پاکستان میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے لیے کوئی جگہ نہیں، آرمی چیف کا واضح اعلان
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن)آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہاہے کہ پاک فوج دہشت گردوں کی مالی اعانت کےخلاف سخت قانونی اقدامات میں مکمل تعاون فراہم کرے گی۔آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی زیر صدارت 268ویں کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی جس دوران شرکاء نے کہا کہ ریاستی ادارے آئین میں رہتے ہوئے قانون پر پوری استقامت سے عمل درآمد کریں گے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق شرکاء کا کہناتھا کہ قانون کی عملداری میں کسی قسم کی نرمی اور کوتاہی نہیں برتی جائے گی۔ آرمی چیف نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت قائم شدہ ضلعی رابطہ کمیٹیوں کے آغاز کو سراہا اور بغیر کسی رکاوٹ کے نیشنل ایکشن پلان کے تیز نفاذ کی ضرورت پر زور دیا ۔
اس وقت اپوزیشن کسی احتجاجی تحریک کا حصہ نہیں بن رہی ، شاہد خاقان عباسی
آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا کہ تمام ادارے پائیدار ہم آہنگی ، مربوط کوششوں اور تعاون کو یقینی بنائیں، پاک فوج دہشت گردوں کی مالی اعانت کےخلاف سخت قانونی اقدامات میں مکمل تعاون فراہم کرے گی، غیر قانونی سر گرمیاں دہشت گردی کی مالی معاونت سے اندرونی طور پر جڑی ہوئی ہیں، پاکستان میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔
مزید :.ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
بلوچ یکجہتی کمیٹی والے دہشت گردوں کی میتیں لینے پہنچ گئے، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی
کوئٹہ: ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کوئٹہ اعتزاز گورایا نے کہا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) والے بی ایل اے کے دہشت گردوں کی میتیں لینے پہنچ گئے اور خود کو ان میتوں کا وارث کہا۔ بی وائی سی والے عملے کو مارپیٹ کر لاشیں لے گئے۔ کہا احتجاج کے نام پر شہر میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ عوام فیصلہ کرے کہ بی ایل اے کے وارث کون ہوسکتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ سعد نے کہا کہ سب کو پرامن احتجاج کا حق ہے، لیکن کسی کو توڑ پھوڑ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز احمد گورایہ اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ سعد نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ 11 مارچ کو جعفر ایکسپریس پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد شہر میں احتجاج اور توڑ پھوڑ کی وارداتیں سامنے آئیں۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے کہا کہ جعفر ایکسپریس پر حملے کے نتیجے میں 5 افراد کی ہلاکت ہوئی، جن کی لاشوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ لاشوں کو لینے کا حق صرف ان کے ورثاء کا ہوتا ہے، تاہم ہسپتال میں لاشیں لینے کے لیے بلوچ یکجہتی کمیٹی والے پہنچ گئے، ہسپتال میں انہوں نے توڑ پھوڑ اور ہنگامہ آرائی کی۔ ہسپتال کے کیمرے توڑے گئے، آپٹک فائبر جلایا گیا، پوسٹ آفس اور بینک کے دروازے توڑے گئے۔
انہوں نے کہا کہ حملے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی ہے۔ اس کے بعد دوبارہ احتجاجی دھرنا شروع کر دیا گیا، جس میں 2 لاشوں کو لے کر مظاہرین نے سڑکوں پر دھرنا دیا۔ ڈی آئی جی نے کہا کہ ہم نے صحبت پور سے ورثاء کو بلا کر لاشیں ان کے حوالے کیں، لیکن اس کے بعد دوبارہ ایک جتھا آیا۔
اعتزاز گورایا نے کہا کہ ”اگر پولیس نے فائرنگ کی تو وہاں 2 ہزار افراد تھے، تو انہیں گولی کیوں نہیں لگی؟“ ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ احتجاج کا حق ہر کسی کو ہے، لیکن کسی کو سڑکیں بلاک کرنے کا حق نہیں ہے۔
ڈپٹی کمشنر کوئٹہ سعد نے کہا کہ دھرنے اور احتجاج کے دوران 61 افراد کو ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا، اور اس واقعے نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو مزید خراب بنا دیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ احتجاج کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے، جس کی پابندی کی جانی چاہیے۔
ڈی سی سعد نے کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے بھی 2 لاشوں کے لیے دھرنا دیا گیا، جس کے نتیجے میں شہر میں کشیدگی اور اضطراب بڑھ گیا ہے۔ تاہم قانون نافذ کرنے والے ادارے حالات کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ 11 مارچ کو کوئٹہ سے پشاور کے لیے روانہ ہونے والی جعفر ایکسپریس پر دہشت گردوں نے حملہ کرکے مسافروں کو یرغمال بنا لیا تھا۔
سرکاری دستاویز کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردوں کے خلاف 12 مارچ کی شام کو آپریشن شروع کیا جس میں 190 مسافروں کو بازیاب کرا لیا گیا جبکہ 33 دہشت گردوں کو واصل جہنم کیا گیا، دوران آپریشن 5 اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا۔