نوٹیفکیشن کے مطابق کان کنی کے عمل کو آسان بنانے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک اور موقع فراہم کرنے کے لیے سیکریٹری معدنیات، صنعت، تجارت و محنت گلگت بلتستان نے رجسٹریشن کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع کی منظوری دی ہے، جو 4 اپریل 2025ء سے 3 مئی 2025ء تک جاری رہے گی۔ اسلام ٹائمز۔ محکمہ معدنیات و کان کنی گلگت بلتستان نے قیمتی پتھروں کی کان کنی کے اجازت ناموں (GMP) کی رجسٹریشن کی آخری تاریخ میں توسیع کر دی ہے تا کہ متعلقہ افراد اور گروپس کو مزید سہولت فراہم کی جا سکے۔ نئی آخری تاریخ 3 مئی 2025ء مقرر کی گئی ہے۔ محکمہ کی جانب سے نوٹیفکیشن نمبر SO-Dev-1(9) 2021 میں کہا گیا ہے کہ 24 فروری 2025ء کے نوٹیفکیشن کے تسلسل میں، تمام افراد اور گروپس کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ قیمتی پتھروں کی کان کنی کے اجازت نامے کے لیے اپنے متعلقہ مقامات پر محکمہ کی آفیشل ویب پورٹل کے ذریعے ایک ماہ کے اندر رجسٹریشن کروائیں، جس کی آخری تاریخ 4 اپریل 2025ء تھی۔ تاہم، بہت کم تعداد میں درخواستیں موصول ہوئی ہیں، اور زیادہ تر موجودہ کان کنوں نے گلگت بلتستان مائننگ کنسیشن رولز (GBMCR) 2024ء کے ترمیم شدہ قاعدہ 44 (5) کے تحت دی گئی حکومتی ہدایات پر عمل نہیں کیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق کان کنی کے عمل کو آسان بنانے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک اور موقع فراہم کرنے کے لیے سیکریٹری معدنیات، صنعت، تجارت و محنت گلگت بلتستان نے رجسٹریشن کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع کی منظوری دی ہے، جو 4 اپریل 2025ء سے 3 مئی 2025ء تک جاری رہے گی۔ تمام متعلقہ افراد اور گروپس کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ محکمہ کی آفیشل ویب پورٹل portal.

minesandmineralsgb.gov.pk پر موجود معیاری طریقہ کار کے مطابق اپنی رجسٹریشن مکمل کریں۔

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: گلگت بلتستان رجسٹریشن کی کان کنی کے

پڑھیں:

مارچ 2025ء میں دہشتگرد حملوں کی تعداد 11 سال میں پہلی مرتبہ 100 سے متجاوز

رپورٹ کے مطابق تھنک ٹینک نے مارچ کے مہینے کے دوران 105 حملوں کی اطلاع دی، جس کے نتیجے میں 228 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 73 سیکیورٹی اہلکار، 67 شہری شامل ہیں، جب کہ 88 دہشتگرد بھی مارے گئے، مزید برآں، 258 افراد زخمی ہوئے، جن میں 129 سیکیورٹی اہلکار اور اتنی ہی تعداد میں عام شہری شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں مارچ 2025ء میں دہشتگرد حملوں کی تعداد 11 سال میں پہلی مرتبہ 100 سے تجاوز کر گئی۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کانفلکیٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (پی آئی سی ایس ایس) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2025ء میں ملک میں تشدد اور سیکیورٹی آپریشنز میں تیزی آئی، اور نومبر 2014ء کے بعد پہلی بار دہشتگردوں کے حملوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی۔ رپورٹ کے مطابق تھنک ٹینک نے مارچ کے مہینے کے دوران 105 حملوں کی اطلاع دی، جس کے نتیجے میں 228 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 73 سیکیورٹی اہلکار، 67 شہری شامل ہیں، جب کہ 88 دہشتگرد بھی مارے گئے، مزید برآں، 258 افراد زخمی ہوئے، جن میں 129 سیکیورٹی اہلکار اور اتنی ہی تعداد میں عام شہری شامل ہیں۔ سیکیورٹی فورسز نے انسداد دہشتگردی کی کارروائیان بھی تیز کیں، جس کے نتیجے میں 83 دہشتگرد ہلاک، 13 سیکیورٹی اہلکار اور 11 عام شہریوں سمیت 107 افراد جاں بحق ہوئے، جب کہ 31 دیگر زخمی ہوئے، جن میں 9 سیکیورٹی اہلکار اور 4 دہشتگرد شامل ہیں۔

