Express News:
2025-04-05@00:48:19 GMT

سستی بجلی ، ویلڈن شہباز شریف

اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT

وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے گزشتہ روز بجلی سستی کرنے کا اعلان کیا۔ گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی قیمت 7.41 روپے فی یونٹ سستی کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اس کے ساتھ صنعتی صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں 7.69روپے فی یونٹ کمی کی بھی خوش خبری سنائی گئی۔ گرمی کا موسم شروع ہوا ہی چاہتا ہے اس میں بجلی کی کھپت میں اضافہ ہونا لازمی امر ہے۔ لوگوں نے پنکھے اور اے سی چلانے ہیں۔ اس لیے بجلی کے بلوں میں یہ ریلیف بہت ضروری تھا۔

میری پہلے دن سے یہ رائے تھی اور میں نے لکھا بھی کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کا سب سے بڑا سیاسی حریف بجلی کا بل ہے۔ مہنگی بجلی کے بلوں نے مسلم لیگ (ن) کے ووٹر کو بھی پارٹی سے ناراض کیا ہے۔

اس لیے میری رائے یہی رہی ہے کہ بجلی کے بل ہی اس حکومت کی سب سے بڑی اپوزیشن بن چکے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) 2013کے مقام ہی پر کھڑی ہے۔ تب لوڈ شیڈنگ ختم نہ کی جاتی تو سیاست نہیں بچتی تھی۔ آج بجلی سستی نہ کی جاتی تو سیاست نہیں بچتی تھی۔ لیکن تب مسلم لیگ (ن) نے تین سال میں دس دس گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ختم کر کے دکھا دی تھی۔ آج حکومت کے پہلے سال کے خاتمہ پر ہی شہباز شریف نے بجلی سستی کر دی ہے۔

بجلی کی قیمت میں بلا شبہ ریکارڈ کمی کی گئی ہے اس کے اچھے نتائج بھی ہوں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے سیاسی مخالفین پر بجلی کی قیمت میں اتنی بڑی کمی یقینا بجلی بن کر ہی گری ہے۔ ان کے لیے یہ کمی سیاسی دھچکے سے کم نہیں۔ ایک سال پہلے جب پاکستان مسلم لیگ (ن) نے مرکزی حکومت سنبھالی تھی تو سب کہتے تھے کہ مرکزی حکومت نہ لی جائے۔ مرکزی حکومت سنبھالنا ایک سیاسی خودکشی کے مترادف ہے۔ معیشت کی حالت ایسی نہیں کہ حکومت لی جائے۔

سخت فیصلے کرنے ہونگے۔ آئی ایم ایف نے جان کھا لینی ہے۔ بجلی مہنگی کرنی ہوگی۔ سب کچھ مزید مہنگا ہو جائے گا۔ اس لیے حکومت سے دور رہا جائے لیکن کیا کسی کو اندازہ تھا کہ ایک سال بعد شہباز شریف بجلی کی قیمت میں تاریخ کی سب سے بڑی کمی کر دیں گے۔ آج ایسا لگ رہا ہے کہ سب کے سیاسی تجزئیے اور معاشی ماہرین کے معاشی تجزئیے سب غلط ہو گئے ہیں۔ حالات بدل رہے ہیں اور کسی کو اس کا اندازہ بھی نہیں تھا۔

میں سمجھتا ہوں کہ پیپلزپارٹی نے بھی وزارتیں اسی لیے نہیں لی تھیں کہ انھیں بھی یہی خیال تھا کہ مرکزی حکومت سے دور رہنا ہے۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ پی ڈی ایم کی پہلی حکومت کی طرح اس حکومت میں بھی معاشی مسائل زیادہ رہیں گے۔ مہنگائی بڑھے گی، ڈالر اوپر جائے گا، بجلی مہنگی ہوگی، جس کا سیاسی نقصان ہوگا۔

