قوم کو سستی بجلی اور پیٹرول دینے والا قید، مہنگائی کرنیوالے آزاد ہیں، بیرسٹر سیف
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
وزیراعظم کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں کمی کے اعلان پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا نے کہا کہ جو شخص قوم کو 15 روپے فی یونٹ بجلی فراہم کر رہا تھا، آج جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہے، جب کہ 40 روپے فی یونٹ بجلی دینے والے حکمران عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ترجمان خیبر پختونخوا حکومت بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ قوم کو سستی بجلی اور پیٹرول دینے والا قید جب کہ مہنگائی کرنے والے آزاد ہیں۔ وزیراعظم کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں کمی کے اعلان پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر سیف نے کہا کہ جو شخص قوم کو 15 روپے فی یونٹ بجلی فراہم کر رہا تھا، آج جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہے، جب کہ 40 روپے فی یونٹ بجلی دینے والے حکمران عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کا دوسرا جرم یہ تھا کہ اُس نے قوم کو 150 روپے فی لیٹر کے حساب سے پیٹرول دیا، جسے اب 300 روپے تک پہنچا دیا گیا ہے۔
حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے ڈاکٹر سیف نے کہا کہ عوام کو صرف 7 روپے کے ریلیف کا جھانسا دیا جا رہا ہے، لیکن کوئی یہ نہیں بتاتا کہ پیٹرول اور بجلی کی قیمتیں اس قدر بلند کیوں ہوئیں اور کس نے انہیں عوام کی پہنچ سے باہر کر دیا؟
ان کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں حالیہ دنوں مزید 7 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، مگر اس کمی کا کوئی فائدہ پاکستانی عوام کو نہیں پہنچایا جا رہا۔ ڈاکٹر سیف نے زور دے کر کہا کہ اگر بین الاقوامی قیمتوں کو مدِنظر رکھا جائے تو پاکستان میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 100 روپے سے بھی کم ہونی چاہیے۔
اپنی گفتگو میں انہوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جعلی مینڈیٹ کی طرح جعلی ریلیف دینے کے بجائے عوام کو اصل اور مؤثر ریلیف فراہم کیا جائے، کیونکہ مہنگائی نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے۔
ڈاکٹر سیف کا کہنا تھا کہ ملک کو درپیش معاشی بحران کا واحد حل شفاف قیادت اور حقیقی عوامی نمائندوں کے ذریعے ممکن ہے، جو عوام کو ریلیف دینا جانتے ہوں، نہ کہ صرف دعوے کرتے ہوں۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: روپے فی یونٹ بجلی نے کہا کہ عوام کو قوم کو سیف نے
پڑھیں:
وزیر توانائی نے عوام کو ایک اور ریلیف کی خوشخبری سنادی
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے بجلی کی قیمت میں مزید کمی کی خوشخبری سناتے ہوئے کہا ہے کہ جن کمپنیوں سے معاہدے ہوئے تھے ان سے ابھی بات چیت جاری ہے۔ جس کے بعد عوام کو ایک بار پھر ریلیف دیا جائے گا۔
وفاقی دارالحکومت میں میڈیا نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن اویس لغاری نے بجلی کے شعبے سے متعلق کئی اہم اقدامات اور چیلنجز پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے بتایا کہ 36 آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات سے 3,696 ارب روپے کی بچت ہوئی ہے، جو آنے والے سالوں میں صارفین کے لیے بڑے ریلیف کا باعث بنے گی۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کے شعبے کا سب سے بڑا چیلنج پیداواری لاگت ہے، جس میں ٹیرف میں اضافے اور 2,400 ارب روپے کے گردشی قرضے نے مشکلات بڑھا دی ہیں۔ اسی طرح ڈسکوز کی ناقص کارکردگی اور کوآرڈینیشن کی کمی بھی بڑا مسئلہ ہے جب کہ بجلی کی طلب میں مسلسل کمی بھی شعبے کے لیے بڑا چیلنج ہے۔
وفاقی وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ ٹرانسمشن لائنز کے نقصانات کی وجہ سے بجلی کی قیمت میں 1 سے 2 روپے کا اضافہ ہوتا ہے۔ ان نقصانات کو کم کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 1.89 کروڑ صارفین (جو 100 یونٹس تک استعمال کرتے ہیں) کے لیے بجلی کی قیمت میں 6 روپے 14 پیسے کمی کی گئی ہے جبکہ مجموعی طور پر ان کے نرخوں میں 56 تک کمی کی گئی ہے۔
اویس لغاری نے کہا کہ 6 سال کے اندر گردشی قرضے کو ختم کر دیا جائے گا اور آئندہ سالوں میں اسے زیرو پر لایا جائے گا۔ تمام بجلی کے میٹرز کو آٹومیٹڈ سسٹم سے تبدیل کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح آئیسکو، فیسکو اور گیپکو کی نجکاری کا عمل جاری ہے، جبکہ دوسرے مرحلے میں لیسکو، میپکو اور ہزیکو کی نجکاری کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ 27,000 ٹیوب ویلز کو 7 ماہ میں سولر انرجی پر منتقل کر دیا جائے گا۔
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا کہنا تھا کہ سی پیک کے تحت چائنیز پلانٹس میں کوئلے سے بجلی کی پیداوار پر توجہ دی جائے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جولائی سے دسمبر تک ڈسکوز کے نقصانات کا ہدف 303 ارب روپے تھا، لیکن 145 ارب روپے کی بچت کرتے ہوئے نقصانات 158 ارب روپے تک محدود رہے۔گردشی قرضے کے شعبے میں 9 ارب روپے کی بچت کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم مہنگی بجلی خریدنے کے بجائے مستقبل کے لیے پائیدار حل تلاش کر رہے ہیں۔ 10 سالہ الیکٹرک پالیسی کے تحت بجلی کے شعبے کو مستحکم کرنے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
اویس لغاری نے مزید کہا کہ بجلی کے بنیادی ٹیرف میں کمی یا اضافے کا ابھی سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔ بجلی کے بنیادی ٹیرف میں جون تک کیا صورتحال ہوگی دیکھنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ بذریعہ ریگولیٹر ہی تمام امور انجام دئیے جاتے ہیں کام حکومت کرتی ہے۔ 7 روپے 41 پیسے کا جو ریلیف دیا گیا ہے، یہ بنیادی ٹیرف میں بھی شامل ہے۔ بنیادی ٹیرف کے بارے میں فل الحال کوئی پیشنگوئی نہیں کرسکتا۔
مزیدپڑھیں:دنیا کی امیر ترین خاتون کون ہیں؟