Islam Times:
2025-04-05@01:09:46 GMT

ٹرمپ کی دھمکی اور ایران کا دفاعی پروگرام

اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT

ٹرمپ کی دھمکی اور ایران کا دفاعی پروگرام

اسلام ٹائمز: ایران کے میزائل سسٹم اور ڈرون ٹیکنالوجی نے امریکیوں کی نیندیں حرام کی ہوئی ہیں۔ امریکی و اسرائیلی دفاعی نظام بھی ایران کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوچکے ہیں۔ اس صورتحال میں امریکہ اگر ایران پر حملے کی حماقت کرتا ہے تو جوابی وار برداشت نہیں کر پائے گا، کیونکہ ایرانیوں کیساتھ جدید ترین ٹیکنالوجی کیساتھ ساتھ ایک ایسی چیز بھی ہے، جو امریکہ و اسرائیل کے پاس نہیں، وہ ہے، جذبہ شہادت، ایرانیوں میں یہ جذبہ بدرجہ اُتم موجود ہے اور اس کا مقابلہ دنیا کی کوئی ٹیکنالوجی نہیں کرسکتی۔ تحریر: تصور حسین شہزاد

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے اپنا ایٹمی پروگرام بند نہ کیا تو مارچ میں ایران پر بمباری کرکے اس کی ایٹمی تنصیبات کو تباہ کر دیا جائے گا۔ حیرت ہے ڈونلڈ ٹرمپ ایک طرف ایران کیساتھ ’’بات چیت‘‘ کے ذریعے مسائل حل کرنے کیلئے کوشاں ہے تو دوسری جانب دھمکیاں بھی دے رہا ہے، بلکہ کھلی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ کسی بھی خود مختار ملک، جس کا ایٹمی پروگرام پُرامن مقاصد کیلئے ہے، اُسے اس انداز میں دھمکیاں نہیں دی جا سکتیں۔ یہ ایک لمحہ فکریہ ہے، ان ممالک کیلئے جو امریکہ سے کوئی اُمیدیں لگائے بیٹھے ہیں، کیونکہ کہا جاتا ہے کہ امریکہ کی دوستی اُس کی دشمنی سے زیادہ خطرناک ہے۔ امریکہ دوستی کی آڑ میں زیادہ نقصان پہنچاتا ہے، چہ جائیکہ وہ کھلا دشمن ہو۔

ایران کی جانب سے چاہیئے تو یہ تھا کہ ایرانی صدر ہی اپنے امریکی ہم منصب کو دھمکی کا جواب دیتے، یا وزارت خارجہ اس پر ردعمل دیتی، مگر صدر یا ایرانی وزارت خارجہ کی بجائے رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا امریکہ کو جواب دینا کہ ’’ایران پر حملے کی حماقت کی تو امریکہ کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔‘‘ اس بات کی دلیل ہے کہ ایران ’’بھرپور اور تباہ کن‘‘ جواب دینے کی پوزیشن میں ہے۔ ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے محمد بن سلمان کیساتھ گفتگو میں واضح پیغام دیا ہے کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، مگر اپنے دفاع کیلئے سب کچھ کرنے کی پوزیشن میں ہے۔

امریکی صدر کی یہ دھمکیاں، صرف ایران کو نہیں ہیں، بلکہ ان کا نشانہ دیگر مسلم ممالک بھی بنیں گے، ایران پر اگر جنگ مسلط کی جاتی ہے تو بہت سے مسلم ممالک بے ساختہ اس جنگ کی لپیٹ میں آجائیں گے، کچھ امریکہ کی دشمنی تو کچھ امریکہ کی دوستی میں اس آگ کا ایندھن بنیں گے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ نے یہ دھمکی کیوں دی ہے؟ تو مبصرین کہتے ہیں کہ ٹرمپ کی اس دھمکی کا مقصد نیتن یاہو کا اقتدار بچانا ہے، کیونکہ اسرائیل میں نیتن یاہو  کا اقتدار ہچکولے کھا رہا ہے۔ اب نیتن یاہو کی کوشش ہے کہ اسرائیل کیخلاف کوئی جنگی محاذ کھلے اور اسرائیل کے جو عوام دو دھڑوں میں تقسیم ہوچکے ہیں، وہ ایک پیج پر آجائیں۔

