سستی بجلی، معیشت کا استحکام
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے عوام کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں 7.41روپے اور صنعتی صارفین کے لیے 7.69 روپے فی یونٹ کمی کا اعلان کردیا۔
انھوں نے کہا کہ آیندہ پانچ سال میں گردشی قرضوں کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے گا، بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی سے معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی، سالہا سال سے بند پڑے زنگ آلود سرکاری پاور پلانٹس فروخت کرنا ہوں گے، ڈسکوز کو پرائیویٹائز یا پروفیشنلائزکیاجائے گا، سالانہ 600 ارب روپے کی بجلی چوری کا مکمل خاتمہ کرنا ہوگا۔
بجلی کی قیمتوں میں واضح کمی کا اعلان ملکی معیشت کے لیے بڑی خوش خبری اور ایک تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔ حکومت نے بجلی سستی کر کے بڑا ریلیف دیا ہے جس سے لوگوں کی قوت خرید بہتر ہوگی اور تجارتی سرگرمیاں بھی بحال ہوں گی۔ بلاشبہ اس اعلان کے بعد عوام میں خوشی کی لہر دوڑگئی ہے، ریلیف پیکیج گھریلو صارفین اور انڈسٹری دونوں کے لیے خوش آیند ہے، اس اقدام سے برآمدات میں بہتری آئے گی، عوام کو امید ہے کہ حکومت مزید اقدامات اٹھائے گی تاکہ توانائی کے شعبے میں استحکام اور افورڈ ایبل قیمتوں کا نظام قائم ہو سکے۔ بجلی کی قیمتوں میں کمی سے نہ صرف عوام کو فائدہ ہوگا، بلکہ یہ ملک کی معیشت پر بھی مثبت اثرات ڈالے گی۔
درحقیقت ماضی میں آئی پی پیز سے کیے گئے معاہدے، بجلی چوری، ٹرانسمیشن لائنز کے نقصانات اور دیگر چیلنجوں کی وجہ سے عوام کو ریلیف فراہم نہیں کیا جاسکا۔ حکومت کی جانب سے آئی پی پیز معاہدوں پر نظر ثانی اور بجلی کی قیمتیں کم کرنے کی جانب مثبت پیشرفت سے بجلی صارفین کو سکھ کا سانس میسر آیا ہے۔
ماضی میں آئی پی پیز سے یک طرفہ شرائط پر کیے گئے معاہدوں سے صارفین پر ناروا بوجھ پڑا اور نوبت بہ ایں جا رسید کہ مہنگی بجلی کے سبب گھریلو و کمرشل صارفین سراپا احتجاج اور صنعتیں بندش کا شکار ہوگئیں۔ گو اب بھی بجلی کے نرخ پاکستان میں ہمسایہ ممالک کی نسبت کئی گنا زیادہ ہیں جس کے سبب نہ صرف عام گھریلو صارف کے لیے بلوں کی ادائیگی دشوار ہو چکی ہے بلکہ صنعتوں کی پیداواری لاگت بھی بے پناہ بڑھ چکی ہے اور بڑی حد تک اسی بنا پر گزشتہ دو‘ تین برس سے معیشت سخت بحران سے دوچار ہے۔
عالمی بینک کی حالیہ ڈویلپمنٹ اپ ڈیٹ پاور سیکٹر ڈسٹری بیوشن اصلاحات رپورٹ میں بھی پاکستان کے پاور سیکٹر کو اقتصادی ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ قرار دیا گیا ہے، نیز پاور جنریشن میں جدید ٹیکنالوجی کا فقدان، بجلی کی ترسیل اور تقسیم کی ناقص منصوبہ بندی کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ اب یہ امر تسلی بخش ہے کہ حکومت کی جانب سے بجلی کے نرخوں میں کمی کی تدابیر کی جا رہی ہیں اور بجلی پیدا کرنے والے خود مختار کارخانوں یعنی آئی پی پیز سے کیے گئے معاہدوں پر نظر ثانی ہو رہی ہے۔
