ہم اس ادارے کا حصہ نہیں بن سکتے جو فلسطین کی موجودہ صورتِحال پر محض تماشائی بنا رہے: پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مسقتل مندوب عاصم افتخار—تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مسقتل مندوب عاصم افتخار نے کہا ہے کہ فلسطینیوں کو ریلیف نہ دے پانا سلامتی کونسل پر سوالیہ نشان ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب میں کہا ہے کہ سلامتی کونسل فلسطین کے مقبوضہ علاقوں پر اسرائیلی بم باری کی وجہ سے فلسطینی عوام کو بھوک اور نقل مکانی کی اجتماعی سزا کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
الجزائر کی جانب سے پاکستان، چین، روس اور صومالیہ کی حمایت سے غزہ میں اجتماعی قبر سے امدادی کارکنوں کی 15 لاشوں کی دریافت پر بلائے گئے اجلاس میں عاصم افتخار نے کا کہ ہم اس ادارے کا حصہ نہیں بن سکتے جو فلسطین کی موجودہ صورتِحال پر محض تماشائی بنا رہے اور کچھ نہ کرے۔
عالمی برادری یو این چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کے دفاع کے لیے متحد ہو: پاکستانی مندوب
انہوں نے کہا ہے کہ ہم اخلاقی دیوالیہ پن اور انسانیت کے خاتمے کا حصہ نہیں بنیں گے۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مسقتل مندوب نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، جنگ بندی معاہدے، بین الاقوامی قوانین، اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور جنیوا کنونشن سمیت تمام مہذب طرزِ عمل کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
.ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: متحدہ میں پاکستان کے سلامتی کونسل عاصم افتخار
پڑھیں:
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں فلسطین پر پاکستان کی قرارداد کثرت رائے سے منظور
GENEVA:اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر بلال احمد کی جانب سے پیش کردہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی گئی، جس کا عنوان ”مشرقی بیت المقدس سمیت مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی صورتحال، احتساب اور انصاف کو یقینی بنانے کی ذمہ داری” ہے۔
اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق جنیوا میں پاکستانی مشن کی طرف سے سماجی رابطے کی وبی سائٹ پر جاری بیان میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے او آئی سی قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی یہ قرار داد پاکستانی سفیر ڈاکٹر بلال احمد کی جانب سے پیش کی گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ قرارداد کا عنوان ”مشرقی بیت المقدس سمیت مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی صورت حال، احتساب اور انصاف کو یقینی بنانے کی ذمہ داری” ہے، قرارداد میں غزہ میں نسل کشی پر اکسانے کی روک تھام اور سزا وار ٹھہرانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
قرارداد میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کے قبضے کے غیر قانونی ہونے کے بارے میں عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) کے فیصلے پر توجہ مرکوز کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
پاکستانی سفیر کی پیش کردہ قرارداد میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے غیر قانونی اقدامات کی بھی مذمت کی گئی، جس میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف جنسی تشدد کے واقعات شامل ہیں۔
قرارداد میں مقبوضہ فلسطینی حدود میں بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کے لیے استثنیٰ کو ختم کرنے اور احتساب کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