وہ اس سیاسی نقصان سے بچنے اور بعد میں ن لیگ کو ہونے والے سیاسی نقصان کا فائدہ اٹھانے کے لیے بیٹھے ہوئے تھے۔ انھوں نے بلاشبہ شہبازشریف کو وزارت عظمیٰ کے لیے ووٹ تو دیا تھا۔ لیکن ان کا سیاسی تجزیہ یہی تھا کہ یہ حکومت زیادہ دن نہیں چل سکے گی۔ معاشی بدحالی کے بوجھ تلے دب کر خود بخود گر جائے گی۔ اس کو گرانے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔ اس لیے ابھی اس حکومت کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔

لیکن شہباز شریف نے صرف سیاسی حریفوں کے ہی نہیں بلکہ سیاسی حلیفوں کے سیاسی تجزئیے بھی غلط ثابت کر دیے ہیں۔ ایک سال قبل کیے جانے والے تمام سیاسی تجزئیے غلط ثابت ہو گئے ۔ ایک سال قبل جو ملک ڈیفالٹ کر رہا تھا اس کی معیشت سنبھل گئی ہے۔ سیاسی مخالفین حیران ہیں وہ ملک کو سری لنکا اور ڈھاکا بنانے کی تیاری کر رہے تھے لیکن یہاں تو معاملہ ہی الٹ گیا ہے۔ لوگ بجلی کا یونٹ سو روپے کا ہونے کی پیش گوئی کر رہے تھے اور یہاں قیمتیں کم ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ سب تدبیریں الٹی ہوگئی ہیں۔ اس لیے سب حیران ہیں۔

صرف بجلی ہی سستی نہیں ہوئی بلکہ مارچ میں مہنگائی بھی ساٹھ سال کی کم ترین سطح پر ریکارڈ کی گئی ہے۔ مہنگائی کی شرح کے کم ہونے کا ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا ہے۔ کہاں مہنگائی بڑھنے کے ریکارڈ بن رہے تھے کہاں مہنگائی کم ہونے کا ساٹھ سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔ اس کی بھی کسی کو توقع نہیں تھی۔ سب کی رائے تھی کہ مہنگائی بڑھنے کا ریکارڈ بنے گا۔ سب کچھ مہنگا ہو جائے گا۔ لیکن یہاں تو مہنگائی کم ہونے کا ریکارڈ بننا شروع ہو گیا ہے۔ یہ ریکارڈ بجلی سستی ہونے سے پہلے بن گیا ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ بجلی مزید سستی کی جائے گی۔ یہ بھی اچھی خبر ہے۔ مجھے اندازہ ہے کہ ابھی تو پاکستانی آئی پی پی کے ساتھ معاملات از سر نو طے کیے گئے ہیں۔ ابھی چائنیز آئی پی پی کے ساتھ معاملات طے کیے جانے ہیں۔ چائنیز کا یہی موقف تھا کہ پہلے آپ پاکستانی آئی پی پی کے ساتھ از سر نو معاملات طے کر لیں پھر ہم کریں گے۔ اس لیے امید یہی ہے کہ اب چائنیز آئی پی پی کے ساتھ جب معاملات طے ہونگے تو بجلی مزید سستی ہو جائے گی۔ اس ماحول میں جب دنیا میں ہر طرف مہنگائی کا شور ہے۔ ایسے میں پاکستان میں بجلی سستی ہونا ایک بڑا واقع ہے۔

ایک طرف ٹرمپ کے ٹیرف کی وجہ سے پوری دنیا کی عالمی مالیاتی منڈیاں کریش کر گئی ہیں۔ عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں سرمایہ کاروں کے اربوں نہیں کھربوں ڈالر ڈوب گئے ہیں۔ امریکی اسٹاک مارکیٹ میں بھی بھونچال ہے۔ عالمی کساد بازاری کی بات کی جا رہی ہے۔ دوسری طرف پاکستانی اسٹاک مارکیٹ نہ صرف مستحکم رہی ہے بلکہ اس میں اضافہ بھی ہوا ہے۔ مجھے امید ہے کہ جب مئی میں بجلی کے بل آئیں گے تو لوگوں کو بل کم ہونے کا احساس ہوگا۔ اس سے پہلے وزیراعظم سولر صارفین کے ریٹ ریورس کرنے کی سمری کو بھی مسترد کر چکے ہیں۔ جس سے ہزاروں نہیں لاکھوں سولر صارفین کو تحفظ ملا ہے۔

