایا جائے گا۔

شاہد رند نے ہفتے کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہ کہ حکومت نے اب تک صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، اور مارچ کے شرکا سے دو مرتبہ مذاکرات ہوچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے انہیں شاہوانی اسٹیڈیم، سریاب روڈ تک آنے کی اجازت دی، لیکن وہ اس پر آمادہ نہیں ہوئے۔ ترجمان کے مطابق صوبے میں اس وقت بھی دفعہ 144 نافذ ہے، اور اس کی خلاف ورزی کی صورت میں قانون اپنا راستہ لے گا۔

شاہد رند کا کہنا تھا کہ بی این پی (مینگل) کے کچھ عناصر ریڈ زون کو یرغمال بنانے پر بضد ہیں، مگر حکومت قانون کے مطابق انہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم امید کرتے ہیں مسئلہ مذاکرات سے حل ہوگا، لیکن اگر وہ ضد پر قائم رہے تو حکومت کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔

ادھر سردار اختر مینگل کی جماعت بی این پی (ایم) نے 6 اپریل کو کوئٹہ کی جانب لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کر رکھا ہے، اور کارکنان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 5 اپریل تک مستونگ کے علاقے لک پاس پہنچ جائیں۔ پارٹی بی وائی سی کے تمام رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کر رہی ہے۔

لانگ مارچ میں بی این پی (ایم) کو دیگر اپوزیشن جماعتوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ نیشنل پارٹی، پی ٹی آئی، اے این پی اور دیگر سیاسی جماعتوں نے مارچ میں شرکت کا اعلان کیا ہے، جس سے مارچ کو ایک بڑا سیاسی اجتماع تصور کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب حکومت نے مارچ کے شرکاء کو کوئٹہ میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے اقدامات سخت کر دیے ہیں۔ داخلی راستوں پر کنٹینرز کھڑے کر دیے گئے ہیں، سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے، اور اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔

تاہم، نجی ٹی وی کے مطابق سیاسی اور قبائلی حلقوں کے ذریعے پسِ پردہ مذاکراتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے عید تعطیلات کے دوران اپوزیشن رہنماؤں، جیسے ڈاکٹر مالک بلوچ اور مولانا عبدالواسع سے ملاقاتیں کی ہیں۔

سرفراز بگٹی نے بلوچستان اسمبلی میں یہ تجویز بھی پیش کی تھی کہ اگر اپوزیشن چاہے تو حکومت اس مسئلے کے حل کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے سکتی ہے، جس کی صدارت ڈاکٹر مالک یا اپوزیشن لیڈر یونس عزیز زہری کو دی جا سکتی ہے۔

.

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: لانگ مارچ بی این پی

پڑھیں:

اختر مینگل کا چھ اپریل کو مستونگ سے کوئٹہ لانگ مارچ کا اعلان

مستونگ میں دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے اختر مینگل نے کہا کہ ہم کسی شخص کے پابند نہیں ہیں، جہاں ضرورت ہوگی، اسی مقام پر احتجاج کرینگے۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر جان مینگل نے چھ اپریل کو مستونگ سے کوئٹہ کی طرف لانگ مارچ کرتے ہوئے اپنا احتجاج کوئٹہ منتقل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان انہوں نے آج مستونگ میں جاری دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اختر مینگل نے کہا کہ چھ اپریل صبح 10 بجے مستونگ سے کوئٹہ کی جانب روانگی ہوگی۔ جہاں ضروری ہوا، وہیں احتجاج ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی شخص کے پابند نہیں ہیں اور ناانصافی برداشت نہیں کریں گے۔ خواتین کی بازیابی تک دھرنا جاری رہے گا۔ پارٹی ورکرز اور بلوچ قوم تیار رہیں اور چھ اپریل کے لئے اپنی کمر کس لیں۔ اختر مینگل نے کہا کہ مستونگ کے بیابان میں حکومت ہماری بات نہیں سن رہی ہے۔ دوسری جانب حکومت بلوچستان نے کوئٹہ و گردونواع میں انٹرنیٹ سروسز بند کر دی ہیں۔ حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ صوبے میں امن و امان قائم رکھنے اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظر انٹرنیٹ سروسز معطل کئے گئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف وزیراعظم اور آرمی چیف کو اعتماد میں لیکر ڈائیلاگ کا آغاز کروائے، سلیمان خلجی
  • ریڈ زون میں کسی کو احتجاج کی اجازت نہیں دی جائے گی،ترجمان بلوچستان حکومت
  • لانگ مارچ کا اعلان، گہرام بگٹی کو 3 ایم پی او کے تحت گرفتار کر لیا گیا
  • بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کا دھرنا ساتویں روز بھی جاری
  • اختر مینگل کے بعد جمہوری وطن پارٹی نے بھی لانگ مارچ کا اعلان کر دیا
  • اختر مینگل کا چھ اپریل کو مستونگ سے کوئٹہ لانگ مارچ کا اعلان
  • حکومت کودی گئی ڈیڈ لائن ختم، اخترمینگل کا مستونگ سے کوئٹہ کیجانب لانگ مارچ کا اعلان
  • ترجمان بلوچستان حکومت کی اپوزیشن کو پیشکش
  • بلوچستان میں احتجاج جاری، اختر مینگل کا آج احتجاج کے اگلے مرحلے کا اعلان کرنے کا عندیہ