مرکزی انجمن امامیہ نے پریس ریلیز میں مزید کہا ہے کہ سانحے میں قتل کیے گئے مسافروں کی شناخت ریاستی اداروں کے جاری کردہ شناختی کارڈز سے کی گئی تھی، جس کے بعد ان کا قتل ایک سنگین ریاستی چیلنج بن کر ابھرا۔ مٹھی بھر شرپسند عناصر نے ملکی سالمیت اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، لیکن ملت جعفریہ کے شہداء نے اپنے خون سے اس سازش کو ناکام بنایا۔ اسلام ٹائمز۔ مرکزی انجمن امامیہ گلگت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 3 اپریل 2012ء کو چلاس میں پیش آنے والے اندوہناک سانحے کو 13 سال گزر چکے ہیں، مگر آج تک اس کے متاثرین کو انصاف نہ مل سکا۔ ریاستی اداروں کی ناک کے نیچے درجنوں نہتے مسافروں کو بے دردی سے سنگسار کیا گیا، لیکن واضح فوٹیجز اور شناخت کے باوجود قاتلوں اور سازشی عناصر کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا جا سکا۔ مرکزی انجمن امامیہ نے پریس ریلیز میں مزید کہا ہے کہ سانحے میں قتل کیے گئے مسافروں کی شناخت ریاستی اداروں کے جاری کردہ شناختی کارڈز سے کی گئی تھی، جس کے بعد ان کا قتل ایک سنگین ریاستی چیلنج بن کر ابھرا۔ مٹھی بھر شرپسند عناصر نے ملکی سالمیت اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، لیکن ملت جعفریہ کے شہداء نے اپنے خون سے اس سازش کو ناکام بنایا۔ سانحے کے متاثرین اور ان کے لواحقین نے ریاست سے انصاف کا تقاضہ کیا، لیکن 13 سال گزرنے کے باوجود صرف روایتی بیانات سامنے آئے اور کوئی عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔

سوال یہ ہے کہ آخر کیوں شیعہ برادری کو بار بار نشانہ بنایا جا رہا ہے؟ کیوں تکفیری دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی جا رہی؟ مرکزی انجمن امامیہ گلگت بلتستان کے سیکرٹری اطلاعات کے مطابق، ملک میں دیرپا امن صرف تب ہی ممکن ہے جب دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔ سانحہ چلاس جیسے واقعات کے بعد بھی مسلح جتھے ان علاقوں میں متحرک ہیں، جو ایک سنگین خطرہ ہے۔ انجمن نے مطالبہ کیا ہے کہ ریاستی قوت کو بروئے کار لا کر ان عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے المناک واقعات کا سدباب ہو سکے۔ سانحے کے دوران جہاں کچھ جتھے نہتے مسافروں پر حملہ آور تھے، وہیں کچھ باشعور اور انسان دوست افراد نے متاثرین کو محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کیا، جسے قدر کی نگاہ سے دیکھا جانا چاہیے۔ تاہم، انصاف کی عدم فراہمی ایک ایسا سوالیہ نشان ہے جو آج بھی ریاستی نظام پر اٹھایا جا رہا ہے۔

.

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مرکزی انجمن امامیہ

پڑھیں:

پی ٹی آئی کا وزیر اعلیٰ ایک بار پھر ریاست کی پالیسیوں کے خلاف کھڑا ہو گیا

سٹی42:  پی ٹی آئی کا وزیر اعلیٰ ایک بار پھر ریاست کی  اچھی طرح ڈسکس کر کے بنائی ہوئی پالیسیوں کے خلاف کھڑا ہو گیا۔

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے وزیراعلیٰ نے  غیر قانونی افغانوں کو نکالنے  کے عمل میں معاونت کرنے سے انکار کر دیا۔ 

خیبرپختونخوا (کے پی) کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے صوبے سے  غیر قانونی افغانوں کو نہ نکالنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کہتے ہیں ملک میں جاری دہشت گردی کا واحد حل مذاکرات ہیں۔

افغانیوں کا انخلا، لاہور میں افغانی باشندوں کی تعداد کتنی؟

اڈیالہ جیل مین کرپشن کیس کی سزا کاٹ رہے اپنے بانی سے ملاقات کے بعد اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور نے کہا کہ بانی کہتے ہیں ملک میں جاری دہشت گردی کا واحد حل مذاکرات ہیں۔