اسرائیل میں ایک طبقہ سیکولر ہے، دوسرا بنیاد پرست، سیکولر طبقہ وہ ہے، جو بیرونی ممالک سے لا کر اسرائیل میں بسائے گئے تھے، انہیں بڑے بڑے سبز باغ دکھائے گئے تھے، مگر اب اسرائیل کا دفاع تارِعنکبوت ثابت ہونے پر یہ لوگ خوفزدہ ہیں اور کئی تو اسرائیل چھوڑ کر اپنے اپنے آبائی ممالک جا چکے ہیں، جو اسرائیل میں موجود ہیں، وہ حکومت پر مسلسل دباو ڈال رہے ہیں کہ حماس کی قید سے اسرائیلی قیدیوں کو رہا کروایا جائے، جنگ بند کی جائے اور غزہ پر حملے روکے جائیں، تاکہ اسرائیل پر جوابی وار نہ ہو، اسرائیلیوں کا یہ دھڑا نیتن یاہو کیلئے خطرہ بن چکا ہے۔

دوسرا دھڑا بنیاد پرست یہودی ہیں، یہ وہ اسرائیلی ہیں، جو عرب ہیں اور مقامی ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ گریٹر اسرائیل کے منصوبے پر عمل ہو اور اس کیلئے جنگ کو جنتا وسیع کیا جائے، اسے وسعت دی جائے۔ یوں ان دونوں دھڑوں کے درمیان بھی کشیدگی ہے۔ اس کشیدگی اور دباو کے باعث سارا پریشر نیتن یاہو پر ہے۔ اس لئے نتین یاہو کی خواہش ہے کہ اسرائیل پر جنگ مسلط کروا دی جائے۔ یہ دنیا بھر کا اصول ہے کہ جب کسی ملک پر حملہ ہوتا ہے، تو اس کے عوام خود بخود اپنی لڑائی اور اختلافات چھوڑ کر ایک پیج پر متحد ہو جاتے ہیں۔ نیتن یاہو کی بھی یہی خواہش ہے کہ اسرائیلی یہودیوں کا جو دھڑا اس کے اقتدار کیلئے خطرہ بن رہا ہے، وہ اسرائیل پر جنگ مسلط ہونے سے حکومت کی مخالفت چھوڑ کر حمایت میں آ جائے گا۔ اس سے تھوڑا بہت نقصان تو ہوگا، لیکن نیتن یاہو کا اقتدار بچ جائے گا۔

اس لئے نیتن یاہو ٹرمپ کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کر رہا ہے۔ ایک محدود پیمانے پر جنگ ہوسکتی ہے کہ امریکہ ایران پر کوئی میزائل داغ دے اور جواب میں ایران اسرائیل کو نشانہ بنا دے، تو یوں اسرائیلی عوام متحد ہو جائیں۔ مبصرین کہتے ہیں کہ ایران واقعی جنگ نہیں چاہتا، ایرانی صدر نے بھی یہی پیغام دیا ہے، لیکن اب ایران کی دفاعی پوزیشن بہت زیادہ مضبوط ہے، اسے دفاعی میدان میں نمایاں کامیابیاں ملی ہیں۔ ایران کو دفاعی میدان میں چین اور روس کی بھی حمایت حاصل ہے۔ چین اور روس نے جو جدید ہتھیار بنائے ہیں، ایران کیساتھ امریکی جنگ کی صورت میں انہیں بھی آزمایا جا سکتا ہے اور اس صورتحال سے امریکہ و اسرائیل دونوں اچھی طرح آگاہ ہیں۔

ایران کے میزائل سسٹم اور ڈرون ٹیکنالوجی نے امریکیوں کی نیندیں حرام کی ہوئی ہیں۔ امریکی و اسرائیلی دفاعی نظام بھی ایران کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوچکے ہیں۔ اس صورتحال میں امریکہ اگر ایران پر حملے کی حماقت کرتا ہے تو جوابی وار برداشت نہیں کر پائے گا۔ کیونکہ ایرانیوں کیساتھ جدید ترین ٹیکنالوجی کیساتھ ساتھ ایک ایسی چیز بھی ہے، جو امریکہ و اسرائیل کے پاس نہیں، وہ ہے، جذبہ شہادت، ایرانیوں میں یہ جذبہ بدرجہ اُتم موجود ہے اور اس کا مقابلہ دنیا کی کوئی ٹیکنالوجی نہیں کرسکتی۔ ایرانی فوجی، شہادت کو اپنے لئے اعزاز سمجھتے ہیں، جہاں موت کا خوف ختم ہو جائے وہاں، ٹیکنالوجی کو بھی شکست ہو جاتی ہے۔