یہ امر ہر کسی پر عیاں ہے کہ ان معاہدوں کی بعض شقیں قومی مفادات سے صریح متصادم ہیں، جن میں سے ایک بجلی گھروں کو پوری پیداواری صلاحیت کے مطابق ادائیگی ہے، خواہ طلب میں کمی کی وجہ سے ایک یونٹ بجلی بھی خرید نہ کی گئی ہو۔ مزید برآں ملکی کرنسی کے بجائے امریکی ڈالروں میں ادائیگی کی وجہ سے زرِمبادلہ کے ذخائر پر غیر ضروری دباؤ پڑتا ہے۔ دوسری جانب بجلی کی پیداوار اور خرید کے لیے ملٹی پلیئر مارکیٹ کے قیام سے اس شعبے میں اجارہ داری کا خاتمہ ہونے اور موثر و شفاف مسابقتی مارکیٹ قائم ہونے کی امید ہے۔
مسابقتی نظام بجلی کے نرخوں میں کمی لانے کا بھی باعث بنے گا، البتہ اس نظام سے حقیقی فائدہ اسی وقت ہو سکتا ہے کہ جب تقسیم کار کمپنیوں کے متبادل سپلائر اپنا جدید ترسیلی نظام بھی قائم کریں۔ دوسری جانب بجلی کے نرخ کم کرنے کے لیے حکومت کو بجلی بلوں میں شامل متعدد ٹیکسوں پر بھی نظر ثانی کرنی چاہیے۔ ایک عام گھریلو صارف سے حکومت کم و بیش 24 فیصد ٹیکس وصول کرتی ہے۔ کمرشل بلوں میں 37 فیصد اور صنعتی بلوں میں 27 فیصد ٹیکسز شامل ہیں۔ سیلز ٹیکس (18 فیصد)، ایڈوانس انکم ٹیکس، جو صنعتی، گھریلو اور کمرشل صارفین کے لیے بالترتیب پانچ فیصد،7.
چند ماہ قبل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی اجلاس میں سیکریٹری پاور نے انکشاف کیا تھا کہ بجلی بلوں پر عائد ٹیکسوں کی مد میں حکومت 860 ارب روپے سالانہ حاصل کر رہی ہے، اگر حکومت کی جانب سے یہ ٹیکس کم کیے جائیں تو بجلی کی قیمت میں خاطر خواہ کمی آ سکتی ہے۔ ایک طرف بجلی مہنگی ترین ہے تو اس پر طرہ یہ کہ اس کے ساتھ جانے اور انجانے ٹیکسوں کی حد بجلی کی قیمت سے بھی زیادہ ہو چکی ہے جس کا اثر پورے ملک کی معاشی گراؤٹ کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ 2007 سے 2020 کے دوران توانائی کے شعبے نے ملکی معیشت کو جو نقصان پہنچایا اس کا تخمینہ 82 ارب ڈالر لگایا گیا جس سے فی کس قومی پیداوار میں 23 فیصد کمی ہوئی۔
بیروزگاری بڑھنے سے غربت میں اضافہ ہوا۔ گویا جتنے قرضے پاکستان پر چڑھے تقریباً اتنا ہی نقصان توانائی کے شعبے نے پاکستان کو صرف 13 سالوں میں پہنچایا۔ دراصل توانائی کا بحران ملک میں ترقی کی راہ کو مسدود کر چکا ہے۔ پیداواری لاگت اتنی بڑھ چکی کہ برآمد کنندگان کے لیے اب ممکن نہیں کہ وہ عالمی سطح پر مقابلہ کر سکیں، پیداواری لاگت کا ایک اثر جہاں صنعتی شعبے پر پڑا وہیں زرعی شعبے میں بھی قیمتیں اتنی بڑھ گئیں کہ فوڈ سیکیورٹی کا مسئلہ پیدا ہو گیا۔ ملک کی ایک بڑی آبادی کو، جو خط غربت سے نیچے جا چکی ہے، دو وقت کا کھانا میسر نہیں رہا۔ کسان کے پاس کبھی بیج خریدنے کے پیسے نہیں تو کبھی کھاد۔
