کراچی‘ اسلام آباد‘ ڈی آئی خان (نوائے وقت رپورٹ) سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران سابق وزیراعظم نے مولانا فضل الرحمان کو عید کی مبارکباد دی اور ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ سابق وزیراعظم اور عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ شاہد خاقان عباسی نے ملک کو درپیش بحرانوں کے خاتمے کے لیے قومی سوچ اور سیاسی ہم آہنگی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت اپوزیشن کسی احتجاجی تحریک کا حصہ نہیں بن رہی ہے بلکہ ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے ڈیرہ اسماعیل خان میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے ساتھ بات چیت خیبرپختونخوا حکومت کا اختیار نہیں بلکہ یہ ریاستی سطح کا معاملہ ہے۔ بین الاقوامی تعلقات ہمیشہ ریاست کی سطح پر طے پاتے ہیں، صوبائی حکومت کی براہ راست مداخلت سے مسئلے کے حل کے بجائے پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ بجلی کی قیمت میں حالیہ کمی حکومت کی کسی کارکردگی کا نتیجہ نہیں بلکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عالمی سطح پر کمی کے باعث ممکن ہوئی ہے۔ شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ بلوچ عوام کے جائز مطالبات تسلیم کیے جائیں، انہیں وسائل پر اختیار، عزت اور نمائندگی دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں انتخابات میں شفافیت نہ ہو، وہاں سیاسی بے چینی اور نفاق جنم لیتے ہیں، نیب کے تمام کیسز جھوٹے اور سیاسی نوعیت کے ہوتے ہیں اور یہ ادارہ محض سیاسی انتقام کا ذریعہ بن چکا ہے۔

.

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: شاہد خاقان عباسی

پڑھیں:

حکومت مخالف تحریک کے امکانات

پی ٹی آئی سمیت حکومت مخالف جماعتوں کا دعویٰ ہے کہ عید کے بعد ان کا ایک مشترکہ گرینڈ الائنس سامنے آ جائے گاجو ایک بڑی سیاسی تحریک کا نقطہ آغاز بھی ہوگا۔پی ٹی آئی کے کچھ سیاسی رہنما اس نقطہ پر اتفاق کرتے ہیں کہ موجودہ صورتحال میں پی ٹی آئی مختلف ریاستی اور حکومتی جبر و پابندیوں کی وجہ سے سیاسی طور پر تن تنہا کوئی بڑی تحریک چلانے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور اسے دیگر جماعتوں پر انحصار کرنا ہوگا۔

پی ٹی آئی نے سیاسی سرگرمیاں کرنے کی کوشش کی تو انھیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی میں شامل بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اگر ہم نے عملی طور پر بڑی تحریک چلانی ہے تو دیگر سیاسی جماعتوں بالخصوص مولانا فضل الرحمان کی جے یو آئی اور جماعت اسلامی کو گرینڈ الائنس کا حصہ بنانا ہوگا۔اسی بنیاد پر پی ٹی آئی نے عید کے بعد ایک بڑے گرینڈ الائنس کا عندیہ دیا ہے بلکہ مکمل اتفاق ہو گیا ہے۔

پی ٹی آئی ماضی میں کیونکہ سولو فلائٹ کی سیاست کی حامی رہی ہے، اس لیے بہت سی سیاسی جماعتیں اس وقت بھی پی ٹی آئی کے ساتھ کسی بھی بڑے اتحاد کا حصہ بننے پر اپنے تحفظات رکھتی ہیں۔ مولانا فضل الرحمن اگرچہ اس وقت حکومت مخالف سیاست کا حصہ ہیں۔لیکن ان کا بھی اپنا موقف ہے کہ وہ اس وقت تک پی ٹی آئی کے ساتھ گرینڈ الائنس کا حصہ نہیں بنیں گے جب تک اس اتحاد کو مستقبل کے تناظر میں انتخابی اتحاد میں تبدیل نہ کیا جائے۔کیونکہ مولانا فضل الرحمن کو خیبرپختون خواہ میں پی ٹی آئی کے تناظر میں سخت مزاحمت کا سامنا ہے اور ان کی سیاسی و انتخابی پوزیشن کافی کمزور ہے۔

اس لیے مولانا فضل الرحمن چاہتے ہیں کہ عمران خان کا ساتھ اسی صورت میں دیا جائے جب مستقبل میں ان کے ساتھ انتخابی اتحاد ہو تاکہ ان کے ارکان پی ٹی آئی کی حمایت کے ساتھ پارلیمنٹ کا حصہ بن سکیں۔کیونکہ مولانا فضل الرحمن کو اندازہ ہے کہ اگر وہ صرف خود کو گرینڈ الائنس تک محدود رکھتے ہیں اور یہ اتحاد انتخابی اتحاد میں تبدیل نہیں ہوتا تو اس کا براہ راست فائدہ پی ٹی آئی کو ہوگا اور انھیں اگلے انتخابات میںایک بار پھر خیبر پختون خواہ میں سیاسی پسپائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔جب کہ دوسری طرف حکومت کی پوری کوشش یہ ہی ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو کسی بھی طور پر بانی تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد کا حصہ نہ بننے دیا جائے۔

یہ ہی وجہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ حکومت بھی مسلسل رابطے میں ہے اور ان کو سیاسی طور پر رام کرنا چاہتی ہے۔مولانا فضل الرحمن کو گلہ ہے کہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون نے ان سے اقتدار کی شراکت کے فارمولے میں وعدہ خلافی کی ہے۔بہرحال مولانا فضل الرحمن اس وقت وکٹ کی دونوں طرف کھیل رہے ہیں اور جہاں ان کو سیاسی فائدہ ہوگا وہ اپنا فیصلہ ضرور اسی طرف کریں گے۔

وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اس وقت پی ٹی آئی کا ساتھ دینے کا مقصد اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست ہے اور وہ ہمیشہ سے اسٹیبلشمنٹ سے ٹکراؤ کی بجائے مفاہمت کے ساتھ چلنے کے حامی رہے ہیں۔اس لیے دیکھنا ہوگا کہ مولانا فضل الرحمن حتمی فیصلہ کیا کرتے ہیں۔خود پی ٹی آئی میں بھی بالخصوص ووٹرز میں مولانا فضل الرحمن کی سیاست کے بارے میں اچھی رائے نہیں ہے اور نہ ہی ان کا ووٹر اس طرح کے انتخابی اتحاد کو قبول کرے گا اور نہ بانی پی ٹی آئی اس طرح کے انتخابی اتحاد کے حامی ہیں۔ ایسا کوئی واضح اشارہ ہمیں دیکھنے کو نہیں ملا کہ جماعت اسلامی اس گرینڈ الائنس کا حصہ ہوگی۔اگر جے یو آئی اور جماعت اسلامی گرینڈ الائنس کا بھی عملا حصہ نہیں بنتی تو پھر تحریک چلانے کے امکانات کم ہوں گے۔

 بانی پی ٹی آئی کی سیاسی مقبولیت اپنی جگہ جب کہ کامیاب سیاسی تحریک چلانا ایک دوسری بات ہے۔ پی ٹی آئی کو اس وقت بڑے داخلی بحران کا سامنا ہے۔پی ٹی آئی میںکچھ لوگ اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہیں تو ایک بڑا گروپ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات بہتر بنا کر چلنے کا حامی ہے۔ پنجاب میں پی ٹی آئی کا تنظیمی ڈھانچہ بہت کمزور ہے اور اس کی بیشتر قیادت کارکنوں کو یکجا کرنے میں ناکامی سے دوچار ہے۔

اس لیے جب تک پنجاب سے کوئی بڑی تحریک شروع نہیں ہوگی تو پی ٹی آئی کو اس کا کوئی بڑا فائدہ نہیں پہنچ سکے گا۔پی ٹی آئی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔جو کچھ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ پس پردہ پی ٹی آئی کی باہر بیٹھی قیادت کرنا چاہتی ہے اس میں بھی سب سے بڑی رکاوٹ خود بانی پی ٹی آئی ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کو اندازہ ہے کہ اگر انھوں نے کسی بھی سطح پر سیاسی کمزوری کا مظاہرہ کیا یا کوئی ایسا سمجھوتہ کیا جو ان کے مزاحمتی موقف کے برعکس ہوا تو اس سے ان کو سیاسی نقصان سمیت عوامی مقبولیت میں بھی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اسی طرح اگر بانی پی ٹی آئی مزید جیل میں رہتے ہیں تو ان کی غیر موجودگی میں ایک بڑی سیاسی تحریک کے چلنے کے امکانات محدود ہیں۔ لیکن اگر وہ جیل سے باہر آتے ہیں تو سیاسی حالات اور عوامی طاقت کی لہر ان کے حق میں ہو سکتی ہے۔لیکن فوری طور پر ان کی رہائی کے امکانات بھی کم نظر آتے ہیں ۔

بانی پی ٹی آئی کے چار مطالبات ہیں اول، ملک کے نظام کو آئین و قانون کی حکمرانی کے تابع کیا جائے۔ دوئم، آٹھ فروری کے انتخابات کا سیاسی آڈٹ کیا جائے اور عدالتی کمیشن بنے یا نئے انتخابات کا راستہ اختیار کیا جائے۔سوئم ،نو مئی کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن بنے ۔چہارم، پی ٹی آئی کے تمام سیاسی کارکنوں کی رہائی اور مقدمات کا خاتمہ شامل ہے۔

اب اگر پی ٹی آئی کو کسی بڑے بڑے گرینڈ الائنس کا حصہ بننا ہے تو اسے دیگر سیاسی جماعتوں کے مطالبات بھی سامنے رکھنے پڑیں گے۔حکومت کی پوری کوشش ہوگی کہ پی ٹی آئی یا گرینڈ الائنس کی ممکنہ سیاسی تحریک کو پیدا ہی نہ ہونے دیا جائے اور اس طرح کی تشکیل کو اپنی سیاسی حکمت عملیوں سے ناکام بنانا ان کی حکمت عملی کا حصہ ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • افغانستان سے مذاکرات صوبائی نہیں، ریاستی سطح پر ہونے چاہئیں، شاہد خاقان عباسی
  • جے یو آئی کی احتجاجی تحریک کا دوسرا مرحلہ شروع ہوگیا
  • افغانستان سے مذاکرات صوبائی نہیں، ریاستی سطح پر ہونے چاہئیں: شاہد خاقان عباسی
  • اپوزیشن کسی احتجاجی تحریک کا حصہ نہیں بن رہی ہے، شاہد خاقان عباسی
  • اس وقت اپوزیشن کسی احتجاجی تحریک کا حصہ نہیں بن رہی ، شاہد خاقان عباسی
  • ملک میں الیکشن چوری ہوں گے تو انتشار پیدا ہوگا، شاہد خاقان
  • شاہد خاقان عباسی کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات، سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • حکومت مخالف تحریک کے امکانات
  • بجلی کی قیمتوں میں کمی کا خیر مقدم، ’حق دو عوام کو‘ تحریک آگے بڑھائیں گے، حافظ نعیم