چھ نسلوں سے جاری مزاحمت (قسط دہم)
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
اگرچہ فلسطینیوں کی پہلی عظیم مزاحمت (انیس سو چھتیس تا انتالیس) برطانوی انتظامیہ نے صیہونیوں اور کچھ مقامی فلسطینی طفیلیوں کے تعاون سے وقتی طور پر کچل دی۔ویسے بھی باہمی نفاق کے سبب اس کی کامیابی کا امکان کم ہی تھا۔مگر کچلنے کے بعد اگلا مرحلہ زخموں پر مرہم رکھنے کا ہوتا ہے۔ ایسا یوں بھی ضروری تھا کیونکہ ہٹلر کی گرم گرم پھونکیں برطانیہ اپنی گردن پر محسوس کر رہا تھا۔
یورپ میں بارود کا ڈھیر کسی بھی وقت پھٹ سکتا تھا۔برطانیہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی پیٹھ پیچھے نامکمل سامراجی وعدوں سے ڈسے ہوئے عرب نازی جرمنی کی برطانیہ دشمن پالیسی کے لیے خام مال ثابت ہوں۔
چنانچہ دوسری عالمی جنگ شروع ہونے سے چار ماہ قبل مئی انیس سو انتالیس میں فلسطین سے متعلق برطانوی پارلیمنٹ نے چیمبرلین حکومت کے قرطاسِ ابیض کی سادہ اکثریت سے منظوری دے دی۔اس سے پہلے فروری میں فلسطینی عربوں اور صیہونیوں کو ایک مشترکہ ریاست میں رہنے پر آمادہ کرنے کے لیے لندن میں سرکاری سرپرستی میں کانفرنس ہوئی۔فریقین ایک دوسرے سے آمنے سامنے بات کرنے پر آمادہ نہیں تھے لہٰذا برطانوی حکومت نے انھیں کسی فارمولے پر متفق کرنے کے لیے بچولیے کا کردار ادا کیا۔مگر حسبِ توقع لگ بھگ ایک ماہ تک جاری یہ کانفرنس ناکام رہی۔
چنانچہ برطانوی حکومت نے معاملات براہ راست ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کیا اور یہ فیصلہ قرطاس ابیض کی شکل میں سامنے آیا۔اس میں کہا گیا کہ اس وقت فلسطین میں یہودی آبادی ساڑھے چار لاکھ ہے۔یعنی انیس سو سترہ کے بالفور ڈیکلریشن کے تحت فلسطین میں یہودیوں کے قومی وطن کے قیام کا برطانوی وعدہ پورا ہو گیا۔بالفور ڈیکلریشن کا مطلب عرب اکثریت کو نظرانداز کر کے ایک یہودی ریاست کا قیام ہرگز نہ تھا۔لہٰذا برطانوی حکومت سمجھتی ہے کہ اگلے دس برس میں فلسطین ایک متحد آزاد مملکت کے طور پر ابھرے کہ جس میں اکثریت اور اقلیت کے مفادات کا یکساں تحفظ ہو اور وہ مشترکہ طور پر کاروبارِ حکومت میں شامل ہوں۔
اگلے پانچ برس میں پچھتر ہزار مزید یہودیوں کو قانونی طور پر فلسطین میں آباد ہونے کے اجازت نامے جاری کیے جائیں گے۔اور یہ میعاد ختم ہونے کے بعد مزید یہودی آبادکار عربوں کی رضامندی سے ہی فلسطین میں آباد ہو سکیں گے۔
قرطاسِ ابیض میں کہا گیا کہ لامحدود نقل مکانی کی صورت میں باہمی نفرتوں میں اضافہ لازمی ہے۔فلسطین کی معیشت بھی بے لگام نقل مکانی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔عربوں کے انھی خدشات نے گزشتہ تین برس سے جاری بے چینی کو جنم دیا۔لہٰذا تدارک کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔
قرطاس ابیض کے ذریعے پچانوے فیصد فلسطین میں زرعی اراضی یہودی آبادکاروں کو فروخت کرنے پر پابندی لگا دی گئی تاکہ عرب آبادی میں اضافے کے سبب زمین کی کمیابی کے نتیجے میں زرعی و روزگاری بحران پیدا نہ ہو اور بے زمین کاشتکاروں کی بڑھتی تعداد میں کمی ہو سکے۔
اس قرطاسِ ابیض نے انیس سو سینتیس کے پیل کمیشن کی اس تجویز کو زندہ درگور کر دیا کہ فلسطین کو عربوں اور یہودیوں میں تقسیم کر دیا جائے۔قرطاسِ ابیض میں اتنی رعائیتوں کے باوجود فلسطین کی عرب ہائر کمیٹی نے اسے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ اس کے دو بنیادی معلومات نہیں مانے گئے۔ اول یہ کہ فلسطین کو فوراً آزاد کیا جائے اور دوم یہ کہ کوٹہ مقرر کرنے کے بجائے یہودیوں کی آمد پر مستقل پابندی لگائی جائے۔
تاہم جب صیہونیوں نے اس قرطاس ابیض کو اپنے لیے موت کا پروانہ قرار دے کر یکسر مسترد کر دیا اور برطانیہ کو دشمن نمبر ون قرار دے کر مسلح دہشت گرد کارروائیاں شروع کر دیں تو فلسطینیوں نے قرطاسِ ابیض کی سفارشات کو مشروط طور پر تسلیم کر لیا۔
دہشت گرد تنظیم ارگون نے پولش حکومت اور یورپ میں موجود صیہونیوں کی مدد سے فلسطین میں چالیس ہزار مسلح یہودی لشکر اتار کے برطانوی ڈھانچے کو برطرف کرنے کا منصوبہ بنایا۔اس جذباتی منصوبے پر اپریل انیس سو چالیس میں عمل ہونا تھا۔مگر ستمبر انیس سو انتالیس میں دوسری عالمی جنگ شروع ہو گئی تو یہ منصوبہ بھی ٹھنڈا پڑ گیا۔
اس دوران جیوش ایجنسی کے رہنما ڈیوڈ بن گوریان نے سیاسی ذہانت سے کام لیتے ہوئے کہا کہ جب تک جنگ جاری ہے ہم برطانیہ سے ہٹلر کے خلاف مکمل تعاون کریں گے۔ جنگ کے بعد برطانیہ نے پیل کمیشن کی سفارشات کے مطابق ایک یہودی ریاست کے قیام کا وعدہ پورا نہیں کیا تو پھر ہم سب برطانیہ سے شد و مد سے لڑیں گے۔
انیس سو چوالیس میں جب صیہونی قیادت نے بھانپ لیا کہ جنگ اپنے اختتامی مراحل میں ہے مگر برطانیہ ہر اعتبار سے کمزور ہو چکا ہے تو بن گوریان کی مسلح تنظیم ہگانہ سمیت تمام مسلح صیہونی دھڑوں نے اسٹرٹیجک اتحاد کر کے کمزور برطانیہ کو فلسطین میں نشانے پر رکھ لیا۔ یہودیوں کی غیر قانونی آمد میں یک بیک اضافہ ہو گیا۔برطانوی انتظامیہ جن غیرقانونی تارکینِ وطن کو گرفتار کر کے قبرس میں قائم کیمپ میں بھیجتی وہ دوبارہ چوری چھپے یہودی ایجنسی کی مدد سے فلسطین کا رخ کرتے اور جنگی افراتفری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اکثر داخل ہونے میں کامیاب ہو جاتے۔
انیس سو پینتالیس کے انتخابات میں چرچل کو شکست ہوئی اور لیبر پارٹی برسرِ اقتدار آ گئی۔لیبر پارٹی کے کنونشن میں قرطاسِ ابیض کو منسوخ کر کے یہودی ریاست کی حمائیت کی کوشش ہوئی۔مگر وزیرِ خارجہ ارنسٹ بیون نے ایسے قدم کے مضمرات سے خبردار کرتے ہوئے قرطاسِ ابیض کی پالیسی کو کسی نہ کسی طور جاری رکھنے پر زور دیا۔چنانچہ علامتی طور پر یہ پالیسی فلسطین میں برطانوی راج کے خاتمے تک جاری رہی۔
