مسئلہ فدک۔۔۔ ایک علمی اختلاف یا سیاسی الجھن؟
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
اسلام ٹائمز: فدک کا مسئلہ محض حکومت اور اپوزیشن، جائیداد و وراثت یا زمین کی ملکیّت کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ یہ معصوم اور غیر معصوم کے علم کا مسئلہ ہے۔ علمی اختلاف کا یہ مسئلہ آپکو صرف فدک میں ہی نہیں بلکہ ساری تاریخِ اسلام میں حتی کہ فقہی دنیا میں بھی جابجا نظر آئے گا۔ یہ انتہائی اہم مسئلہ ہے، چنانچہ قیامت کے دن بھی اُمّت اسی مسئلے میں گرفتار ہوگی، چونکہ ہر شخص کو اُسی کے ساتھ محشور کیا جائے گا، جس سے اُسے نے علم حاصل کیا تھا اور جسے اُس نے اپنا امام مانا تھا۔ تحریر: ڈاکٹر نذر حافی
یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک حدیث جو قرآن کے خلاف ہو، اُسے ردّ نہ کیا جائے؟ بلکہ ردّ کرنے کے بجائے اُسے اتنی زیادہ اہمیت دی جائے کہ اُس کی بنیاد پر نبی ؐ کی بیٹی ؑ کو جھٹلا دیا جائے؟ یہ سب بظاہر ممکن نہیں لگتا۔ یہ تو ہم جانتے ہی ہیں کہ فدک کا معاملہ خلافت راشدہ کے دور کا اہم واقعہ ہے۔ یہ کوئی احساساتی یا جذباتی مسئلہ نہیں۔ دراصل فدک مدینے کے قریب ایک زرخیز علاقہ تھا۔ ہمارے نبیؐ کے وصالِ مبارک کے بعد فدک کا یہ علاقہ مسلمانوں کے درمیان نزع و اختلاف کا باعث بنا۔ مسلمانوں کی حکومت نے حضرت فاطمہؑ کو مانگنے اور دربار میں گواہ پیش کرنے کے باوجود فدک نہیں دیا۔ وقت گزرتا گیا اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ اختلاف نسل در نسل موضوع بحث بنتا گیا۔ صدرِ اسلام کے سب لوگ یہ جانتے تھے کہ یہ علاقہ کسی جنگ و جہاد کے بغیر وہاں کے یہودیوں سے بطورِ تحفہ ہمارے نبیؐ نے پایا تھا۔ اس بارے میں قرآن مجید کی سورہ حشر کی آیت ۶ بھی شاہد ہے۔[1]
بعض افراد حضرت فاطمہ ؑ کو فدک سے محروم کرنے کو ایک سیاسی مسئلہ سمجھتے ہیں، کچھ نے اسے ریاست کے انتظامی امور کا معاملہ قرار دیا ہے، چند ایک نے اسے حکومت کی طرف سے اپوزیشن کے خلاف معمول کی انتقامی کارروائی بھی کہا ہے۔ الغرض یہ کہ ان گنت زاویوں سے اس مسئلے پر قرآن و حدیث کی روشنی میں مناظروں اور تحریر و تقریر کا ایک لامتناہی سلسلہ صدیوں سے جاری ہے۔ مسئلہ فدک کی اہمیت کیلئے یہی کافی ہے کہ فریقین میں سے ایک فریق نبیؐ کے اہلِ بیت میں سے نبیؐ کی ہی دُخترِ گرامی ہیں اور دوسرے فریق نبی ؐ کے بعد مسلمانوں کے پہلے حکمران اور ایک صحابی ہیں۔ دونوں طرف کے فریق اپنی اپنی جگہ انتہائی مضبوط ہیں۔ لہذا ہمیں بھی منصف مزاجی کے ساتھ اس مسئلے کو سمجھنا چاہیئے۔
