تمام بجلی میٹرز کو آٹو میٹڈ سسٹم سے تبدیل کرینگے: اویس لغاری
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ بجلی کے شعبے میں بڑی اصلاحات کی ہیں، 3,696 ارب روپے کی بچت کا ریلیف عوام کو ملے گا۔ آئیسکو، فیسکو اور گیپکو کی نجکاری کا عمل جاری ہے۔ دوسرے مرحلے میں لیسکو، میپکو اور ہزیکو کی نجکاری کی جائے گی۔ تمام بجلی کے میٹرز کو آٹومیٹڈ سسٹم سے تبدیل کیا جا رہا ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں میڈیا نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن اویس لغاری نے بجلی کے شعبے سے متعلق کئی اہم اقدامات اور چیلنجز پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ بجلی کے شعبے کا سب سے بڑا چیلنج پیداواری لاگت ہے، جس میں ٹیرف میں اضافے اور 2,400 ارب روپے کے گردشی قرضے نے مشکلات بڑھا دی ہیں۔ اسی طرح ڈسکوز کی ناقص کارکردگی اور کوآرڈینیشن کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے جبکہ بجلی کی طلب میں مسلسل کمی بھی شعبے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ ٹرانسمشن لائنز کے نقصانات کی وجہ سے بجلی کی قیمت میں 1 سے 2 روپے کا اضافہ ہوتا ہے۔ ان نقصانات کو کم کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ 1.
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
آئی پی پیز سے مذاکرات کرکے 3696 ارب روپے کی بچت کی، ریلیف عوام کو ملے گا، وزیرتوانائی
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ “بجلی کے شعبے میں بڑی اصلاحات کی ہیں، انہوں نے 3,696 ارب روپے کی بچت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس کا ریلیف عوام کو ملے گا۔
وفاقی دارالحکومت میں میڈیا نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن اویس لغاری نے بجلی کے شعبے سے متعلق کئی اہم اقدامات اور چیلنجز پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ 36 آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات سے 3,696 ارب روپے کی بچت ہوئی ہے، جو آنے والے سالوں میں صارفین کے لیے ریلیف کا باعث بنے گی۔
اہم چیلنجز اور اقدامات:
انہوں نے بتایا کہ بجلی کے شعبے کا سب سے بڑا چیلنج پیداواری لاگت ہے، جس میں ٹیرف میں اضافے اور 2,400 ارب روپے کے گردشی قرضے نے مشکلات بڑھا دی ہیں۔ اسی طرح ڈسکوز کی ناقص کارکردگی اور کوآرڈینیشن کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے جب کہ بجلی کی طلب میں مسلسل کمی بھی شعبے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ ٹرانسمشن لائنز کے نقصانات کی وجہ سے بجلی کی قیمت میں 1 سے 2 روپے کا اضافہ ہوتا ہے۔ ان نقصانات کو کم کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 1.89 کروڑ صارفین (جو 100 یونٹس تک استعمال کرتے ہیں) کے لیے بجلی کی قیمت میں 6 روپے 14 پیسے کمی کی گئی ہے جبکہ مجموعی طور پر ان کے نرخوں میں 56 تک کمی کی گئی ہے۔
اویس لغاری نے کہا کہ 6 سال کے اندر گردشی قرضے کو ختم کر دیا جائے گا اور آئندہ سالوں میں اسے زیرو پر لایا جائے گا۔تمام بجلی کے میٹرز کو آٹومیٹڈ سسٹم سے تبدیل کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح آئیسکو، فیسکو اور گیپکو کی نجکاری کا عمل جاری ہے، جبکہ دوسرے مرحلے میں لیسکو، میپکو اور ہزیکو کی نجکاری کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ 27,000 ٹیوب ویلز کو 7 ماہ میں سولر انرجی پر منتقل کر دیا جائے گا۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سی پیک کے تحت چائنیز پلانٹس میں کوئلے سے بجلی کی پیداوار پر توجہ دی جائے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جولائی سے دسمبر تک ڈسکوز کے نقصانات کا ہدف 303 ارب روپے تھا، لیکن 145 ارب روپے کی بچت کرتے ہوئے نقصانات 158 ارب روپے تک محدود رہے۔گردشی قرضے کے شعبے میں 9 ارب روپے کی بچت کی گئی ہے۔
بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ ہم مہنگی بجلی خریدنے کے بجائے مستقبل کے لیے پائیدار حل تلاش کر رہے ہیں۔ 10 سالہ الیکٹرک پالیسی کے تحت بجلی کے شعبے کو مستحکم کرنے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
اویس لغاری نے کہا کہ بجلی کے بنیادی ٹیرف میں کمی یا اضافے کا ابھی سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔ بجلی کے بنیادی ٹیرف میں جون تک کیا صورتحال ہوگی دیکھنا ہوگا۔ بذریعہ ریگولیٹر ہی تمام امور انجام دہیے جاتے ہیں کام حکومت کرتی ہے۔ 7 روپے 41 پیسے کا جو ریلیف دیا گیا ہے یہ بنیادی ٹیرف میں بھی شامل ہے۔ بنیادی ٹیرف کے بارے میں فل الحال کوئی پیشنگوئی نہیں کرسکتا۔
Post Views: 1