نویں ایشیائی گیمز پر امریکہ نے سائبر حملے کیے، چین
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
میڈیا رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ شمال مشرقی چین کے صوبہ ہیلونگ جیانگ میں اہم نیٹ ورک انفارمیشن سسٹمز کو بیرون ملک سے بڑے پیمانے پر سائبر حملوں کا سامنا رہا۔ اسلام ٹائمز۔ چینی وزارت خارجہ نے ایک نئی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ نویں ایشیائی سرمائی کھیلوں کے دوران چین کے خلاف ہونے والے سائبر حملوں کے پیچھے امریکا اور اس کے اتحادی ممالک شامل تھے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق چین کے نیشنل کمپیوٹر وائرس ایمرجنسی رسپانس سینٹر اور نیشنل انجینئرنگ لیبارٹری برائے کمپیوٹر وائرس سے بچاؤ کی ٹیکنالوجی نے اس رپورٹ کو جاری کیا، جس میں انکشاف کیا گیا کہ شمال مشرقی چین کے صوبہ ہیلونگ جیانگ میں اہم نیٹ ورک انفارمیشن سسٹمز کو بیرون ملک سے بڑے پیمانے پر سائبر حملوں کا سامنا رہا۔
رپورٹ کے مطابق ان حملوں کا سراغ امریکا، نیدرلینڈز اور سنگاپور سمیت مختلف ممالک اور خطوں سے لگایا گیا۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے کہا کہ چین اس رپورٹ کا نوٹس لیتا ہے اور اس کے سامنے آنے والی بدنیتی پر مبنی سائبر سرگرمی پر شدید تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ یہ رپورٹ ایک بار پھر یہ ظاہر کرتی ہے کہ چین دنیا بھر میں سائبر حملوں کا سب سے بڑا شکار ہے، چین نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ذمہ دارانہ رویہ اپنائے، اپنے رویے کا جائزہ لے اور دوسروں پر تہمت لگانے سے باز رہے۔ یہ سائبر حملے چین کے لیے ایک سنگین تشویش کا باعث بنے ہیں اور چین نے عالمی سطح پر سائبر سیکیورٹی کے معاملے میں اپنی حفاظت کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سائبر حملوں حملوں کا چین کے
پڑھیں:
امریکی قومی سلامتی ایجنسی کے سربراہ جنرل ٹموتھی ہاؤگ بھی برطرف
امریکی خفیہ ادارے نیشنل سیکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) کے سربراہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ جنرل ٹموتھی ہاؤگ کو ایک سال سے کچھ زیادہ عرصے تک کام کرنے کے بعد برطرف کر دیا گیا ہے، تاہم حکام نے جنرل ٹموتھی ہاؤگ کو ہٹانے کی کوئی وجہ نہیں بتائی۔
ٹموتھی امریکی سائبر کمانڈ کے سربراہ کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے تھے، جو پینٹاگون کی سائبر وار فیئر باڈی ہے جو جارحانہ اور دفاعی سائبر کارروائیاں کرتی ہے۔
دی پوسٹ کے مطابق این ایس اے میں جنرل ٹموتھی کی نائب وینڈی نوبل کو بھی برطرف کر دیا گیا ہے اور پینٹاگون میں ایک اور عہدے پر تعینات کر دیا گیا ہے۔
این ایس اے امریکی حکومت کی سب سے بڑی اور سب سے خفیہ سگنل انٹیلی جنس ایجنسی ہے، پینٹاگون نے فوری طور پر اے ایف پی کی جانب سے تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
فروری 2024 میں تعینات ہونے والے ٹموتھی ہاؤگ اس سے قبل اعلیٰ سرکاری سائبر سیکیورٹی کے عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں جن میں کمانڈر ایلیٹ سائبر نیشنل مشن فورس کا عہدہ بھی شامل ہے۔
کانگریس کے ڈیموکریٹک رکن جم ہیمس نے اس خبر پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہاؤگ کی برطرفی سے ’بہت پریشان‘ ہیں۔
انہوں نے ’ایکس‘ پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں کہا کہ ’میں جنرل ہاؤگ کو ایک ایماندار اور واضح رہنما کے طور پر جانتا ہوں جنہوں نے قانون پر عمل کیا اور قومی سلامتی فورس قائم کی، مجھے ڈر ہے کہ یہی وہ خوبیاں ہیں جو اس انتظامیہ میں ان کی برطرفی کا سبب بن سکتی ہیں‘۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جنوری میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سے مسلح افواج کی قیادت میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی ہیں۔
انہوں نے فروری میں اعلیٰ امریکی فوجی افسر جنرل چارلس ’سی کیو‘ براؤن کو برطرف کر دیا تھا اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی حیثیت سے اپنی 4 سالہ مدت کے 2 سال سے بھی کم عرصے میں براؤن کی برطرفی کی کوئی وضاحت پیش نہیں کی تھی۔
ٹرمپ انتظامیہ وفاقی ملازمین کی بڑے پیمانے پر برطرفیوں کی قیادت کر رہی ہے اور اپنی دوسری مدت کے چند ماہ بعد ہی سرکاری اداروں کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
امریکی سائبر کمانڈ کے ڈپٹی کمانڈر ولیم جے ہارٹ مین اور این ایس اے کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر شیلا تھامس کو قائم مقام این ایس اے سربراہ اور نائب مقرر کیا گیا ہے۔
Post Views: 1