اس مسئلے کی اہمیّت اُس وقت اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اُس وقت کی حکومت نے رسولؐ کی بیٹی سے تو یہ کہہ کر فدک واپس لے لیا تھا کہ رسول ؐ نے فرمایا ہے کہ "انبیاء کی کوئی وراثت نہیں ہوتی[2] " لیکن انہوں نے اس حدیث کی بنیاد پر اُمہات المومنین سے کوئی ارث اور ترکہ واپس نہیں لیا۔ یہ سوال بہت وزن رکھتا ہے کہ اگر یہ حدیث صحیح ہے تو پھر اس کا نفاذ اُمہات المومنینؓ پر کیوں نہیں کیا گیا۔؟ اس مسئلے کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے اور وہ یہ کہ اگر یہ کہا جائے کہ انبیاء کی وراثت فقط علم اور نبوّت ہے تو یہ بھی سراسر عقل و منطق کے خلاف ہے۔ اس مفروضے کی بنا پر ہر نبی ؑ کی ساری اولاد عالم اور نبی ہونی چاہیئے، جبکہ ایسا کہیں بھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ پھر تو نعوذ باللہ ختمِ نبوّت کا عقیدہ بھی زیرِ سوال آجاتا ہے۔ حضرت آدمؑ جو کہ پہلے نبی ؑ ہیں اور انہیں فرشتوں پر فوقیّت ہی علم کی وجہ سے دی گئی تھی، اُن کی اولاد ہونے کے باعث آج سارے عالمِ بشریّت کو عالم اور نبی ہونا چاہیئے۔
اب آئیے اس مسئلے کا تیسرا پہلو بھی ملاحظہ فرمائیے کہ حکومت کی بیان کردہ حدیث کا متن ہی قرآن مجید کی نصوص (نمل/سوره۲۷، آیه۱۶۔ نساء/سوره۴، آیه۷۔ نساء/سوره۴، آیه۱۱۔ بقره/سوره۲، آیه۱۸۰۔) کے خلاف ہے۔ تمام مسلمانوں کے ہاں احادیث کے پرکھنے کے اصولوں میں سے ایک اصول یہ ہے کہ جو حدیث قرآن کے خلاف ہو، اُسے ردّ کر دیا جائے۔ اسی طرح یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ ایک طرف تو اس حدیث کو قرآن مجید نہیں مانتا اور دوسری طرف نبیؐ کی تربیّت یافتہ بیٹی سیدہ فاطمہؑ اور حضرت علیؑ جو کہ بابِ علم ہیں، وہ بھی اس حدیث کو نہیں مانتے۔ پس مسئلہ فدک سے مسلمانوں کیلئے ایک انتہائی بنیادی اصول اخذ ہوتا ہے۔ وہ اصول یہ ہے کہ قرآن و سُنّت کے بارے میں اہلِ بیتؑ (معصوم) اور غیر معصوم (صحابہ) کا فہم مختلف ہے۔
قرآن و سُنّت کی جو تفسیر معصوم پیش کرتا ہے، وہ غیر معصوم کی تفسیر سے مختلف ہوتی ہے۔ قرآن و حدیث کے فہم میں اتنے زیادہ فرق کی ایک وجہ یہ ہے کہ اہلِبیتؑ کی تربیّت خود رسولؐ نے اپنی آغوش میں وحیِ الہیٰ سے کی اور اہلِ بیت ؑ کا علم براہ راست رسولِ خدا کا علم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسئلہ فدک پر حضرت فاطمہ (ع) کا موقف قرآن مجید اور سُنّت ِ رسول کے عین مطابق تھا۔ دوسری طرف صحابہ کرام ؓکی تربیّت اُن کے والدین نے وحی الہیٰ کے بجائے اپنے اپنے طور طریقے سے کی اور جب انہوں نے اسلام قبول کیا تو بے شک اس کے بعد نبیؐ کے علم سے اپنے اپنے ظرف کے مطابق سیراب ہوتے رہے۔ رسول ؐ کی آغوش کے پالوں کا علم بچپن سے ہی مثلِ رسول ؐ تھا جبکہ صحابہ کرام ؓکے افعال میں اُن کی اپنی ذاتی و بشری صوابدید و اجتہاد کا عنصر نمایاں دکھائی دیتا ہے۔
