نیویارک(انٹرنیشنل ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئے ٹیرف کے اعلان کے بعد امریکی مارکیٹ پانچ سال کی کم ترین سطح تک گر گئی ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ملک کی بڑی کمپنیوں کے ٹریلین ڈالر بے وقعت ہو کر رہ گئے ہیں اور ماہرین نے شدید کسادبازاری کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔
جمعرات کو ملک کے تمام شعبہ جات ہی نقصان میں جاتے دیکھے گئے اور کووڈ 19 کے بعد سے پانچ سال میں پہلی بار امریکہ کی تجارتی مارکیٹس ایک روز میں سب سے بڑے ڈراپ کے ساتھ بند ہوئیں۔
امریکہ سمیت دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی دیکھی گئی۔ ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں 4.

8 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی جو 2020 کے بعد سب سے بڑی کمی ہے۔ جبکہ ٹیکنالوجی کمپنیوں پر مبنی نیس ڈیک میں چھ فیصد اور ڈاؤ جونز میں چار فیصد کی گراوٹ رہی۔
جمعے کو کاروبار کے آغاز پر جاپان کا نکی 225 انڈیکس 1.8 فیصد گر گیا ہے۔
خیال رہے کہ صدر ٹرمپ نے تمام ممالک پر 10 فیصد درآمدی ڈیوٹی عائد کی ہے جبکہ متعدد مخصوص ممالک سے درآمدات پر بہت زیادہ ٹیکس عائد کیے ہیں جن میں اعلی تجارتی شراکت دار چین اور یورپی یونین بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب امریکہ میں بینک، اشیائے خورونوش، ملبوسات، فضائی اور ٹیکنالوجی سے وابستہ کمپنیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔
متعدد ماہرین نے ٹیرف کو متوقع سے بھی زیادہ بدترین قرار دیا ہے اور سرمایہ کار ان کمپنیوں میں سے اپنے شیئرز نکال رہے ہیں جن کے بارے میں خدشات ظاہر کیے گئے ہیں کہ وہ نئے ٹیکسوں سے زیادہ متاثر ہوں گی۔
بہت سے معاملات ایسے ہیں جن میں یہ ٹیکس براہ راست صارف تک منتقل ہو گا، اگر صارفین قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے اپنے اخراجات میں کمی کرتے ہیں تو کمپنیوں کی پیداوار کم ہو گی، جس سے معاشی ترقی رک سکتی ہے۔
صارفین کی جانب سے خرچ کیے جانے والے پیسے امریکی معشیت کا تقریباً 70 فیصد بنتے ہیں۔
فچ ریٹنگز کے سربراہ اولو سونولا کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک گیم چینجر ہے، صرف امریکی نہیں بلکہ عالمی معیشت کے لیے اور بہت سے ممالک ممکنہ طور پر کساد بازاری کا شکار ہوں گے۔‘
ڈاؤ جانز میں ایک سینیئر مبصر کا کہنا ہے کہ ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں 4.8 فیصد کے ڈراپ کے ساتھ 2 کروڑ ڈالر کی قدر بے وقعت ہو کر رہ گئی ہے۔