ستم ظریفی دیکھیے کہ اقوامِ متحدہ نے نومبر انیس سو سینتالیس میں فلسطین کو تقسیم کرنے کا جو فیصلہ کیا اس میں یہودیوں اور فلسطینیوں کو کم و بیش اتنی ہی زمین الاٹ ہوئی جس کی تجویز انیس سو سینتیس کے پیل کمیشن نے پیش کی تھی۔
جب چودہ مئی انیس سو اڑتالیس کو بن گوریان نے تل ابیب میں اسرائیل کے قیام کا اعلان پڑھا تو اس کے فوراً بعد قرطاس ابیض کے تحت کیے گئے اقدامات کو مکمل طور پر کالعدم قرار دے کر عربوں کو وسیع پیمانے پر قتل اور بے دخل کرنے کا کام عروج پر پہنچ گیا۔
گویا برطانوی پیل کمیشن دوبارہ زندہ ہو گیا اور برطانوی قرطاسِ ابیض تاریخ کی قبر میں گہرا دفن ہو گیا۔ (ختم شد)
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں فلسطین فلسطین میں پیل کمیشن ابیض کی یہودی ا کے لیے ہو گیا کر دیا
پڑھیں:
برطانیہ کا امیگریشن نظام سخت، اب یورپی شہریوں کو بھی اجازت نامہ درکار ہوگا
لندن: برطانیہ نے اپنے امیگریشن قوانین کو مزید سخت کرتے ہوئے یورپی شہریوں کے لیے بھی الیکٹرانک ٹریول اتھورائزیشن (ETA) لازمی قرار دے دیا۔ یہ قانون 2 اپریل 2025 سے نافذ ہوگا، جس کے بعد یورپی شہریوں کو برطانیہ میں داخل ہونے سے پہلے یہ اجازت نامہ لینا ہوگا۔
ETA ایک ڈیجیٹل سفری اجازت نامہ ہے جو ویزا کے بغیر برطانیہ جانے والے مسافروں کے پاسپورٹ سے منسلک ہوگا۔ تاہم، یہ صرف سفر کی اجازت دے گا، جبکہ حتمی فیصلہ برطانوی امیگریشن حکام کے اختیار میں ہوگا۔
یہ قانون ان تمام افراد پر لاگو ہوگا جو ویزا کے بغیر برطانیہ کا سفر کرتے ہیں اور برطانیہ میں کوئی امیگریشن اسٹیٹس نہیں رکھتے۔ اس سے قبل یہ قانون صرف غیر یورپی ممالک جیسے امریکا، کینیڈا، اور آسٹریلیا کے شہریوں پر لاگو تھا، لیکن اب یورپی شہریوں کو بھی اس عمل سے گزرنا ہوگا۔
ETA کی درخواست فیس 10 پونڈ رکھی گئی ہے، جو 9 اپریل کے بعد بڑھ کر 16 پونڈ ہو جائے گی۔ مسافر برطانوی ETA موبائل ایپ یا سرکاری ویب سائٹ کے ذریعے درخواست دے سکتے ہیں۔ اگرچہ بیشتر درخواستیں چند منٹوں میں منظور ہو جاتی ہیں، لیکن حکام کم از کم تین دن پہلے درخواست دینے کی تجویز دیتے ہیں۔
اگر کسی درخواست کو مسترد کر دیا جائے تو درخواست گزار کو وجہ سے آگاہ کیا جائے گا، لیکن فیصلے کے خلاف اپیل کا کوئی طریقہ نہیں ہوگا۔ ایسے افراد کو برطانیہ جانے کے لیے ویزا حاصل کرنا ہوگا۔
پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کو ETA کی ضرورت نہیں ہوگی کیونکہ انہیں پہلے ہی برطانیہ کے لیے ویزا درکار ہوتا ہے۔ تاہم، پاکستانی نژاد یورپی شہریوں پر اس کا اثر پڑے گا، خاص طور پر وہ جو کاروباری یا خاندانی وجوہات کی بنا پر برطانیہ کا بار بار سفر کرتے ہیں۔
برطانوی حکومت کے مطابق ETA کا نظام امیگریشن سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے، جو عالمی سطح پر سخت سفری قوانین کے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔
Post Views: 1