مذاکرات کی باتیں پی ٹی آئی کی خود کلامی ہے، طلال چودھری
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرت کی باتیں خود کلامی ہے، ان سے کوئی بات نہیں کر رہا، یہ اپنے آپ سے باتیں کر رہے ہیں۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نافرمان اولاد کو ایک مرتبہ عاق کر دیا جائے تو کئی دفعہ اس سے تعلقات بحال نہیں ہوتے، مذاکرات اسی پارلیمنٹ میں ہوں گے جہاں سے یہ مذاکرات توڑ کر نکلے تھے۔
انہوں نے کہا کہ این ایف سی میں وفاق نے خیبر پختونخوا کو اس کے حصے سے زیادہ پیسے دیے ہیں، وزیراعلی گنڈاپور کے پی حکومت کے گزشتہ 13 سال کا حساب دیں۔
طلال چودھری کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے لوگوں نے صحیح الزام لگایا کہ ان کے اپنے لوگ اربوں روپے کھا گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی بہت سارے لوگوں سے ملنا نہیں چاہتے، جن سے ملنا چاہتے ہیں ان سے صبح 7 بجے یا شام 7 بجے بھی مل لیتے ہیں۔
وزیر مملکت برائے داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ پالیسی پی ٹی آئی کی نہیں پاکستان کی چلے گی۔
Post Views: 2.ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی نے کہا
پڑھیں:
کچھ باتیں کتاب "معنوی آزادی" کے بارے میں
اسلام ٹائمز: انکی کتاب میں قرآن و حدیث کے اقتباسات کے علاوہ داستان، شعر، مشرق و مغرب کے دانشمندوں کے نظریات اور ان پر تنقیدی جائزہ سب کچھ ملتا ہے، جو ملالت کا احساس نہیں ہونے دیتا۔ انکی کتابیں محض علمی گھتیاں سلجھانے کیلئے نہیں ہوتیں، بلکہ انکی کوشش ہوتی ہے کہ سماجی مسائل و مشکلات کو علمی انداز سے حل کیا جائے۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی انکی کتاب "معنوی آزادی" ہے۔ دراصل یہ انکی تقاریر کا مجموعہ ہے، جسکو بعد میں کتابی شکل دی گئی ہے۔ جناب سجاد حسین مہدوی اور سید سعید حیدر زیدی صاحب نے اسکا اردو ترجمہ کرنے کی کاوش انجام دی ہے اور دارالثقلین نامی ادارے نے اس کو زیور طباعت سے آراستہ کیا ہے۔ اس کتاب میں انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی کی ایک اہم مشکل کو موضوع سخن قرار دیا گیا ہے۔ تالیف: شہید آیت اللہ مرتضیٰ مطہری
خلاصہ: کاشف رضا
شہید آیت اللہ مرتضیٰ مطہری مذہبی اور انسانی علوم کے اندر کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ وہ قدیم و جدید علوم کے اندر خاص تبحر رکھتے تھے، جن کا اعتراف مشرق و مغرب کے دانشمند کرتے ہیں۔ علم کلام ہو، منطق و فلسفہ ہو، عرفان و معنویت کی ابحاث ہوں یا فقہ و معارف کی گھتیاں، ہر میدان میں وہ مرد قلندر ثابت ہوئے ہیں، جس کی گواہی ان کی کتابیں دیتی ہیں۔ ان کی تقریر ہو یا تصنیف، ہر دو صورت میں ان کا مخاطب کبھی احساس خستگی کا شکار نہیں ہوتا۔ وہ خشک سے خشک تر موضوع کو بھی اس انداز و پیرائے میں بیان کرتے ہیں کہ ہر سن و سال کا شخص بغیر کسی تفریق مذہب و قوم ان کے بیان کردہ معارف سے مستفید ہوتا ہے۔ ان کی کتابوں میں علمی ابحاث خشک رسوماتی انداز میں بیان نہیں ہوتیں، وہ اپنی ابحاث کو فکری سوال میں بدل دینے کے ماہر ہیں اور جواب میں ایک ہی موضوع کی کئی مختلف زاویوں سے جراحی کر دیتے ہیں۔
