امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو براہِ راست مذاکرات کی پیشکش کر دی
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو براہِ راست مذاکرات کی پیشکش کر دی WhatsAppFacebookTwitter 0 5 April, 2025 سب نیوز
واشنگٹن: (آئی پی ایس) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو براہِ راست مذاکرات کی پیشکش کر دی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ایران سے براہِ راست بات چیت بہتر ہوگی کیونکہ یہ تیز تر عمل ہے اور اس سے دوسرے فریق کو بہتر سمجھنے کا موقع ملتا ہے بہ نسبت اس کے کہ کسی مصالحت کار کے ذریعے بات کی جائے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران پہلے مصالحت کاروں کو استعمال کرنا چاہتا تھا، مگر شاید اب ایسا نہیں ہے، صدر ٹرمپ نے کہاکہ امکان ہے کہ ایران براہ راست بات چیت پر آمادہ ہوجائے گا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل ایران نے براہ راست مذاکرات کا امکان مسترد کردیا تھا، تاہم بالواسطہ بات چیت پر آمادگی ظاہر کی تھی، مارچ کے آغاز میں صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے جوہری معاہدے پر مذاکرات کے لئے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ایک خط بھیجا ہے، ایران سے دو طریقوں سے نمٹا جا سکتا ہے پہلا عسکری راستہ اور دوسرا معاہدہ کرنا۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا تھا کہ وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ ایران کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے، ان کے مطابق، ایرانی عوام بہت اچھے لوگ ہیں۔ تاہم صدر ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دیتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ اگر جوہری معاہدہ نہ کیا گیا تو ایران کو سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔
.ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ٹرمپ نے ایران کو راست مذاکرات امریکی صدر
پڑھیں:
اگر ایران امریکا جوہری مذاکرات ناکام ہوئے تو فوجی تصادم ہوگا، فرانس کا دعویٰ
پیرس: فرانس کے وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات ناکام ہو گئے تو خطے میں فوجی تصادم تقریباً ناگزیر ہو جائے گا۔
پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے بارو نے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے نتیجے میں پورے مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ایران کے معاملے پر ایک اہم اجلاس کی صدارت کی، جس میں ایران کے جوہری پروگرام اور ممکنہ اقدامات پر غور کیا گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش جاری رکھے گا تو امریکہ اس پر بمباری کرے گا۔ دوسری جانب، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو وہ بھی بھرپور جوابی کارروائی کرے گا۔
بارو نے کہا کہ فرانس کا مؤقف واضح ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہماری اولین ترجیح ایک ایسے معاہدے پر پہنچنا ہے جو ایران کے جوہری پروگرام کو مستقل اور قابل تصدیق طریقے سے محدود کرے۔"
فرانسیسی وزیر خارجہ کے اس بیان کے دوران، امریکی صدر ٹرمپ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد ایران پر دوبارہ "زیادہ سے زیادہ دباؤ" (Maximum Pressure) کی پالیسی نافذ کر دی ہے، جس میں اقتصادی پابندیاں اور دیگر سخت اقدامات شامل ہیں۔