مجموعی طور پر دہشتگردوں کے حملوں اور سیکیورٹی آپریشنز میں 335 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 86 سیکیورٹی اہلکار، 78 عام شہری اور 171 عسکریت پسند شامل ہیں۔ عسکریت پسندی کے ڈیٹا بیس (ایم ڈی) کے مطابق، مارچ 2025ء میں اگست 2015ء کے بعد سے مجموعی طور پر سب سے زیادہ ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں، جنوری 2023ء کے بعد سے اسی مہینے میں سیکیورٹی فورسز کی ہلاکتوں کی سب سے زیادہ تعداد بھی دیکھی گئی، جب 114 اہلکار اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔جنوری 2023ء کے بعد گزشتہ ایک دہائی میں یہ ملک کی سیکیورٹی فورسز کے لیے دوسرا مہلک ترین مہینہ تھا۔ رپورٹ کے مطابق مارچ کے مہینے میں 6 خودکش دھماکے ہوئے، جو حالیہ برسوں میں ایک مہینے میں سب سے زیادہ ہیں، ان حملوں کے نتیجے میں 59 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 15 عام شہری، 11 سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں، جبکہ 33 عسکریت پسند بھی جہنم واصل ہوئے، ان واقعات میں 94 افراد زخمی ہوئے، جن میں 56 سیکیورٹی اہلکار اور 38 عام شہری شامل تھے۔ ان میں سے 3 خود کش حملے بلوچستان میں، 2 خیبر پختونخوا (کے پی) میں اور ایک سابقہ فاٹا میں ہوا، جو اب کے پی کے قبائلی اضلاع کا حصہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق بلوچستان اور خیبر پختونخوا سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبے رہے، سب سے قابل ذکر واقعات میں سے ایک 11 مارچ کو بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) بشیر زیب گروپ کی جانب سے جعفر ایکسپریس کو ہائی جیک کرنا تھا، جس کے نتیجے میں کم از کم 26 یرغمالی جاں بحق اور 33 دہشتگرد ہلاک ہوئے۔ صوبے میں ہونے والے 3 خودکش حملوں میں سے ایک، گاڑی میں ہوا، مبینہ طور پر بی ایل اے ہربیار مری گروپ (بی ایل اے آزاد) سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون خودکش بمبار نے یہ حملہ کیا، جب کہ دوسرے حملے کی ذمہ داری بی ایل اے بشیر زیب گروپ نے قبول کی، بی این پی مینگل کی ریلی کو نشانہ بناتے ہوئے مشتبہ خودکش حملے کا دعویٰ تاحال کسی گروہ نے نہیں کیا۔ مجموعی طور پر بلوچستان میں دہشتگردوں کے حملوں اور سیکیورٹی آپریشنز میں کم از کم 122 ہلاکتیں ہوئیں، جن میں 40 عام شہری، 37 سیکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے، اور 45 دہشتگرد بھی مارے گئے۔ مزید برآں، ان واقعات میں 148 افراد زخمی ہوئے، جن میں 79 شہری اور 69 سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔

کے پی میں کم از کم 206 افراد مارے گئے، جن میں 49 سیکیورٹی اہلکار، 34 عام شہری جاں بحق اور 123 دہشتگرد ہلاک ہوئے، جب کہ 115 افراد زخمی بھی ہوئے، جن میں 63 سیکیورٹی اہلکار اور 49 عام شہری شامل ہیں۔ صوبہ کے پی میں 124 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں، جن میں 32 عام شہری، 30 سیکیورٹی اہلکار اور 62 دہشتگرد شامل ہیں، جب کہ 65 افراد زخمی ہوئے، قبائلی اضلاع (جو سابقہ فاٹا تھے) میں 82 ہلاکتیں ہوئیں، جن میں 19 سیکیورٹی اہلکار، دو عام شہری جاں بحق اور 61 دہشتگرد مارے گئے، اس مہینے کے دوران کے پی میں 123 عسکریت پسندوں کی ہلاکت کے ساتھ سیکورٹی کارروائیوں میں نمایاں تیزی ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق اسلام آباد، گلگت بلتستان یا آزاد جموں و کشمیر میں کسی عسکریت پسند حملے کی اطلاع نہیں ملی, تاہم سیکیورٹی فورسز نے آزاد کشمیر میں ٹی ٹی پی کے ایک عسکریت پسند کو گرفتار کر کے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

متعلقہ مضامین

  • مریم نواز کا دکانوں، ورکشاپوں، چھوٹے اداروں کے ورکرز کی رجسٹریشن شروع کرنے کا حکم
  • گلگت بلتستان کو قائد عوام کے وژن کے مطابق ترقی یافتہ بنائیں گے، ثوبیہ مقدم
  • وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کاکم از کم اجرت کے فیصلے پر عملدآمد نہ کرنے والے اداروں کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم
  • محکمہ موسمیات کی گلگت بلتستان میں چند مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی
  • گلگت، محکمہ اینٹی کرپشن کے دو افسران کیخلاف کرپشن کے الزام کی تحقیقات کا آغاز
  • بلتستان میں اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کیلئے حکومت اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • 2025ء کا عید سیل سیزن بدتر اور تباہ کن قرار
  • مارچ 2025ء میں دہشتگرد حملوں کی تعداد 11 سال میں پہلی مرتبہ 100 سے متجاوز
  • عیدالفطر : افغان مہاجرین کی واپسی کی ڈیڈ لائن میں توسیع