کورکمانڈرزکانفرنس:دہشت گردوں ،انکے سہولت کاروں کیخلاف سخت کارروائی کے عزم کااعادہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
راولپنڈی:آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری) نے جنرل ہیڈکوارٹرزمیں 268ویں کور کمانڈرز کانفرنس کی صدارت کی۔فورم نے شہداء کی عظیم قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے فاتحہ خوانی کی جن میں مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور وہ شہری شامل ہیں جنہوں نے ملک میں امن و استحکام کے لیے اپنی جانیں نچھاور کیں۔فورم کو موجودہ جغرافیائی اسٹریٹیجک ماحول، ابھرتے ہوئے قومی سلامتی کے چیلنجز اور بدلتے ہوئے خطرات کے تناظر میں پاکستان کی اسٹرٹیجک حکمت عملی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔علاقائی اور داخلی سکیورٹی صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے فورم نے ہر قیمت پر دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا۔ علاوہ ازیں اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان ریاستی طاقت کے مکمل استعمال کے ذریعے ان عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرے گا جو دشمن قوتوں کے ایماء پر ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے سہولت کاری اور معاونت فراہم کر رہے ہیں۔فورم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بلوچستان میں کسی کو بھی امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور غیر ملکی پشت پناہی یافتہ عناصر بشمول سماجی انتشار پھیلانے والے اور ان کے نام نہاد سیاسی حامی، جو اپنے محدود سیاسی مفادات کی خاطر بلوچستان کے استحکام اور خوشحالی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں، انہیں عوام کی غیر متزلزل حمایت کے ساتھ ناکام بنا دیا جائے گا، تمام غیر ملکی اور مقامی عناصر کے اصل چہرے، ان کے گٹھ جوڑ اور ملک میں بدامنی پھیلانے کی سازشیں بے نقاب ہو چکی ہیں اور ان کے ساتھ کسی بھی قسم کی رعایت برتے بغیر سختی سے نمٹا جائے گا۔وژن عزمِ استحکام کو نیشنل ایکشن پلان کے تحت فوری اور مؤثر طریقے سے نافذ کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فورم نے قومی یکجہتی کے اصول کو اجاگر کیا۔ ریاستی ادارے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے قانون پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں گے اور کسی بھی قسم کی نرمی یا کمزوری نہیں دکھائی جائے گی۔ آرمی چیف نے پاکستان بھر میں ضلعی کوآرڈی نیشن کمیٹیوں کے قیام کا خیرمقدم کرتے ہوئے نیشنل ایکشن پلان کے نفاذ میں بین الادارتی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان آرمی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو غیر قانونی معاشی سرگرمیوں کے خلاف سخت اقدامات میں مکمل تعاون فراہم کرے گی، کیونکہ یہ سرگرمیاں دہشت گردی کی مالی معاونت سے جڑی ہوئی ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور بھارتی فوج کی لائن آف کنٹرول پر بلااشتعال فائرنگ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، فورم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام کی جائز جدوجہد کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا اور عالمی سطح پر بھارتی مظالم کو بے نقاب کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو تیز کیا جائے گا۔فورم نے فلسطینی عوام سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے، غزہ میں جاری سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کی شدید مذمت کی۔ فورم نے فلسطینی عوام کے لیے سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ آرمی چیف نے فیلڈ کمانڈرز کو اعلیٰ ترین آپریشنل تیاری اور پیشہ ورانہ مہارت کو برقرار رکھنے کی ہدایت کی، تاکہ سخت ترین تربیت کے ذریعے فوج کی جنگی صلاحیت کو بلندی پر رکھا جا سکے۔
Post Views: 1.ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کرتے ہوئے ا رمی چیف فورم نے کے لیے
پڑھیں:
بلوچ یکجہتی کمیٹی والے دہشت گردوں کی میتیں لینے پہنچ گئے، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی
کوئٹہ: ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کوئٹہ اعتزاز گورایا نے کہا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) والے بی ایل اے کے دہشت گردوں کی میتیں لینے پہنچ گئے اور خود کو ان میتوں کا وارث کہا۔ بی وائی سی والے عملے کو مارپیٹ کر لاشیں لے گئے۔ کہا احتجاج کے نام پر شہر میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ عوام فیصلہ کرے کہ بی ایل اے کے وارث کون ہوسکتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ سعد نے کہا کہ سب کو پرامن احتجاج کا حق ہے، لیکن کسی کو توڑ پھوڑ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز احمد گورایہ اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ سعد نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ 11 مارچ کو جعفر ایکسپریس پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد شہر میں احتجاج اور توڑ پھوڑ کی وارداتیں سامنے آئیں۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے کہا کہ جعفر ایکسپریس پر حملے کے نتیجے میں 5 افراد کی ہلاکت ہوئی، جن کی لاشوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ لاشوں کو لینے کا حق صرف ان کے ورثاء کا ہوتا ہے، تاہم ہسپتال میں لاشیں لینے کے لیے بلوچ یکجہتی کمیٹی والے پہنچ گئے، ہسپتال میں انہوں نے توڑ پھوڑ اور ہنگامہ آرائی کی۔ ہسپتال کے کیمرے توڑے گئے، آپٹک فائبر جلایا گیا، پوسٹ آفس اور بینک کے دروازے توڑے گئے۔
انہوں نے کہا کہ حملے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی ہے۔ اس کے بعد دوبارہ احتجاجی دھرنا شروع کر دیا گیا، جس میں 2 لاشوں کو لے کر مظاہرین نے سڑکوں پر دھرنا دیا۔ ڈی آئی جی نے کہا کہ ہم نے صحبت پور سے ورثاء کو بلا کر لاشیں ان کے حوالے کیں، لیکن اس کے بعد دوبارہ ایک جتھا آیا۔
اعتزاز گورایا نے کہا کہ ”اگر پولیس نے فائرنگ کی تو وہاں 2 ہزار افراد تھے، تو انہیں گولی کیوں نہیں لگی؟“ ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ احتجاج کا حق ہر کسی کو ہے، لیکن کسی کو سڑکیں بلاک کرنے کا حق نہیں ہے۔
ڈپٹی کمشنر کوئٹہ سعد نے کہا کہ دھرنے اور احتجاج کے دوران 61 افراد کو ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا، اور اس واقعے نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو مزید خراب بنا دیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ احتجاج کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے، جس کی پابندی کی جانی چاہیے۔
ڈی سی سعد نے کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے بھی 2 لاشوں کے لیے دھرنا دیا گیا، جس کے نتیجے میں شہر میں کشیدگی اور اضطراب بڑھ گیا ہے۔ تاہم قانون نافذ کرنے والے ادارے حالات کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ 11 مارچ کو کوئٹہ سے پشاور کے لیے روانہ ہونے والی جعفر ایکسپریس پر دہشت گردوں نے حملہ کرکے مسافروں کو یرغمال بنا لیا تھا۔
سرکاری دستاویز کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردوں کے خلاف 12 مارچ کی شام کو آپریشن شروع کیا جس میں 190 مسافروں کو بازیاب کرا لیا گیا جبکہ 33 دہشت گردوں کو واصل جہنم کیا گیا، دوران آپریشن 5 اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا۔