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کی اس ہی دو رخی پالیسی کے نتیجہ میں صوبہ میں دور افتادی سرحدی علاقوں سے بڑھ کر مرکزی شہروں تک پھیل گئے ہیں اور اب یہ بات ہر خاص و عام کی زبان پر ہے کہ خیبر پختونخوا کے بیشتر علاقوں میں شام ہوتے ہی پی ٹی آئی حکومت ختم ہو جاتی ہے اور دہشتگردوں کا راج شروع ہو جاتا ہے۔

  صدر پاکستان کبڈی فیڈریشن کی اہلیہ کا انتقال،نواز شریف تعزیت کے لئے گھرپہنچ گئے

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ نے اسلام آباد میں اپنی پریس کانفرنس میں ڈھٹائی کے ساتھ کہا،  جب ہماری حکومت تھی اس وقت دہشت گردی نہیں تھی، جب ہماری حکومت ختم کی گئی اس کے بعد ہمارے خلاف کارروائیاں شروع کی گئیں اور یہ لوگ ہمارے خلاف کارروائیوں میں مصروف رہے اور اصل کام پر ان کی توجہ نہیں رہی۔ خیبر پختونخوا میں گزشتہ دس سال سے زیادہ عرصہ سے صرف پی ٹی آئی کی ہی حکومت ہے جو کبھی ختم نہیں ہوئی۔ پی ٹی آئی کے نقادین کہتے ہیں کہ عمران خان کی اسلام آباد مین حکومت کے دوران ان کی ہدایت پر افغانستان میں چھپ کر رہنے والے ہزاروں دہشتگردوں کو معافی دے کر پاکستان واپس لا کر خیبر پختونخوا میں آباد کیا گیا تھا۔  اس پالیسی کے نتیجہ میں ہی دہشتگردوں نے افغانستان کو بیس بنا کر خیبر پختونخوا مین دہشتگردی کا بازار گرم کیا اور اب خیبر پختونخوا میں ان کی سرگرمیاں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ افغانستان سے افغان شہریوں کو لا کر پاکستان کے عسکری اداروں پر حملے کروائے جاتے ہیں۔ بنوں کینٹ پر حملے میں مارے جانے والے دہشتگردوں میں سے پانچ دہشتگرد افغان شہری نکلے تھے۔

پنجاب کے پہلے سرکاری کینسر ہسپتال کو الگ ادارے کی قانونی حیثیت حاصل

۔

ریاست "ٹرمز آف ریفرنس" بنائے تاکہ گنڈاپور افغانستان کے ساتھ مذاکرات کرے

وزیراعلیٰ گنڈاپور نے کہا کہ میں کہہ رہا ہوں 'ٹی او آرز' بنائیں تاکہ افغانستان کے ساتھ مذاکرات کیے جاسکیں، اس کے بغیر کوئی حل نہیں ہے۔

ہم میں کیپیسٹی کی کمی ہے، ذمہ دار وفاقی حکومت ہے

آرگنائزڈ کرائم یونٹ کی کارروائی, ناجائز اسلحہ سپلائی کرنے والا گروہ گرفتار

علی امین گنڈاپور نے دہشتگردوں کو روکنے میں اپنی صوبائی حکومت کی ناکامی کا ملبہ بھی وفاقی حکومت پر ہی ڈال کر کہا، ہم میں  کپیسٹی کی کمی ہے اور اس کی ذمہ دار وفاقی حکومت ہے۔

ہمارے علاقے میں "واقعات" پر سیاست نہ کریں

علی امین گنڈا پور نے اپنی حکومت کی بد ترین ناکامیوں پر تنقید کو "سیاست قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ "ہر چیز میں سیاست نہ کی جائے، افسوس ہے وفاقی حکومت اور وزرا ہمارے علاقے میں واقعات پر سیاست کررہے ہیں۔

سورج کی روشنی کو بجلی میں تبدیل کرنے والی منفرد کھڑکیاں تیار

گنڈاپور نے کہا کہ وفاقی حکومت کے زیر انتظام اداروں نے ایکشن کیا، جب سے ہماری حکومت آئی ہے سی ٹی ڈی اور دیگر اداروں کو 30 ارب روپے دیے ہیں، صوبائی حکومت کا ایکشن پلان جاری ہے۔

پاکستان میں امن ؟ افغانستان میں امن قائم کروائیں

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ عوام اپنے فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں، وفاقی حکومت کے بیانات خطرناک ہیں، افغانستان میں جب تک امن نہیں ہوگا اس پورے خطے میں امن نہیں ہوسکتا۔