صنعتی صارفین کے لیے گھر یلو صارفین سے کچھ زیادہ بجلی سستی کی گئی ہے۔ ایک رائے ہے کہ اس وقت ہمارے برآمد کنندگان کو مہنگی بجلی کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں مقابلہ کرنے میں مشکل پیش آرہی تھی۔ اب ان کے لیے مقابلہ کرنا آسان ہوگا۔

ٹیرف کا اثر بھی سستی بجلی کم کرے گی۔ اس لیے برآمد کنندگان کے گلے شکوے بھی کافی حد تک کم ہوئے ہیں۔صنعتی سستی بجلی صنعتوں کا پہیہ چلانے میں مدد کرے گی۔ صنعتوں کا پہیہ چلے گا تو روزگار کے مواقع پیدا ہونگے اور معیشت کا پہیہ بھی چلے گا۔ اس لیے سستی بجلی معاشی استحکام کا نیا باب کھولے گی اور پاکستان معاشی طور پر مزید مستحکم ہوگا۔ اس لیے ہم ویلڈن شہباز شریف ہی کہہ سکتے ہیں۔

.

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ا ئی پی پی کے ساتھ بجلی کی قیمت میں شہباز شریف نے مرکزی حکومت کم ہونے کا بجلی کے بل کا ریکارڈ سستی بجلی بجلی سستی صارفین کے مسلم لیگ ایک سال رہے تھے گیا ہے گئی ہے تھا کہ اس لیے کے لیے

پڑھیں:

سستی بجلی، معیشت کا استحکام

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے عوام کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں 7.41روپے اور صنعتی صارفین کے لیے 7.69 روپے فی یونٹ کمی کا اعلان کردیا۔

انھوں نے کہا کہ آیندہ پانچ سال میں گردشی قرضوں کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے گا، بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی سے معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی، سالہا سال سے بند پڑے زنگ آلود سرکاری پاور پلانٹس فروخت کرنا ہوں گے، ڈسکوز کو پرائیویٹائز یا پروفیشنلائزکیاجائے گا، سالانہ 600 ارب روپے کی بجلی چوری کا مکمل خاتمہ کرنا ہوگا۔

 بجلی کی قیمتوں میں واضح کمی کا اعلان ملکی معیشت کے لیے بڑی خوش خبری اور ایک تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔ حکومت نے بجلی سستی کر کے بڑا ریلیف دیا ہے جس سے لوگوں کی قوت خرید بہتر ہوگی اور تجارتی سرگرمیاں بھی بحال ہوں گی۔ بلاشبہ اس اعلان کے بعد عوام میں خوشی کی لہر دوڑگئی ہے، ریلیف پیکیج گھریلو صارفین اور انڈسٹری دونوں کے لیے خوش آیند ہے، اس اقدام سے برآمدات میں بہتری آئے گی، عوام کو امید ہے کہ حکومت مزید اقدامات اٹھائے گی تاکہ توانائی کے شعبے میں استحکام اور افورڈ ایبل قیمتوں کا نظام قائم ہو سکے۔ بجلی کی قیمتوں میں کمی سے نہ صرف عوام کو فائدہ ہوگا، بلکہ یہ ملک کی معیشت پر بھی مثبت اثرات ڈالے گی۔

