دی سٹی فاؤنڈیشن امریکہ کا لکشمی فوڈز کے اشتراک سے عشائیہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
دی سٹی فاؤنڈیشن امریکہ کا لکشمی فوڈز کے اشتراک سے عشائیہ WhatsAppFacebookTwitter 0 4 April, 2025 سب نیوز
دبئی : دی سٹی فاؤنڈیشن امریکہ ایک غیر نفع بخش تنظیم ہے جو پاکستان کے پسماندہ علاقوں میں معیاری تعلیمی سہولیات فراہم کررہی ہے اسے اس کام میں لکشمی فوڈز کا تعاون بھی حاصل ہے ۔ دونوں اداروں کو اس شراکت داری پر فخر ہے اور وہ اسے مستقبل میں جاری رکھنے سے متعلق بھی پرعزم ہیں۔
اپنی کوششوں کو جاری رکھتے ہوئے دی سٹی فاؤنڈیشن نے امریکی شہر ٹریبیکا میں ایک عشائیہ کا اہتمام کیا جس میں 300 سے زائد صاحب ثروت افراد نے شرکت کی اور پاکستان میں نادار بچوں کی تعلیمی ضروریات پوری کرنے کے لئے ساڑھے تین لاکھ ڈالر سے زائد کا عطیہ دیا ۔ اس عشائیہ کی میزبانی امریکی فوڈ کمپنی لکشمی نے کی تھی۔
دی سٹی فاؤنڈیشن عرصہ 30 برس سے تعلمی شعبے میں فعال کردار ادا کررہی ہے اور اس عرصے میں 2 ہزار سے زائد تعلیمی اداروں میں 3 لاکھ سے زائد طلبا مستفید ہوئے ہیں۔
لکشمی فوڈ سٹی کالج آف نیو یارک (سی سی این وائی) میں اسٹوڈنٹ آئی سی این اے پارٹی کے لئے بھی ایک تقریب کا بندوبست کرچکی ہے جس میں 350 سے زائد پاکستانی، بنگلہ دیشی اور بھارتی طلبہ نے شرکت کرکے اپنے آبائی وطن کے ماحول سے لطف اٹھایا۔
لکشمی فوڈ کی اس کاوش کو آئی سی این اے ریلیف یو ایس اے کے اسماعیل الپار نے سراہا ہے ۔ ان کا کہنا وہ گزشتہ 3 برس سے لکشمی کے ساتھ کام کررہے ہیں اور یہ تجربہ شاندار رہا ہے۔ ہم اس شراکت دار کو جاری رکھنا اور مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔
.ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: دی سٹی فاؤنڈیشن
پڑھیں:
سائنسدانوں کی بڑی تعداد امریکہ سے ہجرت کر سکتی ہے، سروے رپورٹ
معروف جریدے نیچر کی جانب سے کیے گئے ایک سروے میں بتایا گیا ہے کہ یورپ اور کینیڈا کو ان سائنسدانوں کے لیے ہجرت کے لیے اہم مقامات ہو سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ڈونالڈ ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد امریکہ میں کیے گئے ایک سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ سائنسدانوں کی بڑی تعداد ملک چھوڑ سکتی ہے۔ سروے نتائج کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں نے ملک کے بہت سے سائنسدانوں کو اپنی زندگیوں اور کیریئر پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ معروف جریدے نیچر کی جانب سے کیے گئے ایک سروے میں 1200 سے زائد سائنسدانوں میں سے تین چوتھائی یا تقریباً 900 سائنسدانوں نے کہا ہے کہ وہ امریکہ سے ہجرت کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں یورپ اور کینیڈا کو ان سائنسدانوں کے لیے ہجرت کے لیے اہم مقامات قرار دیا گیا ہے، یہ رجحان خاص طور پر ان نوجوان محققین میں نمایاں ہے جو اپنے کیریئر کے ابتدائی مراحل میں ہیں۔ سروے میں حصہ لینے والے 690 پوسٹ ڈاکٹریٹ محققین میں سے 548 نے کہا کہ وہ ملک چھوڑنے پر غور کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈاکٹریٹ کے 340 طلباء میں سے 255 کا بھی یہی فیصلہ ہے، اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے تحقیقی بجٹ میں زبردست کٹوتی کی ہے اور وفاق کی مالی اعانت سے چلنے والی سائنسی تحقیق کے بڑے حصے کو روک دیا ہے۔