مودی سرکار کی جانب سے متنازع وقف ترمیمی بل کی منظوری کے بعد مختلف شہروں میں مسلمانوں کا احتجاج جاری ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق لوک سبھا کے بعد راجیہ سبھا نے بھی مسلمان مخالف وقف ترمیمی بل منظور کرلیا۔ دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد بل اب بھارتی صدر کے پاس جائے گا اور صدر کی منظوری کے بعد باقاعدہ قانون بن جائے گا۔

مزید پڑھیں: بھارت میں متنازع وقف ترمیمی بل منظوری کے بعد اپوزیشن اور مسلم تنظیموں کا شدید احتجاج

بھارت کے مختلف شہروں میں متنازع بل کے خلاف  بڑی تعداد میں مسلمانوں کا احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین نے وقف ترمیمی بل کو مسلمانوں کے خلاف سازش قرار دیا۔ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے کہا کہ وقف ترمیمی بل کا مقصد مسلمانوں کو پسماندہ کرنا اور ان کے جائیداد کے حقوق غصب کرنا ہے۔ مودی سرکار کی مسلم مخالف پالیسیوں کا تسلسل بھارت میں جاری ہے جن کی بدولت مسلمانوں کا استحصال کیا جا رہا ہے۔

.

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: منظوری کے بعد مسلمانوں کا

پڑھیں:

بھارت: متنازع وقف بل منظور، اب صرف صدر کی توثیق باقی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 04 اپریل 2025ء) وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست حکومت کی طرف سے مسلم اوقاف سے متعلق قوانین میں ترمیم کے لیے پیش کیا گیا متنازع بل بھارتی پارلیمان کے دونوں ایوانوں، لوک سبھا اور راجیہ سبھا نے منظور کر لیا۔ جب کہ مسلم گروپوں اور حزب اختلاف کی جماعتوں نے اس اقدام پر احتجاج کیا۔ بل اب صدر دروپدی مرمو کی توثیق کے لیے بھیجا جائے گا اور ان کے دستخط کے ساتھ ہی یہ قانون بن جائے گا۔

بھارت: مخالفت کے باوجود متنازع 'وقف بل‘ لوک سبھا میں منظور

وزیر اعظم نریندر مودی نے وقف (ترمیمی) بل 2025 کی منظوری کی ستائش کی اور اسے ایک "اہم لمحہ" قرار دیا۔

وسیع بحث کے بعد پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے متنازعہ قانون سازی کو منظوری دے دی، راجیہ سبھا نے 13 گھنٹے کی بحث کے بعد جمعرات کو دیر رات اسے پاس کیا۔

(جاری ہے)

اس بل کے حق میں 128 اور مخالفت میں 95 ووٹ ملے، جب کہ لوک سبھا نے ایک دن پہلے ہی اسے 288 حمایتی اور 232 مخالف ووٹوں کے ساتھ منظور کیا تھا۔

بھارت میں متنازع وقف ترمیمی بل پارلیمنٹ میں پیش، بحث جاری

وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں اس بات پر زور دیا کہ اس قانون سے خاص طور پر سماج کے پسماندہ طبقات کو فائدہ پہنچے گا۔

"پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے وقف (ترمیمی) بل کی منظوری سماجی و اقتصادی انصاف، شفافیت اور جامع ترقی کی ہماری اجتماعی جدوجہد میں ایک اہم لمحہ ہے۔ اس سے خاص طور پر ان لوگوں کا فائدہ ہو گا جو طویل عرصے سے حاشیے پر ہیں، جنہیں اپنی آواز بلند کرنے اور موقع دونوں سے محروم رکھا گیا۔"

انہوں نے مزید کہا، "اب ہم ایک ایسے دور میں داخل ہوں گے جہاں فریم ورک سماجی انصاف کے لیے زیادہ جدید اور حساس ہو گا۔

ہم ہر شہری کے وقار کو ترجیح دینے کے لیے پرعزم ہیں۔ اس طرح ہم ایک مضبوط، زیادہ جامع اور زیادہ ہمدرد بھارت کی تعمیر کریں گے۔"

وزیر اعظم مودی کا کہنا تھا، "کئی دہائیوں سے، وقف کا نظام شفافیت اور جوابدہی کی کمی کا مترادف تھا۔ اس نے خاص طور پر مسلم خواتین، غریب اور پسماندہ مسلمانوں کے مفادات کو نقصان پہنچایا۔ پارلیمنٹ کے ذریعہ منظور کردہ قانون شفافیت کو فروغ دیں گے اور لوگوں کے حقوق کا بھی تحفظ کریں گے۔

" بل کی سخت مخالفت

اس بل کو اپوزیشن انڈیا بلاک کی جماعتوں کی طرف سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، جنہوں نے اسے "مسلم مخالف" اور "غیر آئینی" قرار دیا۔

متعدد اراکین پارلیمان اور مسلم رہنماؤں نے اس بل کی منظوری کو 'سیاہ دن، افسوس ناک اور مایوس کن' قرار دیا۔ بیشتر مسلم گروپوں کے ساتھ ساتھ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ یہ بل تفریقی، سیاسی طور پر محرک اور مودی کی حکمراں جماعت کی طرف سے اقلیتوں کے حقوق کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔

ان کا الزام ہے کہ اس قانون کو کارپوریٹ مفادات کے لیے مسلمانوں کی جائیدادوں پر قبضے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

