راولپنڈی (ملک عمران سے) راولپنڈی کی مشہور بیکری “تہذیب” کا کیک بچوں سمیت چھ افراد کے لیے شدید خطرے کا باعث بن گیا، جس کے نتیجے میں متاثرہ افراد کی حالت بگڑ گئی۔ اس واقعے کے بعد متاثرہ خاندان نے بیکری کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور فوڈ اتھارٹی و دیگر حکام سے فوری کارروائی کی درخواست کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق، گارڈن ایونیو کے رہائشی احمد شیر اعوان نے بتایا کہ انہوں نے عید کے روز بحریہ ٹاؤن فیز 07 جی ٹی روڈ پر واقع تہذیب بیکری سے 2150 روپے کا کیک خریدا۔ احمد شیر کے مطابق، اس کیک کو گھر لایا گیا، جہاں بچوں نے کھایا۔ کھانے کے بعد 16 سالہ عمار، 23 سالہ زوہیب، 24 سالہ علی حمزہ اور تین بچیوں کی حالت بگڑ گئی۔ بچوں کو فوری طور پر فیز 4 کے نجی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹرز نے فورڈ پائزنگ کی تصدیق کی اور بتایا کہ بچوں نے کچھ مضر چیز کھا لی ہے۔

احمد شیر نے بتایا کہ “عید کے دن ہمارے بچے زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہو گئے اور ہم انتہائی کرب سے گزرے۔” انہوں نے مزید کہا کہ جب انہوں نے بیکری سے رابطہ کیا، تو وہاں سے حمزہ نامی شخص نے ان سے رابطہ کیا اور خود کو منیجر ظاہر کرتے ہوئے کیک اٹھا کر لیبارٹری ٹیسٹ کے لیے بھیج دیا۔ اس کے باوجود، احمد شیر نے بتایا کہ حمزہ کا رویہ انتہائی غیر مناسب تھا۔

اس معاملے پر احمد شیر نے فیصلہ کیا کہ وہ بیکری کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے۔ انہوں نے قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد کہا کہ وہ اس معاملے کو ڈی سی راولپنڈی، فوڈ اتھارٹی اور عدالت میں لے جائیں گے۔ احمد شیر نے مزید کہا کہ “اب بچوں کی حالت بہتر ہے، لیکن وہ ابھی بھی ذہنی طور پر تکلیف میں ہیں۔”

اس حوالے سے جب تہذیب بیکری کی متعلقہ برانچ کے شفٹ منیجر فیضان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ بیکری صحت کے تمام اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی اشیاء تیار کرتی ہے اور ہر گاہک کی صحت کو اہمیت دیتی ہے۔ فیضان نے دعویٰ کیا کہ احمد شیر کی شکایت پر فوری طور پر کیک کو لیبارٹری بھیجا گیا اور وہاں سے کسی بھی قسم کی خرابی کی تصدیق نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ “ہم نے اسی کیک کو اپنے گھر بھیجا تھا اور ہمارے گھر میں ایسا کوئی مسئلہ نہیں آیا۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ “ہم کسی صورت بھی اپنے معیار پر سمجھوتہ نہیں کرتے اور احمد شیر کے بچوں کو فوڈ پائزن کسی اور وجہ سے ہوئی ہے۔”

اس واقعے کے بعد بیکری کے خلاف قانونی کارروائی کے عمل کا آغاز ہو چکا ہے، اور متاثرہ خاندان نے حکام سے فوری کارروائی کی اپیل کی ہے۔

.

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: نے بتایا کہ بیکری کے انہوں نے کی حالت کہا کہ کے بعد

پڑھیں:

قاضی فائز عیسی پر حملے کے الزام میں پاکستانیوں کے منسوخ کردہ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بحال

قاضی فائز عیسی پر حملے کے الزام میں پاکستانیوں کے منسوخ کردہ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بحال WhatsAppFacebookTwitter 0 4 April, 2025 سب نیوز

لندن(آئی پی ایس )سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسی پر لندن میں حملے کے الزام میں پاکستانیوں کے منسوخ کردہ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بحال کردیے گئے۔گزشتہ برس اکتوبر میں سابق چیف جسٹس کی لندن میں مڈل ٹیمپل آمد پراحتجاج کے بعد ان کی کارکو نشانہ بنایا گیا تھا۔ پاکستانی وزارت داخلہ نے ملوث افراد کی شناخت کرکے کارروائی کا حکم دیا تھا اور پاکستان نے برطانوی حکومت کو خط لکھ کر ان افراد کی حوالگی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے ان افراد کی شہریت منسوخ کرنے کی کارروائی شروع کرنے کا اعلان بھی کیا تھا تاہم اب یہ کارروائی روک دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق قاضی فائز عیسی پر لندن میں حملے کے الزام میں پاکستانیوں کے منسوخ کردہ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بحال کردیے۔ذرائع نے بتایاکہ حکومت پاکستان نے پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے افراد کی شناختی دستاویز منسوخ کرنے کی کارروائی روک دی۔خیال رہے کہ لندن میں قاضی فائز عیسی کی مڈل ٹیمپل سے روانگی پر گاڑی روکنے اور دروازہ کھولنے کی کوشش کی گئی تھی۔

متعلقہ مضامین

  • علم کے حصول کی طرف توجہ ضروری، ہر خاندان سے ایک شخص کو عالم دین ہونا چاہیے، علامہ ریاض نجفی
  • قاضی فائز عیسی پر حملے کے الزام میں پاکستانیوں کے منسوخ کردہ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بحال
  • اسکوئیڈ گیم کے مشہور اداکار کو جنسی زیادتی کے جرم میں ایک سال قید کی سزا
  • ہیوسٹن میں ایف بی آئی کا منی لانڈرنگ کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، پاکستانی نژاد افراد بھی گرفتار
  •  اسرائیل مورگ کوریڈور پرغیر قانونی قبضہ اور  مزید فلسطینی اراضی کو ضم کرنا چاہتا ہے:دفتر خارجہ 
  • تحقیق کیلئے انسانی جسموں اور اعضاء کی شدید قلت، سائنسدانوں کا لیبارٹری میں جسم بنانے کا فیصلہ
  • بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی لاکھوں صارفین والا آن لائن پلیٹ فارم کیسے بند کروایا گیا؟
  • میانمار میں زلزلہ، پاکستان نے متاثرہ افراد کیلئے 70 ٹن امدادی سامان روانہ کردیا
  • میانمار میں شدید زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 3,000 تک پہنچنے کا خدشہ