دبئی : دی سٹی فاؤنڈیشن امریکہ ایک غیر نفع بخش تنظیم ہے جو پاکستان کے پسماندہ علاقوں میں معیاری تعلیمی سہولیات فراہم کررہی ہے اسے اس کام میں لکشمی فوڈز کا تعاون بھی حاصل ہے ۔ دونوں اداروں کو اس شراکت داری پر فخر ہے اور وہ اسے مستقبل میں جاری رکھنے سے متعلق بھی پرعزم ہیں۔

اپنی کوششوں کو جاری رکھتے ہوئے دی سٹی فاؤنڈیشن نے امریکی شہر ٹریبیکا میں ایک عشائیہ کا اہتمام کیا جس میں 300 سے زائد صاحب ثروت افراد نے شرکت کی اور پاکستان میں نادار بچوں کی تعلیمی ضروریات پوری کرنے کے لئے ساڑھے تین لاکھ ڈالر سے زائد کا عطیہ دیا ۔ اس عشائیہ کی میزبانی امریکی فوڈ کمپنی لکشمی نے کی تھی۔

دی سٹی فاؤنڈیشن عرصہ 30 برس سے تعلمی شعبے میں فعال کردار ادا کررہی ہے اور اس عرصے میں 2 ہزار سے زائد تعلیمی اداروں میں 3 لاکھ سے زائد طلبا مستفید ہوئے ہیں۔
لکشمی فوڈ سٹی کالج آف نیو یارک (سی سی این وائی) میں اسٹوڈنٹ آئی سی این اے پارٹی کے لئے بھی ایک تقریب کا بندوبست کرچکی ہے جس میں 350 سے زائد پاکستانی، بنگلہ دیشی اور بھارتی طلبہ نے شرکت کرکے اپنے آبائی وطن کے ماحول سے لطف اٹھایا۔

لکشمی فوڈ کی اس کاوش کو آئی سی این اے ریلیف یو ایس اے کے اسماعیل الپار نے سراہا ہے ۔ ان کا کہنا وہ گزشتہ 3 برس سے لکشمی کے ساتھ کام کررہے ہیں اور یہ تجربہ شاندار رہا ہے۔ ہم اس شراکت دار کو جاری رکھنا اور مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔

Post Views: 1.

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: دی سٹی فاؤنڈیشن

پڑھیں:

خیبر پختونخوا کی سرکاری جامعات میں انسداد ہراسانی قوانین کے فوری نفاذ کا فیصلہ

صوبے کے سرکاری جامعات میں انسداد ہراسانی قوانین کے فوری نفاذ کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے لیے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ نے محکمہ اعلی تعلیم کو مراسلہ ارسال کردیا۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے بھر کی سرکاری جامعات میں انسداد ہراسانی قوانین کو فوری طور پر نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، وزیراعلیٰ نے اس حوالے سے محکمہ تعلیم کو مراسلہ ارسال کردیا۔ اعلامیے کے مطابق چانسلر کا منصب سنبھالنے کے بعد وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی جانب سے سرکاری جامعات میں اصلاحاتی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے، صوبے کے سرکاری جامعات میں انسداد ہراسانی قوانین کے فوری نفاذ کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے لیے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ نے محکمہ اعلی تعلیم کو مراسلہ ارسال کردیا۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ تعلیمی اداروں اور دفاتر میں خواتین کی جنسی ہراسانی کے تدارک کے لئے مختلف قوانین، گائیڈ لائنز اور پالیسیز پر مشتمل فریم ورک موجود ہے تاہم بعض جامعات میں اس فریم ورک کے عملی نفاذ اور اس پر موثر عمل درآمد میں کمی خامیاں موجود ہیں جس کی وجہ سے بعض جامعات میں ہراسانی کے مبینہ واقعات میڈیا میں رپورٹ ہوئے۔

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں اس طرح کے مبینہ واقعات نہ صرف مروجہ قوانین بلکہ ہمارے اخلاقی اقدار کی سنگین خلاف ورزی ہیں، طالبات اور خواتین عملے کی ہراسانی سے تحفظ ایک قانونی ضرورت اور خواتین کی حصول تعلیم تک رسائی کے لئے بنیادی شرط ہے۔ مراسلے میں ہدایت دی گئی ہے کہ اس مقصد کے لئے محکمہ اعلی تعلیم اپنے زیر انتظام تمام اعلی تعلیمی اداروں میں ضروری اقدامات یقینی بنائے، اعلی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلباء کو انسداد ہراسانی کے موجودہ قوانین کے بارے واقفیت اور آگاہی جائے، مروجہ قانون اور پالیسی کے مطابق اعلی تعلیمی اداروں میں ہراسمنٹ انکوائری کمیٹیاں تشکیل دی جائیں، اس سلسلے میں کم از کم ایک خاتون پر پر مشتمل فوکل پرسنز مقرر کرکے انکے رابطہ نمبرز یونیورسٹیوں کے ویب سائٹس پر شائع کئے جائیں۔

ہراسانی سے متعلق شکایات کے ازالے اور رپورٹنگ کا موثر میکنزم وضع کیا جائے، وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ نے مراسلے میں کہا ہے کہ اس ضمن میں محکمہ اعلیٰ تعلیم کی طرف سے جاری کردہ پروٹوکولز اور گائیڈ لائنز پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے،  تمام اعلی تعلیمی ادارے دس دنوں میں مذکورہ بالا احکامات پر عملدرآمد یقینی بنا کر رپورٹ پیش کریں بصورت دیگر مقررہ وقت تک عمل درآمد نہ کرنے والے اداروں کے متعلقہ حکام کے خلاف مروجہ قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • سٹیزن فاؤنڈیشن (ٹی سی ایف) یو ایس اے کا ٹریبیکا میں افطار گالا
  • تعلیمی بورڈز کے نئے چیئرمین تعینات، کون ؟ جانیں
  • خیبر پختونخوا کی سرکاری جامعات میں انسداد ہراسانی قوانین کے فوری نفاذ کا فیصلہ
  • پشاور، الخدمت کی جانب سے یتیم و مستحق بچوں میں تحائف اور عیدی تقسیم
  • خیبرپختونخوا کی سرکاری جامعات میں انسداد ہراسانی قوانین کے فوری نفاذ کا فیصلہ
  • یمن میں 20 سے زائد حملے، ایک شخص ہلاک: حوثی باغی
  • عید کی تعطیلات ختم، تعلیمی ادارے  تاحال بند، کل  بھی چھٹی ہوگی
  • عید الفطر کی تعطیلات کے بعد دفاتر، تعلیمی اور مالیاتی ادارے کھل گئے
  • پشاور: الخدمت کی جانب سے یتیم و مستحق بچوں میں تحائف اور عیدی تقسیم