نئے ٹیرفز سے متاثر ہونے والی ایئر لائنز
اگرچہ ایئرلائنز معاشی لحاظ سے ایک مضبوط سال کی منصوبہ بندی کر رہی تھیں تاہم موجودہ حالات میں ایسا دکھائی نہیں دے رہا کیونکہ کساد بازاری کے پیش نظر لوگ اپنے سفری بجٹ میں کمی لائے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یونائیٹڈ ایئرلائنز کے کاروبار میں 15.6 فیصد کمی آئی ہے جبکہ امریکن ایئرلائنز کو 10.2 فیصد اور ڈیلٹا ایئرلائنز کو 10.7 فیصد کی کمی آئی۔
کپڑے اور جوتوں کے برانڈز پر ٹیرف پالیسی کے اثرات
کپڑے اور جوتے بنانے والی کمپنیوں کا سامان زیادہ تر امریکہ سے باہر تیار ہوتا ہے اور نئے اقدام کا مطلب یہ ہے کہ ان کو ان کو اس سامان پر محصول یا درآمدی ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔
جوتوں کے مشہور برانڈ نائیکی کا کاروبار 14.4 فیصد تک کم ہوا ہے۔ اسی طرح انڈر آرمر کے کاروبار میں 18.8 فیصد کی کمی آئی ہے جبکہ لولومن، رالف لورن اور لیوی سٹراس کے کاروبار بھی متاثر ہوئے ہیں۔
ایمازون کے کاروبار میں 9 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ ٹارگٹ، بیسٹ بائے، ڈالر ٹری اور کوہل کا کاروبار بھی متاثر ہوا ہے۔
ٹیکنالوجی کمپنیوں پر اثرت
کمپیوٹرز بنانے اور بیچنے والی کمپنیوں کے علاوہ سمارٹ فون اور ٹیکنالوجی سے جڑی دوسری مصنوعات تیار کرنے والے ایسے ادارے ہیں جو دوسرے ممالک سے پرزے اور دیگر سامان منگواتے ہیں جبکہ بعض کمپنیاں تو اپنی پوری پروڈکٹ ہی ملک سے باہر تیار کرتی ہیں اور بعد میں اسے درآمد کرتی ہیں۔ ایسی کمپنیوں کے لیے نئے ٹیرف کا مطلب یہ ہے کہ وہ جب بھی سامان امریکہ لائیں گے تو ان کو ٹیرف ادا کرنا پڑے گا۔
رپورٹ کے مطابق ایپل کے منافع میں 9.2 فیصد کی کمی آئی ہے جبکہ ایچ پی، ڈیل اور نویڈیا بھی متاثر ہوئی ہیں۔
مالیاتی ادارے اور بینکس پر اثرات
کساد بازری کے پیش نظر عام لوگ اپنے اخراجات میں کمی لا رہے ہیں اور سروسز کا استعمال بھی کم کر رہے ہیں جس کی وجہ سے بینکس بھی کافی متاثر ہوئے ہیں اور ویلز فارگو کے کاروبار میں 9.1 فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے جبکہ بینک آف امریکہ اور جے پی مورگن بھی کافی متاثر ہوئے ہیں۔
ریستورانوں پر ٹیرف کے اثرات
اپنے معاشی مستقبل کے حوالے سے پریشان امریکیوں میں پہلے سے ہی ریستورانوں میں کھانے پینے کے رجحان میں کمی دیکھی گئی تھی۔ نئے ٹیکسز کے بعد سے سٹاربکس، کریکر بیرل، چیز کیک فیکٹری سمیت دوسری کمپنیوں کو منافع میں شدید کمی کا سامنا ہے۔
مزیدپڑھیں:بیوی کی انسٹاگرام ویڈیو نے شوہر کو نوکری سے معطل کرادیا

