بلوچستان کی صورتحال پر سینئرسیاستدانوں پر مشتمل بااختیار کمیٹی بنائی جائے، سپریم کورٹ بار
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
اسلام آباد:
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن ک صدر میاں رؤف عطا نے وفاقی حکومت سے اپیل کی ہے کہ بلوچستان کی صورت حال پر سینئر سیاست دانوں پر مشتمل بااختیار اور مینڈیٹ کی حامل کمیٹی تشکیل دی جائے اور بلاتاخیر بلوچستان روانہ کردی جائے۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سے جاری اعلامیے کے مطابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن میاں محمد رؤف عطا نے سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ صدر سپریم کورٹ بار نے چیف جسٹس کو بلوچستان کی صورت حال سے آگاہ کیا اور بتایا کہ بلوچستان میں آئین کے تحت دیے گئے بنیادی حقوق فی الوقت ناپید ہو چکے ہیں اور اس قسم کے حالات نے صوبے میں امن و امان کی صورت حال مزید خراب کر دی ہے۔
صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ اس کے نتیجے میں صوبے میں عوامی بے چینی، باغیانہ سرگرمیوں میں اضافہ اور سڑکوں کی بندش نے عام شہریوں کی روزمرہ زندگی براہ راست متاثر کی ہے۔
اعلامیے کے مطابق صدر سپریم کورٹ بار نے اپنے ان مشاورتی ملاقاتوں کی تفصیلات بھی شیئر کیں جو بلوچستان کے مسائل پر وسیع البنیاد قومی اتفاق رائے حاصل کرنے کے مقصد سے کی جا رہی ہیں۔
صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ عمومی طور پر سیاسی اشرافیہ کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ ان مسائل کا حل جمہوری انداز، سیاسی مکالمے اور مذاکرات کے ذریعے بلوچستان کے عوام کے حقیقی مسائل کو سننے اور حل کرنے میں ہے۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے مطابق اس موقع پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ان کوششوں کو سراہتے ہوئے صدر سپریم کورٹ بار کو قومی اتفاق رائے کی تشکیل کے لیے کی گئی کاوشوں پر خراجِ تحسین پیش کیا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ چیف جسٹس نے کہا کہ بنیادی حقوق کی پاسداری کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے اور اس بات پر زور دیا کہ بنیادی حقوق کو ہر سطح پر برقرار رکھا جانا چاہیے۔
بلوچستان کی صورت حال کے حوالے سے صدر سپریم کورٹ بار نے ایک بار پھر وفاقی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر سینئر سیاست دانوں پر مشتمل ایک کمیٹی نامزد کرے جس سے مکمل اختیار اور مینڈیٹ حاصل ہو اور اس کمیٹی کو بلا تاخیر بلوچستان روانہ کیا جائے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کے بعد سپریم کورٹ بار سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ ایسی کمیٹی کو چاہیے کہ وہ بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل اور دیگر احتجاجی سیاسی دھڑوں کے ساتھ بامقصد مکالمہ شروع کرے تاکہ ان کے حقیقی مسائل کو گفتگو اور مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکے قبل اس کے کہ بہت دیر ہو جائے۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن صدر سپریم کورٹ بار نے بلوچستان کی صورت کی صورت حال چیف جسٹس
پڑھیں:
بلوچستان میں انتشار پھیلانے والے عناصر کو معافی نہیں دی جائے گی، کور کمانڈرز کانفرنس
راولپنڈی:چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر کی زیرصدارت کورکمانڈرز کانفرنس میں کہا گیا کہ بلوچستان میں تمام ملکی اور غیر ملکی عناصر کا اصل چہرہ، گٹھ جوڑ اور انتشار پھیلانے اور پروان چڑھانے کی کوششیں پوری طرح بے نقاب ہو چکی ہیں، ایسے عناصر اور ایسی کوششیں کرنے والوں کوکسی بھی قسم کی معافی نہیں دی جائے گی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی زیر صدارت 268ویں کور کمانڈر کانفرنس منعقد ہوئی جہاں شہدا کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی اور شرکا نے مادر وطن کے امن و استحکام کے لیے شہدائے افواج پاکستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں کی لازوال قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
