Islam Times:
2025-04-05@01:05:22 GMT

نیا منظر نامہ

اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT

نیا منظر نامہ

اسلام ٹائمز: لمحہء موجود میں بھی ایسا ہی ایک منظر ہمارے سامنے ہے جب ایک طرف سرخ بالوں والا آج کا عمر بن عبدود اپنی طاقت کے نشے میں اسی کے وارثوں کو للکار رہا ہے جس نے خندق کے بعد خیبر میں بھی دشمنان خدا کی ناک رگڑی تھی۔ آج کا میڈیا بھی اسی طرح آج کے سب سے بڑے طاغوت کی طاقت کا اشتہار بنا ہوا ہے جس طرح جنگ خندق میں بعض کم ہمت لوگ عمر بن عبدود کی طاقت و جبروت کے قصیدے پڑھ رہے تھے۔ تحریر: سید تنویر حیدر
               
افسانوی شہرت کا حامل، دیوہیکل سورما ”عمر بن عبدود“ جب رجز خوانی کرتے ہوئے اپنے راستے میں کھودی گئی خندق کو پھلانگ کر اور اپنے مقابل کے سر چڑھ کر للکارنے لگا اور بدکلامی کرنے لگا تو اس موقعے پر اس کے مدمقابل لشکر میں قبرستان کی سی خموشی چھا گئی۔ یوں لگا جیسے لشکریوں کے سروں پر پرندے بیٹھ گئے ہیں۔ اس خموشی کو کاٹتے ہوئے آخر ”سردارِ لشکر“ کی گرجدار آواز بلند ہوئی کہ ”کوئی ہے جو اس نجس کی زبان بند کرے؟“۔

تین بار یہ جملے دھرائے گئے لیکن ہر بار بھرے لشکر میں سے محض ایک جانفروش، اپنی ہتھیلی پر اپنی جاں لیے، اس آواز پر لبیک کہتے ہوئے، اس للکارنے والے سے جنگ آزمائی کے لیے کھڑا ہوا، لیکن سردار لشکر نے ہر بار اسے اپنے اشارے سے بٹھا دیا۔ شاید وہ اس مرحلے پر ہر کسی کو یہ موقع فراہم کرنا چاہتا تھا کہ وہ میدان میں اپنی طاقت کا لوہا منوا لے اور اپنی تلوار کے جوہر آزمالے، تاکہ کل کلاں کوئی کسی سے یہ نہ پوچھے کہ:
کون ہم سب پہ لے گیا بازی
ہم سے پہلے یہ کس کا نام آیا
آخر کار وہ جس کی ماں نے اس کا نام ”حیدر“ رکھا تھا اور جس کے نامہء اعمال میں ایک ایسی ”ضربِ یداللہٰی“ لکھی گئی تھی جسے ثقلین کی تمام عبادت سے افضل ہونا تھا، آگے بڑھا اور للکارنے والے کی آواز کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا۔

لمحہء موجود میں بھی ایسا ہی ایک منظر ہمارے سامنے ہے جب ایک طرف سرخ بالوں والا آج کا عمر بن عبدود اپنی طاقت کے نشے میں اسی کے وارثوں کو للکار رہا ہے جس نے خندق کے بعد خیبر میں بھی دشمنان خدا کی ناک رگڑی تھی۔ آج کا میڈیا بھی اسی طرح آج کے سب سے بڑے طاغوت کی طاقت کا اشتہار بنا ہوا ہے جس طرح جنگ خندق میں بعض کم ہمت لوگ عمر بن عبدود کی طاقت و جبروت کے قصیدے پڑھ رہے تھے۔

آج بھی ایران کے سوا باقی اکثر اسلامی ممالک کے سروں پر اسی طرح پرندے بیٹھے ہوئے ہیں جس طرح عمر بن عبدود کے للکار کے مقابلے میں، بجز حیدر کرارؑ، تمام لشکریوں کے سروں پر پرندے اپنا ڈیرہ ڈالے ہوئے تھے۔ آج تمام عالمِ اسلام ایک فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکا ہے۔ اس کے سامنے ایک طرف زمانے کے تمام مرحب و انتر اور عمر بن عبدود ہیں اور دوسری جانب وارثانِ خیبر شکن۔ ملت اسلامیہ کے ہر فرد کو اب یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ  اِس طرف ہے یا اُس طرف، درمیانی راستہ کوئی نہیں۔

.