توانائی کے متبادل ذرایع کی جانب منتقلی سے روزگار کے زیادہ مواقع، مقامی صنعتوں کی حوصلہ افزائی، فضائی معیار میں بہتری اور انرجی سیکیورٹی کو تقویت کی امید کی جاتی ہے۔ تاہم، سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اس طرح کے سماجی اور معاشی فوائد حاصل کر سکتا ہے؟ انٹرنیشنل رینیو ایبل انرجی ایجنسی(IRENA) کے اندازوں کے مطابق، قابل تجدید توانائی کا حصہ دوگنا کرنے سے جی ڈی پی میں 0.2 سے 4 فیصد اضافہ ہوسکتا ہے اور فوسل فیول ٹیکنالوجی کے مقابلے میں دوگنا ملازمتیں پیدا ہوسکتی ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں ایندھن کی درآمدات مجموعی درآمدات پر غالب ہیں، بچت کے مواقع زیادہ ہیں۔
توانائی کے متبادل ذرایع کے فروغ سے یوٹیلیٹی بلوں میں کمی سے لے کر صحت عامہ کی بہتری تک فوائد حاصل ہوں گے۔قابل تجدید توانائی کی ٹیکنالوجی کو اپنانے کا براہ راست تعلق گھریلو بجٹ اور اخراجات کے طریقوں میں تبدیلیاں لانے سے ہے۔ شمسی اور توانائی کے دیگر صاف ذرایع کے استعمال سے بجلی کے بلوں میں کمی آئی ہے۔ پاکستان کے کچھ دور افتادہ دیہات میں، جہاں بجلی تک رسائی کبھی ایک خواب تھا، قابل تجدید توانائی روشنی اور امید لا رہی ہے۔
بعض ماہرین توانائی کا یہ بھی خیال ہے کہ ملک میں بجلی پیدا کرنے والے کارخانوں کو کیپیسیٹی پیمنٹس کا مسئلہ ضرورت سے زیادہ اچھالا گیا۔ صرف کپیسٹی پیمنٹ ہی کے باعث ملک میں بجلی مہنگی اور اس شعبے میں حکومت کو سرکلر ڈیبٹ (گردشی قرضوں) کا سامنا نہیں بلکہ اس مسئلے کے دیگر عوامل بھی ہیں جن پر جان بوجھ کر نظر نہیں ڈالی جاتی۔ اس کے ساتھ بجلی کی ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن میں ہونے والے نقصانات، چوری اور سسٹم کی ناکاریاں، ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے دیگر نقصانات وغیرہ کو بھی بجلی کے صارف سے وصول کیا جا رہا ہے۔
توانائی کے شعبے میں گردشی قرضے کا کُل حجم اب ملک کے دفاعی بجٹ سے بڑھ چکا ہے۔ ماضی میں روپے کی قدر میں بڑی کمی،کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ زیادہ ہونے کے باعث ادائیگیوں پر بھی بہت بڑا اور منفی اثر پڑا ہے۔ جب کہ حکومت کی جانب سے بجلی گھروں کو چلانے کے لیے میرٹ آرڈر کی بہت کم پیروی کی جا رہی ہے کیوں کہ زیادہ موثر پلانٹس ملک کے جنوبی حصے میں ہیں۔ شمالی علاقوں میں ان پلانٹس کی اکثریت ہے جو ناکارہ ہیں۔ مزید یہ کہ پیک آور میں بجلی کی ڈیمانڈ، موسمی حالات اور دیگر عوامل بھی بجلی کی قیمتیں بڑھانے کا باعث بن رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر کسی کو اس صورتِ حال کا ذمے دار ٹھہرایا جائے تو یہ وہ حکومتیں اور پالیسی ساز لوگ ہیں جنھوں نے وقت کے ساتھ ساتھ ان پالیسیوں کو تبدیل کرنے یا ان میں ضروری ترامیم کرنے کی کوشش تک نہیں کی جب کہ ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن میں سرمایہ کاری کیے بغیر جنریشن کی صلاحیتوں میں اضافہ کرتے رہے۔