بل میں سب سے متنازع باتیں کیا ہیں؟

اس میں یہ تجویز بھی ہے کہ غیر مسلم ممبران کو مرکزی اور ریاستی وقف بورڈ میں شمولیت کے لیے شامل کیا جائے۔

اس مجوزہ قانون سے وقف بورڈوں میں اب غیرمسلموں کی شمولیت کا راستہ کھل جائے گا اور وقف اراضی پر حکومت کے دعوؤں کو تسلیم کرانا آسان ہو جائے گا۔

حکومت کی دلیل ہے کہ ان تبدیلیوں سے تنوع کو فروغ دیتے ہوئے بدعنوانی اور بدانتظامی سے لڑنے میں مدد ملے گی۔ لیکن ناقدین کو خدشہ ہے کہ اس سے ملک کی مسلم اقلیت کے حقوق مزید مجروح ہوں گے اور اسے تاریخی مساجد اور دیگر املاک کو ضبط کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اپوزیشن کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے نے کہا کہ جب ہندو مندروں کے ٹرسٹ دوسرے مذاہب کے لوگوں کو اپنے ٹرسٹ میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دیتے ہیں تو وقف اداروں کو غیر مسلموں کو ممبر بنانے کی اجازت کیوں دی جائے؟

اس بل کے باعث ہونے والی سب سے زیادہ متنازعہ تبدیلیوں میں سے ایک ملکیت کے قوانین ہیں، جو تاریخی مساجد، مزارات اور قبرستانوں وغیرہ کو متاثر کر سکتی ہے۔

ملک میں ایسی بہت سی وقف جائیدادیں ہیں جن کے پاس ملکیت کے رسمی دستاویزات نہیں ہیں، کیونکہ وہ کئی دہائیوں اور صدیوں پہلے قانونی ریکارڈ کے بغیر عطیہ کی گئی تھیں۔

بنیاد پرست ہندو گروپوں نے ملک کی متعدد مساجد پر دعویٰ کر رکھا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ اہم ہندو مندروں کے کھنڈرات پر تعمیر کی گئی ہیں۔ ایسے کئی کیس عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔

مجوزہ قانون کے تحت وقف بورڈ کو ضلعی سطح کے افسر سے جائیداد کے بارے میں وقف کے دعوؤں کی تصدیق کے لیے منظوری لینے کی ضرورت ہو گی اور یہ افسر لازمی طور پر ہندو ہو گا۔

کانگریس کے رہنما راہول گاندھی کے مطابق "وقف (ترمیمی) بل ایک ہتھیار ہے جس کا مقصد مسلمانوں کو پسماندہ کرنا اور ان کے ذاتی قوانین اور جائیداد کے حقوق غصب کرنا ہے۔

"

حالانکہ پارلیمانی بحث کے دوران وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ وقف بورڈ میں غیر مسلموں کو صرف انتظامیہ کے مقاصد اور اوقاف کو آسانی سے چلانے میں مدد کے لیے شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ وہاں مذہبی معاملات میں مداخلت کے لیے نہیں ہیں۔

سکیورٹی سخت

مودی کی حکومت کا کہنا ہے کہ بھارت مساوات کے جمہوری اصولوں پر چل رہا ہے اور ملک میں کسی کے ساتھ کوئی تفریق نہیں ہے۔

مسلمان، جو کہ بھارت کی 1.4 بلین آبادی کا 14 فیصد ہیں، ہندو اکثریتی ملک میں سب سے بڑا اقلیتی گروہ ہیں لیکن 2013 کے ایک سرکاری سروے کے مطابق وہ سب سے غریب بھی ہیں۔

دریں اثنا وقف بل کی منظوری کے بعد ملک کے بیشتر حصوں میں سکیورٹی سخت کردی گئی ہے۔ بالخصوص اترپردیش اور دہلی کے مختلف علاقوں میں نیم فوجی دستے گشت کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ مسلم تنظیموں نے اس بل کے خلاف ملک گیر مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے وہ اس 'غیر آئینی' بل کے خلاف اپنے تمام آئینی اور جمہوری حقوق کا استعمال کری‍ں گے۔

متعلقہ مضامین

  • وقف ترمیمی بل کی منظوری کیخلاف بھارت بھر میں احتجاج
  • وقف ترمیمی بل کے خلاف بھارتی مسلمان نے سڑکوں پر اتر کر احتجاج کیا
  • بھارت: متنازع وقف بل منظور، اب صرف صدر کی توثیق باقی
  • بھارتی راجیہ سبھا سے بھی متنازع وقف ترمیمی بل منظور، شیوسینا کی مودی پر سخت تنقید
  • بھارت میں متنازع وقف ترمیمی بل منظوری کے بعد اپوزیشن اور مسلم تنظیموں کا شدید احتجاج
  • دریائے سندھ سے نہریں نکالنے کے منصوبے کے خلاف سندھ کے مختلف شہروں میں احتجاج
  • بھارت: اسد الدین اویسی نے احتجاجاً متنازع وقف ترمیمی بل پھاڑ دیا
  • بھارتی لوک سبھا میں مسلمانوں کی وقف جائیدادوں سے متعلق متنازع ترمیمی بل منظور
  • مسلمانوں کی وقف جائیدادوں پر قبضے کی سازش، بھارت میں متنازع وقف قانون منظور