غیر معصوم افراد کے فیصلے انسانی فہم اور اجتہاد پر مبنی ہوتے ہیں، جن میں غلطی کا امکان ہوتا ہے۔ چنانچہ کسی بھی دور میں مسئلہ فدک پر حکومت کا استدلال قرآن و سُنّت سے ثابت نہیں کیا جا سکا۔ مسئلہ فدک ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ بے شک قرآن و سُنّت ایک ہی ہے، لیکن قرآن و سُنّت کے بارے میں معصوم اور غیرم معصوم کے فہم اور ان کی تفسیر میں فرق ہے۔ خلاصہ یہ کہ مسئلہ فدک کسی پر لعن طعن کرنے کے بجائے یہ سمجھنے کیلئے ہے کہ نبیؐ کی اغوشِ تربیّت میں پلنے کی وجہ سے معصوم کا علم بھی معصوم ہوتا ہے اور اپنے معصوم علم کی وجہ سے معصوم جو فیصلہ کرتا ہے یا جو راستہ دکھاتا ہے، وہ بھی معصوم ہوتا ہے۔ معصوم ہونا یعنی قرآن و سُنّت کے عین مطابق ہونا۔ اگر فدک کے مسئلے میں معصوم اور غیر معصوم کے علم کا فرق ہمیں سمجھ میں آجائے تو پھر ہم دیگر مسائل میں فرق اور اختلاف کی حقیقت کو بھی بخوبی جان لیں گے۔
فدک کا مسئلہ محض حکومت اور اپوزیشن، جائیداد و وراثت، یا زمین کی ملکیّت کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ یہ معصوم اور غیر معصوم کے علم کا مسئلہ ہے۔ علمی اختلاف کا یہ مسئلہ آپ کو صرف فدک میں ہی نہیں بلکہ ساری تاریخِ اسلام میں حتی کہ فقہی دنیا میں بھی جابجا نظر آئے گا۔ یہ انتہائی اہم مسئلہ ہے، چنانچہ قیامت کے دن بھی اُمّت اسی مسئلے میں گرفتار ہوگی، چونکہ ہر شخص کو اُسی کے ساتھ محشور کیا جائے گا، جس سے اُسے نے علم حاصل کیا تھا اور جسے اُس نے اپنا امام مانا تھا۔ آئیے آج قرآن مجید کے فیصلے پر ہم اپنا کالم ختم کرتے ہیں: "یَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْۚ-فَمَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ یَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا(71)وَ مَنْ كَانَ فِیْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِی الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَ اَضَلُّ سَبِیْلًا"، "قیامت کا دن وہ ہوگا، جب ہم ہر گروہ انسانی کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے اور اس کے بعد جن کا نامہ اعمال ان کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا، وہ اپنے صحیفہ کو پڑھیں گے اور ان پر پتلے دھاگے جتنا بھی ظلم نہ ہوگا۔۷۱۔ اور جو اسی دنیا میں اندھا ہے، وہ قیامت میں بھی اندھا اور بھٹکا ہوا رہے گا۔ ۷۲ (سورہ بنی اسرائیل)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] "وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ" (الحشر:6) یعنی "جو کچھ اللہ نے اپنے رسول کو ان سے دلوایا، اس کے لیے تم نے نہ تو کوئی گھوڑے دوڑائے اور نہ اونٹ۔"
[2] فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَاهُ صَدَقَةٌ۔ نيشابوري، مسلم بن حجّاج (261)، المسند الصحيح المختصر بنقل العدل عن العدل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، بي تا، ج3، ص1377.