بجلی کی قیمتوں میں واضح کمی کے حوالے سے ایک مستقل پالیسی کی ضرورت ہے، اگر صنعتی اور پیداواری شعبے کو مہمیز لگانی ہے تو توانائی کے نرخوں کو کم ترین سطح پر برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بجلی کی قیمتوں میں حکومت کی جانب سے توانائی کے شعبے ڈسٹری بیوشن ا ئی پی پیز بلوں میں بھی بجلی سے بجلی بجلی کے ملک میں عوام کو کے لیے رہی ہے چکی ہے
پڑھیں:
وزیر توانائی اویس لغاری نے عوام کو ایک اور ریلیف کی خوشخبری دے دی
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے بجلی کی قیمت میں مزید کمی کی خوشخبری سناتے ہوئے کہا ہے کہ جن کمپنیوں سے معاہدے ہوئے تھے ان سے ابھی بات چیت جاری
ہے اور بات بننے کی صورت میں عوام کو ایک بار پھر ریلیف فراہم کردیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بجلی کی قیمتوں میں 7 روپے 41 پیسے فی یونٹ کمی کا اعلان کردیا
نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر توانائی اویس لغاری نے بتایا کہ چینی پلانٹس سمیت 68 پلانٹس کے ساتھ بات چیت آج بھی جاری ہے اور چائنیز کے ساتھ ڈیٹ ری پروفائلنگ پر بھی کام ہو رہا ہے جبکہ ونڈ ، سولر اور حکومت کے کچھ پلانٹس سے بھی گفتگو ہو رہی ہے اور جب ان کے ساتھ معاہدوں پر نظرثانی مکمل ہوجائے گی اور اس سے جو فائدہ ہوگا اسے عوام تک پہنچایا جائے گا۔
اویس لغاری نے کہا کہ ہمارا فرض ہے کہ جو بوجھ اٹھا سکتے ہوں وہ اٹھائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریلیف دینے کے لیے ہمارے پاس مالی وسائل نہیں ہیں لیکن وزیراعظم کی قیادت میں ایک سال میں اصلاحات شروع کیں، آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظرثانی شروع کی جس کے باعث بجلی کی قیمت میں 7 روپے 41 پیسے کمی ہوئی۔
مزید پڑھیے: آئی ایم ایف کے انکار کے باوجود وفاقی وزیر اویس لغاری بجلی میں کمی کے لیے پرامید
وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ ہمارے اصلاحاتی عمل سے عالمی پارٹنرز کو اعتماد ملا اور پاور ڈویژن میں اصلاحات سے آئی ایم ایف کو قائل کر سکے۔
اویس لغاری نے کہا کہ ہم بینکوں کے ساتھ ایک معاہدے کے قریب ہیں، آئی پی پیز کے ساتھ لیٹ پیمنٹ چارجز میں ہمیں کئی سو ارب کی بچت ہوئی اور ہم نے عوام پر سے بجلی کی قیمتوں کا بوجھ ہٹا کر دکھایا۔
مزید پڑھیں: بجلی نرخ میں کمی کے بعد اب گھریلو، کمرشل اور انڈسٹریل صارفین کے بلز کس شرح سے آئیں گے؟
انہوں نے کہا کہ ہم تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ اگلے ہفتے سے بات چیت شروع کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اویس لغاری بجلی سستی بجلی کی قیمت بجلی کی قیمت میں مزید کمی قوم کو خوشخبری