ایران نے اپنے میزائلوں کا رُخ امریکی اڈوں کی طرف کر دیا ہے۔ یمن میں بھی حملوں کو ’’وقتی طور پر‘‘ روک دیا گیا ہے، جس کا مقصد ایران کا یو ٹرن نہیں، بلکہ یمن کی پوزیشن کو مزید مضبوط بنانا ہوسکتا ہے۔ اس لئے جو حلقے یہ سمجھ رہے ہیں کہ ایران نے یمن سے ہاتھ اُٹھا لیا ہے، وہ یہ یاد رکھیں کہ یمن ایران کا دفاع ہے اور ایرانی اپنے دفاع سے غافل نہیں، بلکہ وہ پہلے سے زیادہ مضبوط اور بیدار ہیں اور اس صورتحال میں ایران پر حملے کی حماقت امریکہ و اسرائیل کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

.

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایران پر حملے کی حماقت امریکہ و اسرائیل اسرائیل میں اسرائیل کے کہ اسرائیل اس صورتحال نیتن یاہو ایران کے ایران کی کہ ایران جائے گا نہیں کر یاہو کی ہیں کہ اور اس ہے اور رہا ہے

پڑھیں:

کیا ایران پر حملہ ہوگا؟

اسلام ٹائمز: امریکہ اسوقت اپنی تاریخ کے سب سے کمزور دور میں جی رہا ہے اور بہت سے عالمی تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ ملک تباہی کے دہانے پر ہے۔ اس تناظر میں وہ ایران سے جنگ جیسے ایک بڑے بحران اور چیلنج کا سامنا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ پس امریکہ کی یہ شیخیاں اور گیدڑ بھبکیاں ایران میں موجود انکے اندرونی ایجنٹوں کی حوصلہ افزائی کیلئے ہیں، لہذا ایران کو اندرونی فتنہ پروری سے ہوشیار رہنا ہوگا۔ تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی

ان دنوں سوشل میڈیا اور الیکٹرک میڈیا میں درج ذیل خبریں بکثرت دیکھنے کو مل رہی ہیں۔
1۔ ایک مخصوص امریکی جنگی جہاز کی خلیج فارس کی طرف روانگی۔
2۔ قطر میں امریکی بی ٹو بمبار طیاروں کی تعیناتی۔
3۔ خطے میں امریکی اڈوں کو الرٹ کر دیا گیا۔
4۔ ایران پر جلد بمباری کی جائے گی۔
5۔ کچھ عرصہ قبل اسرائیلی بمباری میں ایران کے دفاعی مراکز مکمل طور پر تباہ ہوگئے تھے۔
6۔ مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی کارگو پروازوں میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
7۔ امریکا نے ایران کو انتباہی پیغام بھیج دیا ہے۔
8۔ روس نے امریکا کو ایران پر حملے سے خبردار کیا ہے اور۔۔۔۔۔۔

ان خبروں کی روشنی میں یہ سوال بہت اہم ہے کہ
ا۔ غیر ملکی میڈیا اس طرح کی خبروں کو کیوں اہمیت دیتا ہے۔؟
ب۔ کیا امریکہ کے پاس ایران پر حملہ کرنے کے لیے ضروری شرائط ہیں۔؟
ج۔ کیا ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی رکاوٹیں ہیں۔؟
د۔ امریکہ کا مقابلہ کرنے میں ایران کی ممکنہ کمزوری کیا ہے۔؟
ان سوالوں کے جواب کے لیے چند نکات قابلِ غور ہیں۔
 1۔ تجربے سے معلوم ہوا ہے کہ امریکی جب بھی کسی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے قریب پہنچتے ہیں تو وہ مخصوص میڈیا آپریشنز کے ذریعے نفسیاتی دباؤ پیدا کرتے ہیں، تاکہ مذاکرات کو اپنی مرضی کے مطابق آگے بڑھا سکیں۔ حالانکہ وہ فوجی تصادم کے خواہاں نہیں ہوتے ہیں۔