کور کمانڈرز کانفرنس میں خطے کی صورت حال، قومی سلامتی کو درپیش چیلنجز اور بڑھتے ہوئے خطرات کے جواب میں پاکستان کی حکمت عملی پر جامع بریفنگ دی گئی اور علاقائی اور داخلی سلامتی کی صورت حال کا تفصیلی جائزہ بھی لیا گیا۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ فورم نے ہر قیمت پر بلاتفریق دہشت گردی ختم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا گیا کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرنے والے ملک دشمن عناصر ، سہولت کاروں اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے والوں کے خلاف ریاست پوری طاقت سے نمٹے گی۔
فورم کے شرکا نے کہا کہ کسی کو بھی بلوچستان کے امن میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، بلوچستان کے استحکام اور خوش حالی میں خلل ڈالنے والے مذموم سیاسی مفادات اور سماجی عناصر کو بلوچستان کے عوام کی غیر متزلزل حمایت سے فیصلہ کن طور پر ناکام بنایا جائے گا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اجلاس میں کہا گیا کہ بلوچستان میں تمام ملکی اور غیر ملکی عناصر کا اصل چہرہ، گٹھ جوڑ اور انتشار پھیلانے اور پروان چڑھانے کی کوششیں پوری طرح سے بے نقاب ہو چکی ہیں، ایسے عناصر اور ایسی کوششیں کرنے والوں کوکسی بھی قسم کی معافی نہیں دی جائے گی۔
فورم نے نیشنل ایکشن پلان کے دائرہ کار کے تحت عزم استحکام کی حکمت عملی کے تیز اور مؤثر نفاذ کی ضرورت پر زور دیا اور دہشت گردی کے خلاف پوری قوم کے تعاون سے مشترکہ نکتہ نظر کی اہمیت کو بھی اُجاگر کیا گیا۔
کورکمانڈرز کانفرنس میں اعادہ کیا گیا کہ ریاستی ادارے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے قانون پر پوری استقامت سے عمل درآمد کریں گے، قانون کی عمل داری میں کسی قسم کی نرمی اور کوتاہی نہیں برتی جائے گی۔
آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے پاکستان بھر میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت قائم شدہ ضلعی رابطہ کمیٹیوں کے آغاز کو بھی سراہا، اور بغیر کسی رکاوٹ کے نیشنل ایکشن پلان کے تیز نفاذ کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے نفاذ میں حکومتی ہدایات کے مطابق تمام ادارے پائیدار ہم آہنگی، مربوط کوششوں اور تعاون یقینی بنائیں، اسی طرح پاک فوج حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دہشت گردوں کی مالی اعانت کےخلاف سخت قانونی اقدامات میں مکمل تعاون فراہم کرے گی۔
آرمی چیف نے کہا کہ غیر قانونی سر گرمیاں دہشت گردی کی مالی معاونت سے اندرونی طور پر جڑی ہوئی ہیں، پاکستان میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔
کورکمانڈرز کانفرنس میں بھارت کی غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی جاری سنگین خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا، فورم نے لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر بھی خدشات ظاہر کیے۔
فورم نے بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے منصفانہ حقوق کے لیے پاکستان کی پر زور اور غیر متزلزل حمایت اور عالمی سطح پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے کے لیے مستقل سفارتی کوششوں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ کانفرنس میں فلسطین کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے غزہ میں ہونے والی سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کی شدید مذمت کی گئی اور فلسطین کے عوام کو غیر متزلزل سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت فراہم کرنے کا اعادہ بھی کیا گیا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ کانفرنس کے اختتام پر آرمی چیف نے فیلڈ کمانڈرز کو آپریشنل تیاری اور پیشہ ورانہ مہارت کے اعلیٰ ترین معیارات برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔
آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے بہترین جنگی تیاریاں برقرار رکھنے کے لیے سخت تربیت یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