 درحقیقت ماضی میں آئی پی پیز سے کیے گئے معاہدے، بجلی چوری، ٹرانسمیشن لائنز کے نقصانات اور دیگر چیلنجوں کی وجہ سے عوام کو ریلیف فراہم نہیں کیا جاسکا۔ حکومت کی جانب سے آئی پی پیز معاہدوں پر نظر ثانی اور بجلی کی قیمتیں کم کرنے کی جانب مثبت پیشرفت سے بجلی صارفین کو سکھ کا سانس میسر آیا ہے۔

ماضی میں آئی پی پیز سے یک طرفہ شرائط پر کیے گئے معاہدوں سے صارفین پر ناروا بوجھ پڑا اور نوبت بہ ایں جا رسید کہ مہنگی بجلی کے سبب گھریلو و کمرشل صارفین سراپا احتجاج اور صنعتیں بندش کا شکار ہوگئیں۔ گو اب بھی بجلی کے نرخ پاکستان میں ہمسایہ ممالک کی نسبت کئی گنا زیادہ ہیں جس کے سبب نہ صرف عام گھریلو صارف کے لیے بلوں کی ادائیگی دشوار ہو چکی ہے بلکہ صنعتوں کی پیداواری لاگت بھی بے پناہ بڑھ چکی ہے اور بڑی حد تک اسی بنا پر گزشتہ دو‘ تین برس سے معیشت سخت بحران سے دوچار ہے۔

عالمی بینک کی حالیہ ڈویلپمنٹ اپ ڈیٹ پاور سیکٹر ڈسٹری بیوشن اصلاحات رپورٹ میں بھی پاکستان کے پاور سیکٹر کو اقتصادی ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ قرار دیا گیا ہے، نیز پاور جنریشن میں جدید ٹیکنالوجی کا فقدان، بجلی کی ترسیل اور تقسیم کی ناقص منصوبہ بندی کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ اب یہ امر تسلی بخش ہے کہ حکومت کی جانب سے بجلی کے نرخوں میں کمی کی تدابیر کی جا رہی ہیں اور بجلی پیدا کرنے والے خود مختار کارخانوں یعنی آئی پی پیز سے کیے گئے معاہدوں پر نظر ثانی ہو رہی ہے۔

یہ امر ہر کسی پر عیاں ہے کہ ان معاہدوں کی بعض شقیں قومی مفادات سے صریح متصادم ہیں، جن میں سے ایک بجلی گھروں کو پوری پیداواری صلاحیت کے مطابق ادائیگی ہے، خواہ طلب میں کمی کی وجہ سے ایک یونٹ بجلی بھی خرید نہ کی گئی ہو۔ مزید برآں ملکی کرنسی کے بجائے امریکی ڈالروں میں ادائیگی کی وجہ سے زرِمبادلہ کے ذخائر پر غیر ضروری دباؤ پڑتا ہے۔ دوسری جانب بجلی کی پیداوار اور خرید کے لیے ملٹی پلیئر مارکیٹ کے قیام سے اس شعبے میں اجارہ داری کا خاتمہ ہونے اور موثر و شفاف مسابقتی مارکیٹ قائم ہونے کی امید ہے۔

مسابقتی نظام بجلی کے نرخوں میں کمی لانے کا بھی باعث بنے گا، البتہ اس نظام سے حقیقی فائدہ اسی وقت ہو سکتا ہے کہ جب تقسیم کار کمپنیوں کے متبادل سپلائر اپنا جدید ترسیلی نظام بھی قائم کریں۔ دوسری جانب بجلی کے نرخ کم کرنے کے لیے حکومت کو بجلی بلوں میں شامل متعدد ٹیکسوں پر بھی نظر ثانی کرنی چاہیے۔ ایک عام گھریلو صارف سے حکومت کم و بیش 24 فیصد ٹیکس وصول کرتی ہے۔ کمرشل بلوں میں 37 فیصد اور صنعتی بلوں میں 27 فیصد ٹیکسز شامل ہیں۔ سیلز ٹیکس (18 فیصد)، ایڈوانس انکم ٹیکس، جو صنعتی، گھریلو اور کمرشل صارفین کے لیے بالترتیب پانچ فیصد،7.5 فیصد اور 12 فیصد ہے، ایکسٹرا ٹیکس اور مزید ٹیکس کے علاوہ الیکٹریسٹی ڈیوٹی بھی بجلی بلوں میں صارفین سے وصول کی جاتی ہے۔

