لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 04 اپریل2025ء) امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی مہنگائی کے تناسب سے کی جانی چاہئے تھی ، اس وقت بھی بجلی کی قیمتیں جنوبی ایشیائی خطے میں سب سے زیادہ ہیں۔آئی پی پیز کی لوٹ ماٹ نے توانائی سیکٹر کو عملاً مفلوج کرکے رکھ دیا ہے ۔حکومت واضح طور پر معاشی پالیسیوں کو سودی نظام اور آئی ایم ایف کے شکنجے سے باہر نکال لے تو حالات ٹھیک ہو جائیں گئے ۔

اپنے اللوں تللوں کا خاتمہ کریں اور زیادہ سے زیادہ مہنگائی کی چکی میں پسے طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے اقدامات کئے جانے چاہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکمران عوام کے خون پسینے کی کمائی ٹیکسوں کی مد میں لوٹ کر اپنے شاہانہ پروٹوکول پر خرچ کر رہے ہیںاور کوئی پوچھنے والا ہی نہیں۔

(جاری ہے)

بجلی کے بلوں پر13مختلف اقسام کے ٹیکس نافذ ہیں، عوام بلوں کی ادائیگی کے لئے قیمتی سامان زیورارت تک فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔

پی ڈی ایم ٹو کی حکومت بھی پی ڈی ایم ون اور کیئر ٹیکر حکومت کا تسلسل ہی ہے۔ہر چیز کی قیمت آسمان سے باتیں کر رہی ہے اور کوئی پوچھنے والا ہی نہیں۔ ہم تنقید برائے تنقید نہیں بلکہ تنقید برائے اصلاح پر یقین رکھتے ہیں اورجب تک عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل جاتا اس وقت تک اپنا فریضہ سر انجام دیتے رہیں گے ۔ان کا کہنا تھا کہ میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان کے 94فیصد عوام دیار غیر منتقل ہونا چاہتے ہیں۔

رواں سال 2024 کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران پاکستان سے 7 لاکھ 89 ہزار 837 لوگ روزگار کیلئے بیرون ملک چلے گئے ہیں جبکہ گزشتہ مالی سال 2023 کے دوران 8 لاکھ 11 ہزار 469 افراد روزگار کیلئے بیرون ملک گئے تھے۔حکمرانوں نے عوام کے لئے پاکستان میں رہنا دشوار بنا دیا ہے ۔ پی ڈی ایم ٹو کے پاس بھی کسی قسم کا کوئی معاشی ایجنڈا نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک و قوم کو درپیش مسائل کا واحد حل سودی معاشی نظام کا خاتمہ ہے ، جب تک حکمران سودی نظام سے چھکاڑہ حاصل نہیں کر لیتے اس وقت تک عوام کی زندگی میں خوشحالی آسکتی ہے اور نہ ہی ملک ترقی کی منازل طے کر سکتا ہے ۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ حکمران اپنی عیاشیاں بند کریں ، پروٹوکول کا خاتمہ کیا جائے اور بیرونی امداد کی بجائے قومی وسائل سے استفادہ کیا جانا چاہے ۔ آئی ایم ایف کے غلاموں نے اشیاء ضرورت پر ہوشربا ٹیکس لگا کر جینے کا حق بھی چھین لیا ہے ۔فارم 47کی جعلی حکومت قبول نہیں،کارکن تیاری کریں ہم امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کی قیادت میں بڑی تحریک کا آغاز کرنے جا رہے ہیں۔.

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے

پڑھیں:

بھارتی راجیہ سبھا سے بھی متنازع وقف ترمیمی بل منظور، شیوسینا کی مودی پر سخت تنقید

نئی دہلی: بھارتی پارلیمان کے ایوان زیریں لوک سبھا سے منظور ہونے کے بعد حکومت کا متنازع وقف ترمیمی بل اب راجیہ سبھا سے بھی منظور کرلیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق، بل کی منظوری کے لیے 236 ارکان میں سے 119 ارکان کی حمایت درکار ہے۔ بل کی حمایت میں 128 اور مخالفت میں 95 ووٹ پڑے۔ 

لوک سبھا میں اس بل کی کانگریس نے سخت مخالفت کی تھی، اور اب ایوان بالا میں بھی مخالفت کا سلسلہ جاری رہا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ صرف کانگریس ہی نہیں بلکہ سخت گیر ہندو تنظیم شیوسینا بھی بل کے خلاف بول پڑی ہے۔ 

مہاراشٹرا سے راجیہ سبھا کے رکن سنجے راوت نے مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا: ’’بی جے پی مسلمانوں کی اتنی فکر کر رہی ہے، جتنا شاید محمد علی جناح بھی نہ کرتے!”

انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی کا مسلمانوں کی وقف جائیدادیں بیچ کر مسلم لڑکیوں کی شادیوں کے لیے فنڈ بنانے کا اعلان ایک کھلا سیاسی دھوکہ ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ یہی حکومت مسلمانوں کو کبھی دہشتگرد تو کبھی غدار کہتی رہی ہے، اور اب انہی کے نام پر سیاسی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ اس وقف ترمیمی بل کو بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی جائیدادوں پر حکومتی کنٹرول بڑھانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، جس پر مختلف مسلم تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں نے بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • بجلی کی قیمتوں میں ریلیف اس سے زیادہ ہونا چاہیے: حافظ نعیم الرحمٰن
  • بھارتی راجیہ سبھا سے بھی متنازع وقف ترمیمی بل منظور، شیوسینا کی مودی پر سخت تنقید
  • مولانا فضل الرحمان کے بغیر پی ٹی آئی کچھ نہیں کر سکے گی، جاوید چوہدری
  • ہم کسی بھی ادارے کے خلاف نہیں ہیں، صنم جاوید
  • بجلی کی قیمتوں میں کمی کا خیر مقدم، ’حق دو عوام کو‘ تحریک آگے بڑھائیں گے، حافظ نعیم
  • بجلی نرخ میں تاریخی کمی حکومت کا عوام سے کیا وعدہ وفا کرنے کی طرف ایک اہم قدم ،اویس لغاری
  • قرض جان لڑانے سے نہیں بہتر منصوبہ بندی سے ادا ہو گا!
  • سیاسی اختلافات کی سزا عوام کو کیوں؟
  • بلوچستان میں موسم گرم ہونے لگا