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اور غیر معصوم معصوم اور غیر مسئلہ فدک مسئلہ ہے معصوم کے کا مسئلہ اس مسئلے کے ساتھ میں بھی کے خلاف ہوتا ہے فدک کا کا علم کے علم کے بعد
پڑھیں:
سستی بجلی ، ویلڈن شہباز شریف
وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے گزشتہ روز بجلی سستی کرنے کا اعلان کیا۔ گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی قیمت 7.41 روپے فی یونٹ سستی کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اس کے ساتھ صنعتی صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں 7.69روپے فی یونٹ کمی کی بھی خوش خبری سنائی گئی۔ گرمی کا موسم شروع ہوا ہی چاہتا ہے اس میں بجلی کی کھپت میں اضافہ ہونا لازمی امر ہے۔ لوگوں نے پنکھے اور اے سی چلانے ہیں۔ اس لیے بجلی کے بلوں میں یہ ریلیف بہت ضروری تھا۔
میری پہلے دن سے یہ رائے تھی اور میں نے لکھا بھی کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کا سب سے بڑا سیاسی حریف بجلی کا بل ہے۔ مہنگی بجلی کے بلوں نے مسلم لیگ (ن) کے ووٹر کو بھی پارٹی سے ناراض کیا ہے۔
اس لیے میری رائے یہی رہی ہے کہ بجلی کے بل ہی اس حکومت کی سب سے بڑی اپوزیشن بن چکے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) 2013کے مقام ہی پر کھڑی ہے۔ تب لوڈ شیڈنگ ختم نہ کی جاتی تو سیاست نہیں بچتی تھی۔ آج بجلی سستی نہ کی جاتی تو سیاست نہیں بچتی تھی۔ لیکن تب مسلم لیگ (ن) نے تین سال میں دس دس گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ختم کر کے دکھا دی تھی۔ آج حکومت کے پہلے سال کے خاتمہ پر ہی شہباز شریف نے بجلی سستی کر دی ہے۔
بجلی کی قیمت میں بلا شبہ ریکارڈ کمی کی گئی ہے اس کے اچھے نتائج بھی ہوں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے سیاسی مخالفین پر بجلی کی قیمت میں اتنی بڑی کمی یقینا بجلی بن کر ہی گری ہے۔ ان کے لیے یہ کمی سیاسی دھچکے سے کم نہیں۔ ایک سال پہلے جب پاکستان مسلم لیگ (ن) نے مرکزی حکومت سنبھالی تھی تو سب کہتے تھے کہ مرکزی حکومت نہ لی جائے۔ مرکزی حکومت سنبھالنا ایک سیاسی خودکشی کے مترادف ہے۔ معیشت کی حالت ایسی نہیں کہ حکومت لی جائے۔
سخت فیصلے کرنے ہونگے۔ آئی ایم ایف نے جان کھا لینی ہے۔ بجلی مہنگی کرنی ہوگی۔ سب کچھ مزید مہنگا ہو جائے گا۔ اس لیے حکومت سے دور رہا جائے لیکن کیا کسی کو اندازہ تھا کہ ایک سال بعد شہباز شریف بجلی کی قیمت میں تاریخ کی سب سے بڑی کمی کر دیں گے۔ آج ایسا لگ رہا ہے کہ سب کے سیاسی تجزئیے اور معاشی ماہرین کے معاشی تجزئیے سب غلط ہو گئے ہیں۔ حالات بدل رہے ہیں اور کسی کو اس کا اندازہ بھی نہیں تھا۔
میں سمجھتا ہوں کہ پیپلزپارٹی نے بھی وزارتیں اسی لیے نہیں لی تھیں کہ انھیں بھی یہی خیال تھا کہ مرکزی حکومت سے دور رہنا ہے۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ پی ڈی ایم کی پہلی حکومت کی طرح اس حکومت میں بھی معاشی مسائل زیادہ رہیں گے۔ مہنگائی بڑھے گی، ڈالر اوپر جائے گا، بجلی مہنگی ہوگی، جس کا سیاسی نقصان ہوگا۔
وہ اس سیاسی نقصان سے بچنے اور بعد میں ن لیگ کو ہونے والے سیاسی نقصان کا فائدہ اٹھانے کے لیے بیٹھے ہوئے تھے۔ انھوں نے بلاشبہ شہبازشریف کو وزارت عظمیٰ کے لیے ووٹ تو دیا تھا۔ لیکن ان کا سیاسی تجزیہ یہی تھا کہ یہ حکومت زیادہ دن نہیں چل سکے گی۔ معاشی بدحالی کے بوجھ تلے دب کر خود بخود گر جائے گی۔ اس کو گرانے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔ اس لیے ابھی اس حکومت کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔
لیکن شہباز شریف نے صرف سیاسی حریفوں کے ہی نہیں بلکہ سیاسی حلیفوں کے سیاسی تجزئیے بھی غلط ثابت کر دیے ہیں۔ ایک سال قبل کیے جانے والے تمام سیاسی تجزئیے غلط ثابت ہو گئے ۔ ایک سال قبل جو ملک ڈیفالٹ کر رہا تھا اس کی معیشت سنبھل گئی ہے۔ سیاسی مخالفین حیران ہیں وہ ملک کو سری لنکا اور ڈھاکا بنانے کی تیاری کر رہے تھے لیکن یہاں تو معاملہ ہی الٹ گیا ہے۔ لوگ بجلی کا یونٹ سو روپے کا ہونے کی پیش گوئی کر رہے تھے اور یہاں قیمتیں کم ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ سب تدبیریں الٹی ہوگئی ہیں۔ اس لیے سب حیران ہیں۔
صرف بجلی ہی سستی نہیں ہوئی بلکہ مارچ میں مہنگائی بھی ساٹھ سال کی کم ترین سطح پر ریکارڈ کی گئی ہے۔ مہنگائی کی شرح کے کم ہونے کا ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا ہے۔ کہاں مہنگائی بڑھنے کے ریکارڈ بن رہے تھے کہاں مہنگائی کم ہونے کا ساٹھ سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔ اس کی بھی کسی کو توقع نہیں تھی۔ سب کی رائے تھی کہ مہنگائی بڑھنے کا ریکارڈ بنے گا۔ سب کچھ مہنگا ہو جائے گا۔ لیکن یہاں تو مہنگائی کم ہونے کا ریکارڈ بننا شروع ہو گیا ہے۔ یہ ریکارڈ بجلی سستی ہونے سے پہلے بن گیا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ بجلی مزید سستی کی جائے گی۔ یہ بھی اچھی خبر ہے۔ مجھے اندازہ ہے کہ ابھی تو پاکستانی آئی پی پی کے ساتھ معاملات از سر نو طے کیے گئے ہیں۔ ابھی چائنیز آئی پی پی کے ساتھ معاملات طے کیے جانے ہیں۔ چائنیز کا یہی موقف تھا کہ پہلے آپ پاکستانی آئی پی پی کے ساتھ از سر نو معاملات طے کر لیں پھر ہم کریں گے۔ اس لیے امید یہی ہے کہ اب چائنیز آئی پی پی کے ساتھ جب معاملات طے ہونگے تو بجلی مزید سستی ہو جائے گی۔ اس ماحول میں جب دنیا میں ہر طرف مہنگائی کا شور ہے۔ ایسے میں پاکستان میں بجلی سستی ہونا ایک بڑا واقع ہے۔
ایک طرف ٹرمپ کے ٹیرف کی وجہ سے پوری دنیا کی عالمی مالیاتی منڈیاں کریش کر گئی ہیں۔ عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں سرمایہ کاروں کے اربوں نہیں کھربوں ڈالر ڈوب گئے ہیں۔ امریکی اسٹاک مارکیٹ میں بھی بھونچال ہے۔ عالمی کساد بازاری کی بات کی جا رہی ہے۔ دوسری طرف پاکستانی اسٹاک مارکیٹ نہ صرف مستحکم رہی ہے بلکہ اس میں اضافہ بھی ہوا ہے۔ مجھے امید ہے کہ جب مئی میں بجلی کے بل آئیں گے تو لوگوں کو بل کم ہونے کا احساس ہوگا۔ اس سے پہلے وزیراعظم سولر صارفین کے ریٹ ریورس کرنے کی سمری کو بھی مسترد کر چکے ہیں۔ جس سے ہزاروں نہیں لاکھوں سولر صارفین کو تحفظ ملا ہے۔
صنعتی صارفین کے لیے گھر یلو صارفین سے کچھ زیادہ بجلی سستی کی گئی ہے۔ ایک رائے ہے کہ اس وقت ہمارے برآمد کنندگان کو مہنگی بجلی کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں مقابلہ کرنے میں مشکل پیش آرہی تھی۔ اب ان کے لیے مقابلہ کرنا آسان ہوگا۔
ٹیرف کا اثر بھی سستی بجلی کم کرے گی۔ اس لیے برآمد کنندگان کے گلے شکوے بھی کافی حد تک کم ہوئے ہیں۔صنعتی سستی بجلی صنعتوں کا پہیہ چلانے میں مدد کرے گی۔ صنعتوں کا پہیہ چلے گا تو روزگار کے مواقع پیدا ہونگے اور معیشت کا پہیہ بھی چلے گا۔ اس لیے سستی بجلی معاشی استحکام کا نیا باب کھولے گی اور پاکستان معاشی طور پر مزید مستحکم ہوگا۔ اس لیے ہم ویلڈن شہباز شریف ہی کہہ سکتے ہیں۔