چند ماہ قبل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی اجلاس میں سیکریٹری پاور نے انکشاف کیا تھا کہ بجلی بلوں پر عائد ٹیکسوں کی مد میں حکومت 860 ارب روپے سالانہ حاصل کر رہی ہے، اگر حکومت کی جانب سے یہ ٹیکس کم کیے جائیں تو بجلی کی قیمت میں خاطر خواہ کمی آ سکتی ہے۔ ایک طرف بجلی مہنگی ترین ہے تو اس پر طرہ یہ کہ اس کے ساتھ جانے اور انجانے ٹیکسوں کی حد بجلی کی قیمت سے بھی زیادہ ہو چکی ہے جس کا اثر پورے ملک کی معاشی گراؤٹ کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ 2007 سے 2020 کے دوران توانائی کے شعبے نے ملکی معیشت کو جو نقصان پہنچایا اس کا تخمینہ 82 ارب ڈالر لگایا گیا جس سے فی کس قومی پیداوار میں 23 فیصد کمی ہوئی۔ 

بیروزگاری بڑھنے سے غربت میں اضافہ ہوا۔ گویا جتنے قرضے پاکستان پر چڑھے تقریباً اتنا ہی نقصان توانائی کے شعبے نے پاکستان کو صرف 13 سالوں میں پہنچایا۔ دراصل توانائی کا بحران ملک میں ترقی کی راہ کو مسدود کر چکا ہے۔ پیداواری لاگت اتنی بڑھ چکی کہ برآمد کنندگان کے لیے اب ممکن نہیں کہ وہ عالمی سطح پر مقابلہ کر سکیں، پیداواری لاگت کا ایک اثر جہاں صنعتی شعبے پر پڑا وہیں زرعی شعبے میں بھی قیمتیں اتنی بڑھ گئیں کہ فوڈ سیکیورٹی کا مسئلہ پیدا ہو گیا۔ ملک کی ایک بڑی آبادی کو، جو خط غربت سے نیچے جا چکی ہے، دو وقت کا کھانا میسر نہیں رہا۔ کسان کے پاس کبھی بیج خریدنے کے پیسے نہیں تو کبھی کھاد۔

توانائی کے متبادل ذرایع کی جانب منتقلی سے روزگار کے زیادہ مواقع، مقامی صنعتوں کی حوصلہ افزائی، فضائی معیار میں بہتری اور انرجی سیکیورٹی کو تقویت کی امید کی جاتی ہے۔ تاہم، سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اس طرح کے سماجی اور معاشی فوائد حاصل کر سکتا ہے؟ انٹرنیشنل رینیو ایبل انرجی ایجنسی(IRENA) کے اندازوں کے مطابق، قابل تجدید توانائی کا حصہ دوگنا کرنے سے جی ڈی پی میں 0.2 سے 4 فیصد اضافہ ہوسکتا ہے اور فوسل فیول ٹیکنالوجی کے مقابلے میں دوگنا ملازمتیں پیدا ہوسکتی ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں ایندھن کی درآمدات مجموعی درآمدات پر غالب ہیں، بچت کے مواقع زیادہ ہیں۔

توانائی کے متبادل ذرایع کے فروغ سے یوٹیلیٹی بلوں میں کمی سے لے کر صحت عامہ کی بہتری تک فوائد حاصل ہوں گے۔قابل تجدید توانائی کی ٹیکنالوجی کو اپنانے کا براہ راست تعلق گھریلو بجٹ اور اخراجات کے طریقوں میں تبدیلیاں لانے سے ہے۔ شمسی اور توانائی کے دیگر صاف ذرایع کے استعمال سے بجلی کے بلوں میں کمی آئی ہے۔ پاکستان کے کچھ دور افتادہ دیہات میں، جہاں بجلی تک رسائی کبھی ایک خواب تھا، قابل تجدید توانائی روشنی اور امید لا رہی ہے۔