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: میں بھی کی طاقت

پڑھیں:

اپنی کایا پلٹنا

سنسنی خیز کہانیاں خوب بکتی ہیں۔ جو چیزیں ہمارے وجود میں جتنی تھرتھلی مچاتی ہیں وہ ہمیں اتنا ہی زیادہ متاثر کرتی ہیں اور ان کے اثرات ہم پر تادیر قائم رہتے ہیں، بلکہ کچھ چیزیں تو ایسی ہوتی ہیں کہ وہ زندگی بھر ہمارے وجود کا حصہ بن جاتی ہیں۔ ایسی کہانیاں اور حکایات وغیرہ لکھنے والے مصنفین ان سے ذاتی طور پر گزرے ہوتے ہیں یا ان کا تخیل اتنا طاقتور ہوتا ہے کہ وہ ایسی کہانیاں خود تخلیق کر لیتے ہیں۔
یہ کہانیاں زندگی کا ایسا تجربہ بیان کرتی ہیں کہ جس سے لکھنے اور پڑھنے والے دونوں کی کایا پلٹ جاتی ہے۔ کایا پلٹنے کو انگریزی زبان میں ’’ٹرانسفارم‘‘ (Transform) کہتے ہیں۔ انگریزی کا لفظ ٹرانسفارم بہت خوبصورت اور متاثرکن ہے جس کا مطلب یکسر تبدیل ہو جانا ہے یعنی ایک چیز یا رویئے کا کسی دوسری چیز یا رویئے میں بدلنا ٹرانسفارم کہلاتا ہے۔ اس انگریزی لفظ کا متبادل لفظ ’’کنورٹ (Convert)‘‘ بھی ہے جس کا مفہوم بھی کسی چیز یا فرد کے تبدیل ہونے جیسا ہی ہے مگر جو تاثر سننے اور پڑھنے والے پر لفظ ٹرانسفارم قائم کرتا ہے اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔
ٹرانسفارم یا کایا پلٹنے کے الفاظ کو قسمت کے بدلنے کے اصطلاحی معنوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم ٹرانسفارم یا کایا پلٹنے کا عمل چند ایسے خاص واقعات اور تجربات سے جڑا ہوتا ہے کہ جس کے بعد انسان ناچاہتے ہوئے بھی خود کو تبدیل کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ہر انسان کی زندگی میں کچھ ایسے لمحات ضرور آتے ہیں جن کے گہرے اثرات اس کی زندگی کو مکمل طور پر بدل دیتے ہیں۔ ایسے واقعات یا تجربات ان لوگوں کے لئے کسی رحمت سے کم نہیں ہوتے جو ان کے لئے کوئی ’’انقلابی تبدیلی‘‘ لے کر آتے ہیں۔ بہت سے لوگ بری عادات کا شکار ہوتے ہیں یا ان کی زندگی منفی اور غیرتعمیری سرگرمیوں سے بھری پڑی ہوتی ہے مگر ایک دن یا لمحہ ایسا آتا ہے کہ کبھی ان کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آتا ہے، وہ کوئی اچھی کتاب پڑھتے ہیں، ان کی ملاقات کسی متاثرکن شخصیت سے ہوتی ہے یا خود ہی کسی موڑ پر ان کی سوچ ایسی بدلتی ہے کہ مستقبل میں ان کی زندگی ایک نیا جنم لے کر ابھرتی ہے اور وہ محسوس کرتے ہیں کہ جیسے اچانک ان کی کایا پلٹ گئی ہو۔
اپنی روزمرہ کی زندگی میں آپ نے بہت سے ایسے برے، ظالم اور نشہ وغیرہ کے عادی لوگوں کو دیکھا ہو گا اور ان میں سے بعض کو یکسر بدلتے بھی دیکھا ہو گا۔ ہمارے کچھ شوبز کے لوگ، گلوکار اور کھلاڑی وغیرہ دینی خدمت کے کام کرنے لگے تو خود ان کی زندگی ٹرانسفارم ہو گئی یعنی ان کی کایا (اور قسمت) پلٹ گئی۔ وہ زندگی کے ایک شعبے سے نکل کر زندگی کے دوسرے شعبے میں آ گئے اور خوب نام اور عزت کمائی۔ تاریخ میں ایسی بے شمار شخصیات کا ذکر ملتا ہے کہ جنہوں نے اپنی زندگی کی مصروفیات اور معمولات کو مکمل طور پر تبدیل کیا۔ اس میں ایک شخصیت بنو امیہ کے اسلامی خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کی بھی ہے جو شہزادے تھے تو مکمل طور پر عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے تھے اور جب ’’اسلامی خلافت‘‘ کا بوجھ کندھوں پر آن پڑا تو بالکل سادہ زندگی اختیار کر لی اور پوری زندگی ایک ہی لباس میں گزار دی۔