ان کی کتاب میں قرآن و حدیث کے اقتباسات کے علاوہ داستان، شعر، مشرق و مغرب کے دانشمندوں کے نظریات اور ان پر تنقیدی جائزہ سب کچھ ملتا ہے، جو ملالت کا احساس نہیں ہونے دیتا۔ ان کی کتابیں محض علمی گھتیاں سلجھانے کے لئے نہیں ہوتیں، بلکہ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ سماجی مسائل و مشکلات کو علمی انداز سے حل کیا جائے۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی ان کی کتاب "معنوی آزادی" ہے۔ دراصل یہ ان کی تقاریر کا مجموعہ ہے، جس کو بعد میں کتابی شکل دی گئی ہے۔ جناب سجاد حسین مہدوی اور سید سعید حیدر زیدی صاحب نے اس کا اردو ترجمہ کرنے کی کاوش انجام دی ہے اور دارالثقلین نامی ادارے نے اس کو زیور طباعت سے آراستہ کیا ہے۔ اس کتاب میں انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی کی ایک اہم مشکل کو موضوع سخن قرار دیا گیا ہے۔ آج کی دنیا جہاں مادیت اپنے عروج کو چھو رہی ہے، ہر انسان زیادہ سے زیادہ مادیت جمع کرنے میں لگا ہوا ہے، لیکن اس کے باوجود اپنے اندر ایک کھوکھلا پن محسوس کرتا ہے۔
وہ اس وجہ سے ہے کہ انسان نے مادی اور ظاہری آزادی کے لئے تو جنگیں لڑی ہیں، قتل و کشتار کا بازار گرم کیا ہے، لیکن معنوی اور روحانی آزادی کو سرے سے ہی فراموش کر دیا ہے۔ اس کتاب میں شہید مطہری نے آزادی کی اقسام بیان کرتے ہوئے سماجی و معنوی آزادی پر روشنی ڈالی ہے اور قرآن میں ان کے آپسی تعلق کو خوبصورتی سے بیان کرتے ہوئے انسانی ضمیر کے کردار کو بھی اجاگر کیا ہے۔ انسانی اور حیوانی انانیت کے فرق کو واضح کیا ہے۔ بزرگ روحوں اور بزرگوار روحوں کا تقابل کرنے کے لئے نہج البلاغہ اور حضرت امام حسین کے کلام سے اقتباس کیا ہے۔ بحث کے تسلسل میں قرآنی عقیدے "غیب پر ایمان" کی وضاحت کی ہے۔ غیبی امداد کے قاعدے کو بیان کیا ہے۔ اس کتاب میں ایک اہم بحث "معیار انسانیت" کی ہے، جس کے ذیل میں انسان کامل و انسان ناقص کو بیان کیا گیا ہے۔ معیار انسانیت کے بارے میں پائے جانے والے مختلف نظریات، جیسے کہ "علم، اخلاق و عادات، انسان دوستی، ارادہ، آزادی، فریضہ کی ادائیگی اور زیبائی" پر نقد و تنقید کی گئی ہے۔
کتاب کے آخری حصے میں "مکتب انسانیت" کے بارے میں سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے، جس کے اندر انسان و حیوان کے درمیان بنیادی فرق پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ انسان کی اصالت پر مبنی مکاتب کے اندر موجود تضاد کو واضح کرتے ہوئے آگوست کانٹ کے "دین انسانیت" کا علمی بنیادوں پر تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے۔ جس میں شہید نے انسانی زوال کی صدیوں پر محیط تاریخ کو مختصر مگر مفید انداز میں بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسان جس نے خود کو اس کائنات میں عظیم اور بلند مقام پر فرض کیا ہوا تھا، وہ خود کو اور زمین کو کائنات کا مرکز و محور گردانتا تھا، وہ تقریباً نیم خدائی کی منزل پر فائز تھا، لیکن پچھلی دو تین صدیوں میں شکوک و شبہات نے پے در پے اس خیال پر کاری ضربیں لگانا شروع کردیں۔
پہلی ضرب یہ تھی کہ زمین نظام شمسی اور کائنات کا مرکز و محور نہیں ہے، لہذا انسان بھی مقصد تخلیق کائنات نہیں۔ دوسری ضرب یہ تھی کہ جو انسان خود کو آسمانی مخلوق سمجھتا تھا، خلیفۃ اللہ اور نفخہ الاہی کا گمان کرتا تھا، نظریہ انواع و ارتقاء کے حیاتیاتی پہلو نے اس کی عمارت کو بھی خدشہ دار کر دیا۔ آخری ضرب یہ لگائی گئی کہ انسانی اقدار، عشق و عقلانیت ان سب کا منشا انسان کے اندر کوئی خدائی یا آسمانی پہلو نہیں بلکہ انسان کا شکم ہے۔ انسان اور باقی حیوانات حتیٰ نباتات میں سوائے ظاہری امتیازات کے کوئی فرق نہیں، انسان بھی ایک مشین مانند چیز ہے، البتہ اس کی پیچیدگیاں باقی مشینوں سے زیادہ ہیں۔ ان سب شبہات کے جواب میں شہید اسلام و قرآن کے اصالت انسانیت و اقدار اور ان کے معیار کو بیان کرتے ہیں۔