بعض ماہرین توانائی کا یہ بھی خیال ہے کہ ملک میں بجلی پیدا کرنے والے کارخانوں کو کیپیسیٹی پیمنٹس کا مسئلہ ضرورت سے زیادہ اچھالا گیا۔ صرف کپیسٹی پیمنٹ ہی کے باعث ملک میں بجلی مہنگی اور اس شعبے میں حکومت کو سرکلر ڈیبٹ (گردشی قرضوں) کا سامنا نہیں بلکہ اس مسئلے کے دیگر عوامل بھی ہیں جن پر جان بوجھ کر نظر نہیں ڈالی جاتی۔ اس کے ساتھ بجلی کی ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن میں ہونے والے نقصانات، چوری اور سسٹم کی ناکاریاں، ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے دیگر نقصانات وغیرہ کو بھی بجلی کے صارف سے وصول کیا جا رہا ہے۔

توانائی کے شعبے میں گردشی قرضے کا کُل حجم اب ملک کے دفاعی بجٹ سے بڑھ چکا ہے۔ ماضی میں روپے کی قدر میں بڑی کمی،کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ زیادہ ہونے کے باعث ادائیگیوں پر بھی بہت بڑا اور منفی اثر پڑا ہے۔ جب کہ حکومت کی جانب سے بجلی گھروں کو چلانے کے لیے میرٹ آرڈر کی بہت کم پیروی کی جا رہی ہے کیوں کہ زیادہ موثر پلانٹس ملک کے جنوبی حصے میں ہیں۔ شمالی علاقوں میں ان پلانٹس کی اکثریت ہے جو ناکارہ ہیں۔ مزید یہ کہ پیک آور میں بجلی کی ڈیمانڈ، موسمی حالات اور دیگر عوامل بھی بجلی کی قیمتیں بڑھانے کا باعث بن رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر کسی کو اس صورتِ حال کا ذمے دار ٹھہرایا جائے تو یہ وہ حکومتیں اور پالیسی ساز لوگ ہیں جنھوں نے وقت کے ساتھ ساتھ ان پالیسیوں کو تبدیل کرنے یا ان میں ضروری ترامیم کرنے کی کوشش تک نہیں کی جب کہ ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن میں سرمایہ کاری کیے بغیر جنریشن کی صلاحیتوں میں اضافہ کرتے رہے۔بجلی کی قیمتوں میں واضح کمی کے حوالے سے ایک مستقل پالیسی کی ضرورت ہے، اگر صنعتی اور پیداواری شعبے کو مہمیز لگانی ہے تو توانائی کے نرخوں کو کم ترین سطح پر برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سستی بجلی، معیشت کا استحکام
  • بجلی کے بلوں میں پی ٹی وی فیس ختم کرنے کا فیصلہ
  • عوام کو معاشی ریلیف ہمیشہ ن لیگ کے دور میں ہی ملتا ہے، نواز شریف
  • بجلی کی قیمتوں میں کمی، حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف سے بڑا مطالبہ کردیا
  • سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وفاقی حکومت نہروں کے منصوبے پر کام کرسکے، وزیراعلیٰ سندھ
  • سستی بجلی، ترقی کی راہ ہموار، روزگار ملے گا: سیاسی رہنما 
  • بجلی کے نرخوں میں کمی؛ پنجاب حکومت وزیرِاعظم کے تاریخی فیصلے کا خیرمقدم کرتی ہے؛ مریم نواز
  • ایک ٹولہ پاکستان کو ڈیفالٹ کرنے کیلئے تمام حدیں پار کر گیا،وزیراعظم شہباز شریف
  • حکومت سنبھالی تو ملک ڈیفالٹ کے دہانے پر، آئی ایم ایف بات سننے کو تیار نہیں تھا، شہباز شریف