Islam Times:
2025-04-05@01:02:51 GMT

کیا ایران پر حملہ ہوگا؟

اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT

کیا ایران پر حملہ ہوگا؟

اسلام ٹائمز: امریکہ اسوقت اپنی تاریخ کے سب سے کمزور دور میں جی رہا ہے اور بہت سے عالمی تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ ملک تباہی کے دہانے پر ہے۔ اس تناظر میں وہ ایران سے جنگ جیسے ایک بڑے بحران اور چیلنج کا سامنا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ پس امریکہ کی یہ شیخیاں اور گیدڑ بھبکیاں ایران میں موجود انکے اندرونی ایجنٹوں کی حوصلہ افزائی کیلئے ہیں، لہذا ایران کو اندرونی فتنہ پروری سے ہوشیار رہنا ہوگا۔ تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی

ان دنوں سوشل میڈیا اور الیکٹرک میڈیا میں درج ذیل خبریں بکثرت دیکھنے کو مل رہی ہیں۔
1۔ ایک مخصوص امریکی جنگی جہاز کی خلیج فارس کی طرف روانگی۔
2۔ قطر میں امریکی بی ٹو بمبار طیاروں کی تعیناتی۔
3۔ خطے میں امریکی اڈوں کو الرٹ کر دیا گیا۔
4۔ ایران پر جلد بمباری کی جائے گی۔
5۔ کچھ عرصہ قبل اسرائیلی بمباری میں ایران کے دفاعی مراکز مکمل طور پر تباہ ہوگئے تھے۔
6۔ مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی کارگو پروازوں میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
7۔ امریکا نے ایران کو انتباہی پیغام بھیج دیا ہے۔
8۔ روس نے امریکا کو ایران پر حملے سے خبردار کیا ہے اور۔۔۔۔۔۔

ان خبروں کی روشنی میں یہ سوال بہت اہم ہے کہ
ا۔ غیر ملکی میڈیا اس طرح کی خبروں کو کیوں اہمیت دیتا ہے۔؟
ب۔ کیا امریکہ کے پاس ایران پر حملہ کرنے کے لیے ضروری شرائط ہیں۔؟
ج۔ کیا ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی رکاوٹیں ہیں۔؟
د۔ امریکہ کا مقابلہ کرنے میں ایران کی ممکنہ کمزوری کیا ہے۔؟
ان سوالوں کے جواب کے لیے چند نکات قابلِ غور ہیں۔
 1۔ تجربے سے معلوم ہوا ہے کہ امریکی جب بھی کسی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے قریب پہنچتے ہیں تو وہ مخصوص میڈیا آپریشنز کے ذریعے نفسیاتی دباؤ پیدا کرتے ہیں، تاکہ مذاکرات کو اپنی مرضی کے مطابق آگے بڑھا سکیں۔ حالانکہ وہ فوجی تصادم کے خواہاں نہیں ہوتے ہیں۔

2۔ ایران کے ناسازگار اقتصادی اور معاشی حالات کو بہانہ بنا کر بے اطمینانی پیدا کرنا  اور اندرونی انتشار پھیلانے کے منصوبے تیار کرنا، جیسے انہوں نے ماضی کی ناکام بغاوتوں میں باہر کے دباؤ کا سہارا لیا تھا۔ پس فوجی حملے کے پروپیگنڈے کا مقصد حزب اختلاف کو مضبوط کرنا اور ایران میں موجود انقلاب مخالف قوتوں کو اپنے ساتھ ملانا ہے۔
3۔ جو اعلان کیا گیا ہے، اس کے مطابق امریکہ دنیا کا سب سے زیادہ مقروض ملک ہے اور اس وقت شدید اقتصادی دباؤ میں ہے۔ امریکی معیشت شدید مشکلات کا شکار ہے، لہذا ٹرمپ اور اس کی کاروباری سرشت کے لیے دو ٹریلین ڈالر کی اس جنگ کو برداشت کرنا بالکل بھی قابل برداشت نہیں ہے۔ فوربس میگزین نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ایران کے ساتھ فوجی تنازعے کی لاگت پہلے تین مہینوں میں 60 بلین سے 2 ٹریلین ڈالر کے درمیان ہوسکتی ہے۔ یہ اعداد و شمار ایک ایسی معیشت کے لیے بہت بھاری ہیں جسے داخلی چیلنجوں کا سامنا ہو۔