2۔ ایران کے ناسازگار اقتصادی اور معاشی حالات کو بہانہ بنا کر بے اطمینانی پیدا کرنا  اور اندرونی انتشار پھیلانے کے منصوبے تیار کرنا، جیسے انہوں نے ماضی کی ناکام بغاوتوں میں باہر کے دباؤ کا سہارا لیا تھا۔ پس فوجی حملے کے پروپیگنڈے کا مقصد حزب اختلاف کو مضبوط کرنا اور ایران میں موجود انقلاب مخالف قوتوں کو اپنے ساتھ ملانا ہے۔
3۔ جو اعلان کیا گیا ہے، اس کے مطابق امریکہ دنیا کا سب سے زیادہ مقروض ملک ہے اور اس وقت شدید اقتصادی دباؤ میں ہے۔ امریکی معیشت شدید مشکلات کا شکار ہے، لہذا ٹرمپ اور اس کی کاروباری سرشت کے لیے دو ٹریلین ڈالر کی اس جنگ کو برداشت کرنا بالکل بھی قابل برداشت نہیں ہے۔ فوربس میگزین نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ایران کے ساتھ فوجی تنازعے کی لاگت پہلے تین مہینوں میں 60 بلین سے 2 ٹریلین ڈالر کے درمیان ہوسکتی ہے۔ یہ اعداد و شمار ایک ایسی معیشت کے لیے بہت بھاری ہیں جسے داخلی چیلنجوں کا سامنا ہو۔

4۔ کسی بھی امریکی حملے کی صورت میں ایران کم سے کم لاگت اور فوجی سازوسامان کے ساتھ دنیا کی اہم اقتصادی شاہراہ آبنائے ہرمز کو بند کرسکتا ہے اور اس کا مطلب تیل کی قیمتوں میں 200 ڈالر سے زائد کا اضافہ ہوگا، جسے دنیا اور امریکا برداشت نہیں کرسکیں گے۔
5۔ عراق اور افغانستان پر امریکی حملے کا ناکام تجربہ امریکیوں کے لیے ایک اور رکاوٹ ہے اور یہ ناکامی یقیناً ان کی فیصلہ سازی پر اثر انداز ہوتی ہے۔
6۔ ایران پر فوجی حملے کی علاقائی ممالک اور یہاں تک کہ یورپی ممالک کی طرف سے وسیع پیمانے پر مخالفت امریکہ کو اس اقدام کے بارے میں فطری طور پر بہت  زیادہ تذبذب کا شکار کرے گی۔

7۔ امریکیوں کے لیے اس وقت اصل ترجیح ایران پر حملہ نہیں ہے۔ امریکیوں کو چین، تائیوان، روس اور یوکرین جیسے اہم مسائل نیز یورپ اور کینیڈا کے ساتھ نئے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ اس صورت حال میں امریکہ کے لئے ایک نیا محاذ کھولنا بہت مہنگا پڑے گا۔
8۔ ایران کی فوجی طاقت اور ممکنہ انتقامی کارروائیاں ایک اور نکتہ ہے، جو امریکیوں کے لیے ایران پر حملہ کرنے کے فیصلہ کو مشکل بنا دیتا ہے۔ ایران کے میزائل اور ڈرون طاقت کے علاوہ، دنیا بھر میں مزاحمتی گروہ ایران پر امریکی حملے کا منہ توڑ جواب دے سکتے ہیں۔ مختصراً امریکہ اس وقت اپنی تاریخ کے سب سے کمزور دور میں جی رہا ہے اور بہت سے عالمی تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ ملک تباہی کے دہانے پر ہے۔ اس تناظر میں  وہ ایران سے جنگ جیسے ایک بڑے بحران اور چیلنج کا سامنا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ پس امریکہ کی یہ شیخیاں اور گیدڑ بھبکیاں ایران میں موجود ان کے اندرونی ایجنٹوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ہیں، لہذا ایران کو اندرونی فتنہ پروری سے ہوشیار رہنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • امریکہ، قومی سلامتی ایجنسی کا ڈائریکٹر برطرف
  • کیا ایران پر حملہ ہوگا؟
  • السیسی سے ٹرمپ کی سات درخواستیں
  • ٹرمپ کا طبل جنگ، روس اور چین کہاں کھڑے ہیں؟
  • اگر ایران امریکا جوہری مذاکرات ناکام ہوئے تو فوجی تصادم ہوگا، فرانس کا دعویٰ
  • ٹرمپ کی ایران کو دھمکی، تین عرب ممالک کا امریکہ کے ساتھ تعاون سے انکار
  • ایران کو دھمکی کے بعد او آئی سی کا اجلاس طلب نہ کرنا مجرمانہ غفلت ہے، فیصل محمد
  • اسرائیل کی غزہ کے متعدد علاقوں پر قبضہ کرکے صیہونی ریاست میں شامل کرنے کی دھمکی
  • ڈیاگو گارشیا جزیرے پر جوابی حملے کی دھمکی کا مطلب کیا ہے؟