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کے کاروبار میں فیصد کی کمی ئی ہے جبکہ ہیں اور گئی ہے کے بعد

پڑھیں:

نئی عالمی تجارتی کشمکش کے مضمرات

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران یوم آزادی کے موقع پر یورپی یونین اور 46 ممالک پر نئے تجارتی محصولات کے نفاذ کا اعلان کیا۔

امریکی صدر نے کہا کہ حاصل شدہ محصولات کو امریکا میں ٹیکس کی شرح کو کم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ یورپی یونین پر 20 فیصد اضافی ٹیکس، چین پر 34 فیصد اور جاپان پر 24 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ بھارت پر 26 فیصد، اسرائیل پر 17 فیصد اور برطانیہ پر 10 فیصد ٹیرف لگایا جائے گا، جب کہ اب پاکستان پر 29 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔

 کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے محصولات بڑھانے کے لیے عالمی تجارتی جنگ چھیڑ دی ہے۔ امریکی صدر کے بظاہر یہ اقدامات امریکی تجارتی تعلقات میں عدم توازن کو درست کرنے اور ملکی صنعتوں کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے ہیں، تاہم ان فیصلوں سے عالمی قیمتوں پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جب کہ امریکی کاروباری شعبے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔

ماہرین اقتصادیات خبردار کر رہے ہیں کہ ان محصولات کے نتیجے میں تجارتی جنگ چھڑ سکتی ہے اور قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ بڑے امریکی تجارتی شراکت داروں کے ساتھ ایک نئی تجارتی جنگ امریکا اور عالمی نمو کو تباہ کردے گی، جب کہ صارفین اور کمپنیوں، دونوں کے لیے قیمتیں بڑھنے کا سبب بن جائے گی۔ متعدد امریکی تجارتی شراکت داروں اور اتحادی ممالک نے اس تجارتی پالیسی کو پسند نہیں کیا ہے، جب کہ جوابی ٹیرف لگائے جانے کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں، جس سے اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی ٹیرف پالیسی نے دنیا کی بڑی معیشتوں کے درمیان جنگ جیسا ماحول بنا دیا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اس سے عالمی ترقی سست پڑسکتی ہے اور افراط زر میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ بظاہر صدر ٹرمپ کے فیصلے کے اثرات پاکستان تک نہیں پہنچ رہے لیکن ماہرین اس سلسلے میں ایک محتاط پالیسی کی ضرورت پر بات کر رہے ہیں جو صدر ٹرمپ کے دور میں پاک امریکا تجارت میں آنے والے ممکنہ رکاوٹوں سے نمٹ سکے۔ بہتر ہوگا کہ پاکستان علاقائی تجارت کو مضبوط بنائے اور کینیڈا و میکسیکو میں امریکی مہنگی اشیا کی وجہ سے پیدا مسابقتی گنجائش کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے۔

 صدر ٹرمپ کی خارجہ، داخلی اور تجارتی پالیسی نے عالمی سطح پر کشیدگی پیدا کر دی ہے اور ممالک اپنی خود مختاری کو برقرار رکھنے کی فکر میں متبادل طریقوں پر غورکررہے ہیں۔

دنیا کے کئی ممالک میں ڈالرز کے بجائے اپنی مقامی کرنسیوں میں تجارت کا عمل کچھ سالوں سے بڑھا ہے، سب سے پہلے چین نے دیگر ممالک کے ساتھ اپنی کرنسی میں تجارت شروع کی، چین نے اپنے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ مقامی کرنسی میں تجارت کرنے کی پالیسی اس وقت اختیارکی جب امریکا کی مالیاتی پالیسیوں کی وجہ سے ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ ہو رہا تھا، لٰہذا یورپ نے بھی اسی سمت میں قدم بڑھایا اور یورپی یونین نے یوروکو عالمی تجارت میں ایک مضبوط کرنسی کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا، تاہم یہ رجحان تیزی سے مقبول ہوا اورکئی ممالک نے اپنی مقامی کرنسیوں میں تجارتی معاہدے کیے تاکہ ڈالرز پر انحصارکم کیا جاسکے۔

دنیا کی پانچ ابھرتی ہوئی معیشتوں پر مشتمل برکس گروپ جن میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ ہیں، یہ گروپ اقتصادی، سیاسی اور تجارتی تعاون کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے اور عالمی سطح پر ڈالرکے بجائے متبادل مقامی کرنسیوں میں تجارت کو فروغ دینے کی کوشش میں مصروف عمل ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ کو صدارت سنبھالنے کے بعد جب بھی موقع ملا، وہ برکس ممالک کو بھاری ٹیرف عائد کرنے سے ڈراتے رہے ہیں، صدرٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ یہ سوچنا چھوڑ دیں کہ برکس ممالک خود کو ڈالر سے دورکررہے ہیں اور ہم دیکھتے ہی رہیں گے، ان نام نہاد حریف ممالک کو واضح طور پر وعدہ کرنا ہوگا کہ وہ طاقتور امریکی ڈالرکو بدلنے کے لیے نہ تو نئی برکس کرنسی بنائیں گے اور نہ ہی کسی دوسری کرنسی کی حمایت کریں گے، اگر ایسا نہ ہوا تو انھیں 100 فیصد ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا۔