4۔ کسی بھی امریکی حملے کی صورت میں ایران کم سے کم لاگت اور فوجی سازوسامان کے ساتھ دنیا کی اہم اقتصادی شاہراہ آبنائے ہرمز کو بند کرسکتا ہے اور اس کا مطلب تیل کی قیمتوں میں 200 ڈالر سے زائد کا اضافہ ہوگا، جسے دنیا اور امریکا برداشت نہیں کرسکیں گے۔
5۔ عراق اور افغانستان پر امریکی حملے کا ناکام تجربہ امریکیوں کے لیے ایک اور رکاوٹ ہے اور یہ ناکامی یقیناً ان کی فیصلہ سازی پر اثر انداز ہوتی ہے۔
6۔ ایران پر فوجی حملے کی علاقائی ممالک اور یہاں تک کہ یورپی ممالک کی طرف سے وسیع پیمانے پر مخالفت امریکہ کو اس اقدام کے بارے میں فطری طور پر بہت  زیادہ تذبذب کا شکار کرے گی۔

7۔ امریکیوں کے لیے اس وقت اصل ترجیح ایران پر حملہ نہیں ہے۔ امریکیوں کو چین، تائیوان، روس اور یوکرین جیسے اہم مسائل نیز یورپ اور کینیڈا کے ساتھ نئے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ اس صورت حال میں امریکہ کے لئے ایک نیا محاذ کھولنا بہت مہنگا پڑے گا۔
8۔ ایران کی فوجی طاقت اور ممکنہ انتقامی کارروائیاں ایک اور نکتہ ہے، جو امریکیوں کے لیے ایران پر حملہ کرنے کے فیصلہ کو مشکل بنا دیتا ہے۔ ایران کے میزائل اور ڈرون طاقت کے علاوہ، دنیا بھر میں مزاحمتی گروہ ایران پر امریکی حملے کا منہ توڑ جواب دے سکتے ہیں۔ مختصراً امریکہ اس وقت اپنی تاریخ کے سب سے کمزور دور میں جی رہا ہے اور بہت سے عالمی تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ ملک تباہی کے دہانے پر ہے۔ اس تناظر میں  وہ ایران سے جنگ جیسے ایک بڑے بحران اور چیلنج کا سامنا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ پس امریکہ کی یہ شیخیاں اور گیدڑ بھبکیاں ایران میں موجود ان کے اندرونی ایجنٹوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ہیں، لہذا ایران کو اندرونی فتنہ پروری سے ہوشیار رہنا ہوگا۔

.

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایران پر حملہ کے مطابق ایران کے کا سامنا کے ساتھ نہیں ہے کے لیے ہے اور

پڑھیں:

اگر ایران امریکا جوہری مذاکرات ناکام ہوئے تو فوجی تصادم ہوگا، فرانس کا دعویٰ

پیرس: فرانس کے وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات ناکام ہو گئے تو خطے میں فوجی تصادم تقریباً ناگزیر ہو جائے گا۔

پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے بارو نے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے نتیجے میں پورے مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔

اس سے قبل، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ایران کے معاملے پر ایک اہم اجلاس کی صدارت کی، جس میں ایران کے جوہری پروگرام اور ممکنہ اقدامات پر غور کیا گیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش جاری رکھے گا تو امریکہ اس پر بمباری کرے گا۔ دوسری جانب، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو وہ بھی بھرپور جوابی کارروائی کرے گا۔

بارو نے کہا کہ فرانس کا مؤقف واضح ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہماری اولین ترجیح ایک ایسے معاہدے پر پہنچنا ہے جو ایران کے جوہری پروگرام کو مستقل اور قابل تصدیق طریقے سے محدود کرے۔"

فرانسیسی وزیر خارجہ کے اس بیان کے دوران، امریکی صدر ٹرمپ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد ایران پر دوبارہ "زیادہ سے زیادہ دباؤ" (Maximum Pressure) کی پالیسی نافذ کر دی ہے، جس میں اقتصادی پابندیاں اور دیگر سخت اقدامات شامل ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کی دھمکی اور ایران کا دفاعی پروگرام
  • ٹرمپ کا طبل جنگ، روس اور چین کہاں کھڑے ہیں؟
  • جنوبی لبنان میں ایک کار پر صیہونی فوج کا ڈرون حملہ
  • یمن میں 20 سے زائد حملے، ایک شخص ہلاک: حوثی باغی
  • افغانستان میں امریکی واپسی : خطے کے لئے نئے چیلنجز
  • اگر ایران امریکا جوہری مذاکرات ناکام ہوئے تو فوجی تصادم ہوگا، فرانس کا دعویٰ
  • مولانا اسد جاجروی پر قاتلانہ حملہ، زخمی حالت میں اسپتال منتقل
  • ٹرمپ کی ایران کو دھمکی، تین عرب ممالک کا امریکہ کے ساتھ تعاون سے انکار
  • ڈیاگو گارشیا جزیرے پر جوابی حملے کی دھمکی کا مطلب کیا ہے؟