سندھو کو بچانا ہے، پانی کی منصفانہ تقسیم کی جنگ لڑ کر آیا ہوں، بلال بھٹو کا جلسہ عام سے خطاب
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلال بھٹو نے کہا ہے کہ ہم نے دریائے سندھو کو بحال کرنا اور اسے صحت بند کرنا ہے۔ پانی کی منصفانہ تقسیم کی جنگ میں عالمی سطح پر لڑ کر آیا ہوں۔
وہ گڑھی خدا بخش میں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی برسی پر منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے۔
بلال بھٹو نے اپنے خطاب میں کہا کہ بطور وزیرخارجہ میں موسمی تبدیلی کی جنگ جس میں پانی کی تقسیم بھی شامل ہے، یہ جنگ میں عالمی سطح پر لڑ کر آیا ہوں۔
انہوں نے کہا سندھو (دریائے سندھ) کو بچانا ہے، اس کو بحال اور صحت مند کرنا ہے۔ ایک زمانے میں اس کو مائٹی انڈس کہا جاتا تھا، میں دنیا کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے میری کوششوں کے جواب میں اس دریا کی بحالی کے لیے مالی اور تکنیکی تعاون پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
بلال بھٹو نے کہا کہ پانی کے معاملے میں بھارت یکطرفہ فیصلے لے رہا تھا، باقی سب سو رہے تھے، میں بطور وزیر خارجہ بھارت کا مقابلہ کر کے آیا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے ساحلی علاقوں کے حوالے سے بھی آواز اٹھائی ہے،
صدر زرداری کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے اٹھارویں ترمیم کے ذریعہ ماحولیاتی حقوق کیا بات آئین میں شامل کروائی، ہم یہ نہیں کہتے کہ یہ ترمیم ہم نے تنہا منطور کروائی مگر ہم سے جو جہاں تک ہوسکا ہم اس ترمیم میں ماحوالیاتی حقوق کو شامل کروایا۔ ماحولیات میں پانی کا ایشو بھی شامل ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انہوں نے ا یا ہوں نے کہا
پڑھیں:
عظمیٰ بخاری کی پیپلز پارٹی پر تنقید، پانی کے مسئلے پر وضاحت
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ نہروں پر سیاست کرنا سندھ کی پرانی روایت ہے لیکن پنجاب میں اس طرح کی سیاست نہیں ہوتی انہوں نے پیپلز پارٹی کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی اندرونی اختلافات کو میڈیا پر لانے کے بجائے آپس میں حل کرے اور غیر ضروری بیانات دینے سے گریز کرے چوہدری منظور کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ سندھ کے رہنما پانی کو اپنا حق سمجھتے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے بعض رہنما اسے پنجاب کا پانی قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ پیپلز پارٹی پہلے آپس میں یہ طے کرلے کہ پانی کس کا ہے کیونکہ اس طرح کے بیانات سے صرف کنفیوژن پیدا ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں رہتے ہوئے پنجاب کے خلاف سیاست کرنا کسی بھی طور مناسب نہیں اور ایسی حرکتوں سے عوام میں غلط فہمیاں جنم لے رہی ہیں انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کے رہنما کسانوں کے مسائل پر بات کرنے سے پہلے یہ دیکھ لیں کہ کیا واقعی کسان ان کے مؤقف کے ساتھ کھڑے ہیں بھی یا نہیں پنجاب ہمیشہ اصولوں کی سیاست کرتا ہے اور نہ کسی کا حق چھینتا ہے اور نہ ہی کسی کو اپنا حق کھانے دیتا ہے۔ اگر پیپلز پارٹی کسانوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھا رہی ہے تو پہلے اسے حقائق جانچنے چاہئیں کہ کسان واقعی ان کے ساتھ ہیں یا نہیں عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ پنجاب نے ہمیشہ بڑے بھائی کا کردار ادا کیا ہے اور قومی یکجہتی کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کو مشورہ دیا کہ اگر انہیں پانی کے معاملے پر وضاحت درکار ہے تو وہ وزیراعلیٰ پنجاب پر سوالات اٹھانے کے بجائے صدر پاکستان سے پوچھیں کیونکہ پانی کے معاملات کو سیاسی رنگ دینا کسی بھی جماعت کے مفاد میں نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ وہ گھر کی لڑائی میڈیا پر نہ لائے اور اپنی جماعت کے اندرونی معاملات کو پہلے خود حل کرے