اپنے بیان میں علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کے حالات پر ہمیں شدید تشویش ہے۔ ریلوے ٹریک، روڈ راستے سبھی غیر محفوظ بن چکے ہیں۔ آئے روز مسافروں کو گاڑیوں سے اتار کر گولیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر نہیں ہے۔ بلوچستان میں بدامنی عروج پر ہے، یہاں کوئی شخص محفوظ نہیں ہے۔ بلوچستان کے حالات پر ہمیں شدید تشویش ہے۔ ریلوے ٹریک، روڈ راستے سبھی غیر محفوظ بن چکے ہیں۔ آئے روز مسافروں کو گاڑیوں سے اتار کر گولیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے جاری کردہ بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ جعلی مینڈٹ کی حامل حکومت پرامن احتجاج سے خائف ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائد سابق وزیراعلیٰ سردار اختر جان مینگل کے پرامن احتجاج کے راستے میں رکاؤٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ جمہوری وطن پارٹی کے رہنماء نوابزادہ گہرام خان بگٹی کو بلا جواز گرفتار کیا گیا ہے۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ پاکستان کی مقتدر قوتوں کو اب یہ بات سمجھ جانی چاہئے کہ جعلی مینڈٹ کے حامل مصنوعی لیڈروں کے پاس ملک و قوم کی قیادت کرنے کی صلاحیت اور اہلیت نہیں ہے۔ نا قوم ان پر اعتماد کرتی ہے نا ہی وہ قوم کی ترجمانی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں بھی امن و امان کی ابتر صورتحال اغواء برائے تاوان چوری اور ڈاکے سے تنگ آ کر ہزاروں ہندو خاندان پچھلے چھ ماہ میں نقل مکانی کرکے پاکستان چھوڑ چکے ہیں۔ وسیع پیمانے پر ہندو تاجروں کا ملک چھوڑ کر جانا افسوسناک ہے۔

.

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: علامہ مقصود نے کہا کہ

پڑھیں:

بلوچستان میں احتجاج جاری، اختر مینگل کا آج احتجاج کے اگلے مرحلے کا اعلان کرنے کا عندیہ

 

رائٹس ایکٹوسٹس کی حالیہ گرفتاریوں کے خلاف بی این پی کا احتجاج چھٹے روز میں داخل ، بلوچستان میںوائی فائی پھر بند، حکومتی وفد اور سردار اختر مینگل کے درمیان بات چیت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا
ہمارے جائز مطالبات پر مذاکرات کے لیے کل جو حکومتی وفد آیا تھا، ان کے پاس آزادانہ بات کرنے کا اختیار نہیں تھا، وہ ’پیغام رساں‘ تھے اور ان کے پاس کوئی پاور نہیں تھی، اختر مینگل

بلوچستان نیشنل پارٹی(بی این پی) مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل آج (جمعرات) کو احتجاج کے اگلے مرحلے کا اعلان کریں گے جبکہ رائٹس ایکٹوسٹس کی حالیہ گرفتاریوں کے خلاف ان کا احتجاج چھٹے روز میں داخل ہو گیا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز حکومتی وفد اور سردار اختر مینگل کے درمیان بات چیت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا تھا۔سردار اختر مینگل نے بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی چیف آرگنائزر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر رہنماؤں کی گرفتاریوں اور دھرنے پر پولیس کریک ڈاؤن کے خلاف وڈھ سے کوئٹہ تک ’لانگ مارچ‘ کا اعلان کیا تھا۔دھرنا اس وقت لک پاس پر جاری ہے ، جہاں ظہور احمد بلیدی، بخت محمد کاکڑ اور سردار نور احمد بنگلزئی پر مشتمل صوبائی حکومت کا وفد بی این پی-مینگل کے سربراہ سے مذاکرات کے لیے پہنچا تھا، لیکن انہیں دھرنا ختم کرنے پر راضی نہ کر سکا تھا۔آج سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں اختر مینگل کا کہنا تھا کہ وہ 3 اپریل ( جمعرات) کو شام 5 بجے نئے احتجاجی سلسلے کا اعلان کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے جائز مطالبات پر مذاکرات کے لیے کل جو حکومتی وفد آیا تھا، ان کے پاس آزادانہ بات کرنے کا اختیار نہیں تھا، مزید کہنا تھا کہ وہ ’پیغام رساں‘ اور ان کے پاس کوئی پاور نہیں تھی، جو ‘ان لوگوں کے پاس ہے جو اس صوبے کو حقیقی معنوں میں کنٹرول کرتے ہیں‘۔سربراہ بی این پی مینگل کا کہنا تھا کہ ہم 3 اپریل 2025 کو احتجاج کے اگلے مرحلے کا اعلان کریں گے ، مزید کہا کہ اگر انہیں (حکومت) یقین ہے کہ وہ ان مذاکرات سے ہماری توجہ ہٹا سکتے ہیں، تو یہ بات واضح ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر غلط اندازہ لگایا ہے۔ ایک علیحدہ پوسٹ میں سردار اختر مینگل نے لکھا کہ پورے بلوچستان میں انٹرنیٹ کا ’بلیک آؤٹ‘ ہو چکا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ کل رات سے بلوچستان میں تمام سیلولر نیٹ ورکس اور وائی فائی بند کر دیے گئے ، اس بلیک آؤٹ کا واحد مقصد مظلوموں کی آواز کو خاموش کرنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے سینئر اراکین دھرنے میں شامل ہونے جا رہے تھے ، لیکن ان کو منزل تک پہنچنے سے روک دیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ خندقیں کھودی گئی ہیں، مزید کنٹینر رکھے گئے اور فورسز کے اضافی دستے تعینات کر دیے گئے ، حکومت اپنے داغ دھونے کے لیے جو بھی کوشش کرتی ہے وہ اسے مزید داغدار کر دیتی ہے ۔ واضح رہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں نے جمعہ کی صبح تقریباً 9 بجے سردار اختر مینگل کے آبائی قصبے وڈھ سے کوئٹہ کے لیے مارچ شروع کیا تھا۔26 مارچ کو بی این پی۔مینگل نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے 250 سے زائد کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا، جبکہ مارچ کے شرکا مستونگ کے قریب پہنچے تھے تو ایک خودکش حملہ آور نے خود کو اڑا لیا تھا، تاہم سردار اختر مینگل اور دیگر محفوظ رہے تھے ۔

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان نیشنل پارٹی کا لکپاس کے قریب دھرنا جاری
  • 12 اپریل کو شہری پرامن احتجاج کے لیے نکلیں، آفاق احمد
  • شہری 12 اپریل کو پرامن احتجاج کے لیے نکلیں، آفاق احمد
  • علامہ مقصود ڈومکی کی ایم پی اے شیر محمد مغیری سے ملاقات
  • بلوچستان میں احتجاج جاری، اختر مینگل کا آج احتجاج کے اگلے مرحلے کا اعلان کرنے کا عندیہ
  • دہشت گرد بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنا چاہتے ہیں،رانا ثناء اللہ
  • امت مسلمہ مظلوم فلسطینی عوام اور یمن و لبنان کے مجاہدین کا ساتھ دے، علامہ مقصود ڈومکی
  • بی این پی کیساتھ مذاکرات جاری ہیں، اس پر میڈیا سے بات نہیں کرینگے، حکومت بلوچستان
  • غزہ کے مسلمانوں کی طرح پاراچنار کے عوام نے بھی عید حصار میں گذاری، علامہ ریاض نجفی