کسٹم اہلکاروں کی گاڑی سے سینکڑوں موبائل فونز کی برآمدگی پر محکمہ کا بیان سامنے آ گیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
بیان کے مطابق تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ محمد ابوبکر (یو ڈی سی) کا حقیقی بھائی عبدالرحمٰن، جو اسمگل شدہ سامان کے کاروبار میں ملوث ہے، اس واقعے کے دوران اس کے ساتھ موجود تھا۔ مذکورہ یو ڈی سی اسمگل شدہ سامان لے جانے والے کے طور پر کام کر رہا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ کسٹمز کے دو اہلکاروں کی گاڑی سے سینکڑوں سمگل شدہ موبائل فون کی برآمدگی پر محکمہ کا بیان سامنے آ گیا۔ جی بی کسٹمز کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ 30 مارچ 2025ء کو گلگت بلتستان کسٹمز کے دو اہلکار، جو ایک نجی کرائے کی گاڑی میں سفر کر رہے تھے، بشام شہر کے قریب حادثے کا شکار ہو گئے۔ موقع پر ہی مقامی پولیس نے 210 موبائل فونز اور دیگر اشیاء برآمد کیں۔ پولیس نے برآمدگی کی رپورٹ بھی تیار کی جو سرکاری ریکارڈ میں موجود ہے۔ ایک اہلکار حافظ محمد ناظم بٹ (اپریزننگ آفیسر) شدید زخمی ہوا اور اس وقت پمز اسلام آباد میں زیر علاج ہے، جبکہ دوسرے اہلکار، محمد ابو بکر (اپر ڈویژن کلرک) محفوظ رہا۔ دوسری جانب، وہ اسمگلر، جن کے 17,613 موبائل فونز مالیت تقریباً 500 ملین روپے حالیہ ہفتوں میں جی بی کسٹمز نے ضبط کیے، افواہیں پھیلانے لگے کہ یہ 210 موبائل فون بھی انہی سے ضبط شدہ فونز میں شامل تھے۔ انہوں نے برآمد شدہ فونز کی تعداد کو غلط طور پر ہزاروں میں بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ کسی بھی غلط فہمی کے ازالے کے لیے، ضبط شدہ تمام موبائل فونز کو کسٹمز کے گودام میں دوبارہ شمار کیا گیا اور تمام مکمل پائے گئے۔
بیان کے مطابق تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ محمد ابوبکر (یو ڈی سی) کا حقیقی بھائی عبدالرحمٰن، جو اسمگل شدہ سامان کے کاروبار میں ملوث ہے، اس واقعے کے دوران اس کے ساتھ موجود تھا۔ مذکورہ یو ڈی سی اسمگل شدہ سامان لے جانے والے کے طور پر کام کر رہا تھا۔ انہوں نے موبائل فونز اور دیگر اشیاء بلیک مارکیٹ سے خریدیں، اور بعد ازاں مذکورہ یو ڈی سی کے بھائی نے پولیس سے یہ موبائل فونز حاصل کر لیے۔ بیان کے مطابق چونکہ محمد ابوبکر (یو ڈی سی) کی مداخلت ثابت ہو چکی ہے اور مزید کسی تفتیش کی ضرورت نہیں، لہٰذا ای اینڈ ڈی رولز کے تحت انکوائری ختم کر دی گئی اور انہیں سات دن کے اندر برطرفی کا شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ، محمد ابوبکر اور اس کے بھائی کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کر دی گئی ہے۔ اپریزننگ آفیسر کی شمولیت فی الحال واضح نہیں کیونکہ وہ پمز اسلام آباد کے آئی سی یو میں زیر علاج ہے اور بیان دینے کے قابل نہیں۔ ان کے کردار کا تعین مجرمانہ کارروائی کے دوران کیا جائے گا، اور اگر ان کا کوئی تعلق ثابت ہوا تو ان کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسمگل شدہ سامان موبائل فونز یو ڈی سی
پڑھیں:
جنوبی چھاونی میں پولیس اہلکاروں کا کارسوار شہری پرمبینہ تشدد اور فائرنگ، ویڈیو وائرل
جنوبی چھاونی میں پولیس اہلکاروں نے کارسوار شہری پرمبینہ تشدد اور فائرنگ کردی واقعہ کی کلوزسرکٹ فوٹی بھج بھی سامنے آ گئی۔
اس حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ کارسوار شہری ائیرپورٹ روڈ پر جا رہا تھا کہ نشے میں دھت پولیس اہلکاروں نے گالم گلوچ کی وجہ پوچھنے پر پولیس اہلکاروں نے تشددکیا پھر گاڑی پر فائرنگ کر دی،
کلوز سرکٹ فوٹیج میں باوردی اہلکار کو فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔سی سی ٹی وی میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فائرنگ کے باعث خوف و ہراس پھیل گیا، شہریوں کی دوڑیں لگ گئیں،
متاثرہ شہری کی مدعیت میں واقعہ کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
متاثرہ شہری کا مزید کہنا تھا کہ سی سی ٹی وی کے باوجود اہلکاروں کی شناخت ہوئی نا ہی تاحال انویسٹی گیشن پولیس پیٹی بھائیوں کو گرفتار نہ کرسکی ہے۔
اسلحہ زور پر تشدد اور ہوائی فائرنگ کرنے والے 5 ملزمان گرفتار