اسی طرح بدھ مت کا بانی بدھا بھی ایک شہزادہ تھا جس کو کسی ایک واقعہ نے ایسا تبدیل کیا کہ اس کی’’کایا پلٹ گئی‘‘ اور اس نے شہزادگی کو چھوڑ کر اپنی بقیہ پوری زندگی غوروفکر اور انسانوں کی خدمت کرتے ہوئے گزار دی۔ تصوراتی دنیا کا ایک اپنا الگ ہی رنگ ہوتا ہے۔ سنی سنائی کہانیوں میں الجھنے کی بجائے اپنے من کی دنیا میں ڈوبنا ایک زیادہ بہتر اور گہرا ’’روحانی تجربہ‘‘ ہے جس کے بارے علامہ محمد اقبال نے فرمایا تھا کہ، ’’اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی، تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن۔‘‘ انسان کے اندر کی دنیا ایک مکمل جہاں ہے۔ مجھے ایسی کیفیات بہت اچھی لگتی ہیں جو مجھے خود سے بیگانہ کر دیتی ہیں اور مجھے میرے اندر کی دنیا سے روشناس کراتی ہیں۔ ایسی کیفیات خود کو بدلنے اور اپنی کایا پلٹنے کا بہترین موقع فراہم کرتی ہیں۔ میں بچپن میں خود کو ٹرانسفارم کرنے کے لئے بزرگوں اور عالم فاضل لوگوں کی محفل میں بیٹھا کرتا تھا یا سوچنے اور غوروفکر کرنے کے لئے ویرانے میں نکل جایا کرتا تھا۔ اس وجہ سے میں تنہائی کو بھی بہت پسند کرتا ہوں۔ اس دوران میں خود کو وقت دیتا ہوں، اپنے ماضی اور حال سے باتیں کرتا ہوں اور ان کی روشنی میں اپنے مستقبل کی کچھ پرچھائیاں دیکھ لیتا ہوں۔
تنہائی کا ایک حیرت انگیز فائدہ یہ ہے اس سے بھرپور تجسس اور پراسراریت پیدا ہوتی ہے۔ اس دوران ہمارے ذہن میں عجیب و غریب قسم کی جستجو ابھرتی ہے کہ انسان خود ہی سوالات کرتا ہے اور خود ہی ان کے جوابات ڈھونڈتا ہے جس سے بعض اوقات اس کی دنیا بدل جاتی ہے یعنی وہ ٹرانسفارم ہو جاتا ہے اور اس کی کایا پلٹ جاتی ہے۔ خود کو تبدیل کرنے والے ایسے نایاب لوگ نہ صرف اپنی کایا پلٹتے ہیں بلکہ کچھ قابل گوہر ایسے بھی ہوتے ہیں کہ وہ دوسروں کی قسمت بھی بدل دیتے ہیں۔خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اپنی زندگی کی کایا خود پلٹتے ہیں۔ کایا پلٹنا یا خود کو ٹرانسفارم کرنا ایسا خوبصورت عمل ہے جس کے بعد انسان کو ’’اطمینان قلب‘‘ حاصل ہوتا ہے۔ آپ مطالعہ کریں، مجبور لوگوں کی خدمت کریں اور اچھے لوگوں سے دوستی کریں آپ کی کایا پلٹنا شروع ہو جائے گی۔ دنیا کے عظیم الشان لوگ وہی ہیں جو خود کو وقت دیتے ہیں جس سے انہیں پتہ چلتا رہتا ہے کہ ان کی زندگی کس طرف جا رہی ہے۔ ان کی زندگی کی سمت درست ہے یا غلط ہے؟ ایسے خوش نصیب لوگ نا صرف اپنی زندگی میں مثبت اور تعمیری تبدیلی لاتے ہیں بلکہ وہ دوسروں کی زندگیاں بھی بدلنے کی کوشش کرتے ہیں اور بعض تو ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی پوری پوری زندگیاں اس نیک مقصد کے لئے وقف کر دیتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ملک دشمن عناصر اور سہولت کاروں کیخلاف ریاست پوری طاقت سے نمٹے گی، کور کمانڈر کانفرنس
  • محکمہ صحت خیبر پختونخوا کا کروڑوں روپے مالیت کا ٹینڈر کالعدم قرار
  • خیبر پختونخوا محکمہ صحت کا کروڑوں روپے مالیت کا ٹینڈر کالعدم قرار، حکم نامہ جاری
  • بلوچستان کے مسائل طاقت سے نہیں مذاکرات سے حل ہوں گے، تحریک انصاف
  • سوال نامہ منفی اور سیاسی بدنیتی پرمبنی ہے: تیمور جھگڑا
  • اپنی کایا پلٹنا
  • معصوم بچے کے سامنے خونی منظر، ڈکیتی مزاحمت پر کراچی میں ایک اور شہری قتل
  • معصوم بچے کے سامنے خونی منظر؛ ڈکیتی مزاحمت پر ایک اور شہری قتل؛ فوٹیج سامنے آگئی
  • برطانیہ کا امیگریشن نظام سخت، اب یورپی شہریوں کو بھی اجازت نامہ درکار ہوگا