چاہتے ہیں حکومت بجلی کی خرید و فروخت میں پڑے ہی نہیں، وفاقی وزیر توانائی
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ ڈسکوز کی نجکاری اور گردشی قرضے کے خاتمے کی جانب بڑھ رہے ہیں، چاہتے ہیں حکومت بجلی کی خرید و فروخت میں پڑے ہی نہیں۔
نجی ٹی وی شو میں گفتگو کرتے ہوئے اویس لغاری کا کہنا تھا کہ نیپرا ایکٹ میں بہتری کی ضرورت ہے، حکومت اب بجلی خریداری کے لیے اکیلا ادارہ نہیں رہے گا، بجلی کی خریداری اور فروخت میں نجی شعبے کو لا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: بجلی کی قیمتوں میں بڑی کمی، کیا یہ ریلیف عارضی ہے؟
انہوں نے کہا کہ ملک میں بجلی ترسیل کے مسائل ہیں، یہ مسائل حل کر کے بجلی مزید 2 روپے سستی ہوسکتی ہے، گردشی قرض میں 339 ارب روپے کی بہتری لائے ہیں، بجلی تقسیم کار کمپنیز کے نقصانات کم کرکے 145 ارب روپے کی بہتری لائے ہیں۔
وزیر توانائی نے کہا کہ سی پیک پاور پلانٹس کو مقامی کوئلے پر منتقل کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں، سی پیک پاور پلانٹس کے ساتھ ڈیٹ ری پروپائلنگ کر رہے ہیں، ٹرانسمیشن میں مسائل کی وجہ سے بجلی فی یونٹ ایک سے 2 روپے مہنگی مل رہی ہے۔
مزید پڑھیں: بجلی کی قیمت میں تبدیلی کے بعد بلوں میں کتنی کمی ہوگی؟
اویس لغاری کا کہنا تھا کہ درآمدی کوئلے کے پلانٹس مقامی کوئلے پر منتقل کرینگے، یہ فیصلہ انرجی سیکیورٹی کو مد نظر رکھ کر کر رہے ہیں، جون تک یہ سٹڈی مکمل ہوجائے گی، اس فیصلے کے بعد فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کم ہوگی۔ جام شورو سمیت تین مزید پاور پلانٹس کو مقامی کوئلے پر جبکہ ملک بھر کے تمام بجلی میٹرز کو آٹومیٹک پر منتقل کریں گے، جون تک اس فیصلے کو حتمی شکل دیدیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اویس لغاری بجلی وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری.ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اویس لغاری بجلی وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری وزیر توانائی اویس لغاری رہے ہیں بجلی کی
پڑھیں:
وزیر توانائی نے عوام کو ایک اور ریلیف کی خوشخبری سنادی
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے بجلی کی قیمت میں مزید کمی کی خوشخبری سناتے ہوئے کہا ہے کہ جن کمپنیوں سے معاہدے ہوئے تھے ان سے ابھی بات چیت جاری ہے۔ جس کے بعد عوام کو ایک بار پھر ریلیف دیا جائے گا۔
وفاقی دارالحکومت میں میڈیا نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن اویس لغاری نے بجلی کے شعبے سے متعلق کئی اہم اقدامات اور چیلنجز پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے بتایا کہ 36 آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات سے 3,696 ارب روپے کی بچت ہوئی ہے، جو آنے والے سالوں میں صارفین کے لیے بڑے ریلیف کا باعث بنے گی۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کے شعبے کا سب سے بڑا چیلنج پیداواری لاگت ہے، جس میں ٹیرف میں اضافے اور 2,400 ارب روپے کے گردشی قرضے نے مشکلات بڑھا دی ہیں۔ اسی طرح ڈسکوز کی ناقص کارکردگی اور کوآرڈینیشن کی کمی بھی بڑا مسئلہ ہے جب کہ بجلی کی طلب میں مسلسل کمی بھی شعبے کے لیے بڑا چیلنج ہے۔
وفاقی وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ ٹرانسمشن لائنز کے نقصانات کی وجہ سے بجلی کی قیمت میں 1 سے 2 روپے کا اضافہ ہوتا ہے۔ ان نقصانات کو کم کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 1.89 کروڑ صارفین (جو 100 یونٹس تک استعمال کرتے ہیں) کے لیے بجلی کی قیمت میں 6 روپے 14 پیسے کمی کی گئی ہے جبکہ مجموعی طور پر ان کے نرخوں میں 56 تک کمی کی گئی ہے۔
اویس لغاری نے کہا کہ 6 سال کے اندر گردشی قرضے کو ختم کر دیا جائے گا اور آئندہ سالوں میں اسے زیرو پر لایا جائے گا۔ تمام بجلی کے میٹرز کو آٹومیٹڈ سسٹم سے تبدیل کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح آئیسکو، فیسکو اور گیپکو کی نجکاری کا عمل جاری ہے، جبکہ دوسرے مرحلے میں لیسکو، میپکو اور ہزیکو کی نجکاری کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ 27,000 ٹیوب ویلز کو 7 ماہ میں سولر انرجی پر منتقل کر دیا جائے گا۔
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا کہنا تھا کہ سی پیک کے تحت چائنیز پلانٹس میں کوئلے سے بجلی کی پیداوار پر توجہ دی جائے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جولائی سے دسمبر تک ڈسکوز کے نقصانات کا ہدف 303 ارب روپے تھا، لیکن 145 ارب روپے کی بچت کرتے ہوئے نقصانات 158 ارب روپے تک محدود رہے۔گردشی قرضے کے شعبے میں 9 ارب روپے کی بچت کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم مہنگی بجلی خریدنے کے بجائے مستقبل کے لیے پائیدار حل تلاش کر رہے ہیں۔ 10 سالہ الیکٹرک پالیسی کے تحت بجلی کے شعبے کو مستحکم کرنے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
اویس لغاری نے مزید کہا کہ بجلی کے بنیادی ٹیرف میں کمی یا اضافے کا ابھی سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔ بجلی کے بنیادی ٹیرف میں جون تک کیا صورتحال ہوگی دیکھنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ بذریعہ ریگولیٹر ہی تمام امور انجام دئیے جاتے ہیں کام حکومت کرتی ہے۔ 7 روپے 41 پیسے کا جو ریلیف دیا گیا ہے، یہ بنیادی ٹیرف میں بھی شامل ہے۔ بنیادی ٹیرف کے بارے میں فل الحال کوئی پیشنگوئی نہیں کرسکتا۔
مزیدپڑھیں:دنیا کی امیر ترین خاتون کون ہیں؟