قاضی فائز عیسیٰ پر حملے کے الزام میں پاکستانیوں کے منسوخ کردہ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بحال
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
ذرائع کے مطابق حکومت نے پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف کارروائی روک دی ہے۔ مڈل ٹیمپل میں سابق چیف جسٹس کی آمد پر احتجاج اور گاڑی کو روکنے کے واقعے کے بعد وزارت داخلہ نے سخت نوٹس لیا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر لندن میں حملے کے الزام میں منسوخ کیے گئے تقریباً 2 درجن پاکستانیوں کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بحال کر دیئے گئے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف کارروائی روک دی ہے۔ مڈل ٹیمپل میں قاضی فائز عیسیٰ کی آمد پر احتجاج اور گاڑی کو روکنے کے واقعے کے بعد وزارت داخلہ نے سخت نوٹس لیا تھا۔ اس موقع پر بعض افراد کے خلاف قانونی اقدامات سمیت برطانیہ سے حوالگی کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔
.ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
راولپنڈی: افغان سٹیزن کارڈرکے حامل افراد کی گرفتاریاں شروع، 50 سے زائد افغان شہری رفیوجی کیمپ منتقل
راولپنڈی: افغان سٹیزن کارڈرکے حامل افراد کی گرفتاریاں شروع، 50 سے زائد افغان شہری رفیوجی کیمپ منتقل WhatsAppFacebookTwitter 0 4 April, 2025 سب نیوز
راولپنڈی(آئی پی ایس ) حکومتی ڈیڈلائن ختم ہونیکے بعد افغان شہریوں کے خلاف کارروائی تیز کردی گئی۔پولیس ذرائع کے مطابق افغان سٹیزن کارڈ کے حامل افراد کی گرفتاریاں شروع کردی گئی ہیں اور 50 سے زائد افغان شہریوں کو رفیوجی کیمپ منتقل کردیا گیا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والے خاندانوں کوبھی تحویل میں لیکرکیمپ منتقل کیاجائیگا، کارڈ کے حامل افراد کوکیمپ سے افغانستان بھجوایا جائیگا۔ذرائع کے مطابق پولیس کا مختلف علاقوں میں آپریشن جاری ہے اور یہ روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ پاکستان میں مقیم غیر قانونی افغان مہاجرین کے انخلا کی 31 مارچ 2025 کی ڈیڈلائن ختم ہو چکی ہے اور حکومت نے گزشتہ روز سے ان کی بیدخلی کے عمل کا آغاز کر دیا ہے۔وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق عید کی تعطیلات کے باعث یہ عمل یکم اپریل کو شروع نہیں ہو سکا تھا لیکن اب ملک بھر میں غیر قانونی افغان شہریوں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اس وقت مجموعی طور پر 21 لاکھ رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین موجود ہیں جب کہ وزارت سیفران کے ذرائع کے مطابق 14 لاکھ افغان مہاجرین قانونی طور پر رجسٹرڈ ہیں اور 8 لاکھ افغان شہری ایسے ہیں جو افغان سٹیزن کارڈ رکھتے ہیں لیکن ان کے قیام کو اب غیر قانونی تصور کیا جا رہا ہے۔