خارجی دہشتگرد غلط  نہیں بلکہ ہماری پالیسیاں غلط ہیں

گنڈاپور نے خارجی  دہشتگردوں کے سنگین جرائم کا دفاع کرتے ہوئے ان کی دہشتگردی کا ذمہ دار بھی ہم کو ٹھہرایا اور الزام لگایا کہ ہماری پالیسیاں غلط ہیں، ہماری پالیسیوں کی وجہ سے ان لوگوں  (خارجی دہشتگردوں)نے ہتھیار اٹھایا ہے۔ گنڈاپور نے کہا، (خارجی دہشتگردوں کے ساتھ) اعتماد کا رشتہ بنانا پڑے گا، جب تک افغانستان اور بارڈر ایریاز میں امن نہیں ہوتا حالات ٹھیک نہیں ہوگا۔

ریاست کی پالیسی مستردکردی

علی امین گنڈاپور نے ریاست کی غیر قانونی افغانوں کو پاکستان سے نکالنے کی طے شدہ پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے کہا،  کے پی میں ہم زبردستی لوگوں کو افغانستان سے نہیں بھجوائیں گے، صوبے کی پولیس اور صوبے کی انتظامیہ کسی کو بھی زبردستی نہیں نکالے گی۔ ہم کیمپ لگائیں گے جو رضاکارانہ طور پر جانا چاہیں ان کو افغانستان بھجوائیں گے۔

میں "نکلوں گا"

علی امین گنڈاپور نے ایک بار پھر "نکلوں گا" کا نعرہ بھی لگا دیا۔  گنڈاپور نے کہا کہ این ایف سی نہ دینا 58لاکھ آبادی کے ساتھ زیادتی ہے، میرے ساتھ اپریل میں این ایف سی بلانے کا وعدہ کیا گیا تھا، اپریل کا مطلب اپریل ہے، آئینی حق کے لیے میں نکلوں گا۔

گنڈاپور نے دھمکی دی، میں پورے صوبے، پولیس اور سرکاری ملازمین کو لے کر نکلوں گا، ہمیں 75ارب روپے نہیں دیا گیا ۔ یہ بجلی کے ڈیٹ کے علاوہ ہے، ہم پاکستان کا حصہ ہیں ہمیں یہ دیا جائے۔

علی امین گنڈاپور کا فلسفہِ دہشتگردی

پی ٹی آئی کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے پاکستان کو کینسر کی طرح لاحق دہشتگردی کا انوکھا جواز یہ پیش کیا کہ دہشت گردی پاکستان میں اس لیے ہے کہ یہ اسلامی ملک ہے، جہاں سے غزوہ ہند ہونی ہے وہ یہی خطہ ہے، امریکہ اور پاکستان کے درمیان معاہدہ ہوا جس میں لکھا ہے اس خطے میں معدنیات ہیں اور اس کے بعد سے یہاں دہشت گردی کے واقعات ہوئے۔

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے میری ملاقات دو دو مہینے بعد کیوں ہوئی، عمران خان ڈیل نہیں کرے گا، وہ کسی ڈیل کیلئے جیل میں نہیں ہے، مذاکرات پاکستان کے لیے ہوں گے، اگر کوئی راستہ نکلتا ہے تو مذاکرات ہونے چاہئیں۔

Waseem Azmet

متعلقہ مضامین

  • مذاکرت کی باتیں پی ٹی آئی کی خود کلامی ہے، طلال چودھری
  • ملک دشمن عناصر اور سہولت کاروں کیخلاف ریاست پوری طاقت سے نمٹے گی، کور کمانڈر کانفرنس
  • پی ٹی آئی کا وزیر اعلیٰ ایک بار پھر ریاست کی پالیسیوں کے خلاف کھڑا ہو گیا
  • علی امین کے بیانات پر پی ٹی آئی کور کمیٹی نے سخت ردعمل دے دیا
  • جعلی خزانوں کے نقشے بیچنے والا فراڈیا گروہ گرفتار
  • ریاست قوم اور اشرافیہ
  • کراچی کی مجرم پیپلز پارٹی ہے جو وسائل کو اپنے اوپر استعمال کرتی ہے، آفاق احمد
  • سانحہ چلاس کو 13 برس مکمل، قاتل تاحال آزاد
  • ملک میں بنیادی افراط زر اب بھی 8 فیصد سے اوپر ہے، مشیر خزانہ کے پی