 یہی نہیں بلکہ انھیں امریکا کی عظیم مارکیٹ میں اپنا سامان بیچنا بھی بھولنا پڑے گا، یہ ممالک کوئی اور احمق ملک تلاش کرسکتے ہیں اور انھیں امریکا کو بھی الوداع کہنا پڑے گا۔ اس کے ساتھ ہی ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کی 150 فیصد ٹیرف کی دھمکی نے برکس گروپ کو توڑ دیا ہے۔ عالمی تناظر میں اس دھمکی کے دور رس نتائج نکلیں گے، کیونکہ امریکا پرکوئی بھروسہ نہیں کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کے اقدامات برکس ممالک خاص کر روس اور چین کو ایسے اقدامات کرنے پر مجبورکرسکتے ہیں جس سے امریکا کی معاشی بالادستی کو شدید خطرہ لاحق ہوجائے گا۔

تیزی سے متحرک عالمی منظرنامے میں، براعظم ایشیا کو تبدیلی کا سامنا ہے، جو معاشی انضمام کے مشترکہ عزم کی وجہ سے ہے اور یہ خطے کی معاشی ترقی و عالمی ترقی کے لیے انتہائی اہم بھی ہے۔ دنیا کی نصف سے زیادہ آبادی پر مشتمل براعظم ایشیا قوت خرید کے لحاظ سے عالمی پیداوارکا تقریباً ایک تہائی حصہ رکھتا ہے۔ آئی ایم ایف نے ایشیا کے لیے 2025 کے لیے چار اعشاریہ چار فیصد شرح نمو کا تخمینہ لگایا ہے جب کہ ایشیائی ترقیاتی بینک نے ایشیا کے لیے اپنے چار اعشاریہ نو فیصد نموکے برقرار رہنے کی پیشگوئی کی ہے، جس سے عالمی معاشی توسیع کے ایک اہم محرک کے طور پر ایشیائی خطے کے کردارکی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

اس امید افزا نکتہ نظر کے باوجود، ایشیا کو مسلسل جغرافیائی سیاسی چیلنجوں کا سامنا ہے، جن میں بڑھتی ہوئی تجارتی رکاوٹیں، عالمی تناؤ اور معاشی غیر یقینی کی صورتحال جیسے محرکات شامل ہیں۔ یہ سب وہ عوامل ہیں جو خطے کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

 ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ جغرافیائی سیاسی تناؤکے درمیان، چین کی اقتصادی رفتار خطے میں استحکام کی علامت بنی ہوئی ہے۔ داخلی چیلنجوں اور ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے نئے سرے سے دباؤ کے باوجود چین کی حکومت نے واضح اور مستقل پالیسی اپنا رکھی اور اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ معاشی ترقی کی رفتار سست نہ پڑے۔ چین مشرق وسطیٰ اور یورپ میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کی سرمایہ کاری کو وسعت دینے، بنیادی ڈھانچے اور تجارتی رابطوں کو مضبوط بنانے کے امکانات بھی پیش نظر رکھے ہوئے ہے۔

 ماہرین نے نشاندہی کی ہے کہ امریکی حکومت درآمد کنندگان پرجو ٹیکس عائد کرتی ہے، اسے بالآخر امریکی صارفین ہی برداشت کرتے ہیں۔ حقائق نے بار بار ثابت کردیا ہے کہ تجارتی جنگ اور ٹیرف جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہے اور تجارتی تحفظ پسندی صرف ’’ نقصان‘‘ لاتی ہے، نہ کہ تحفظ۔ بیشتر ماہرین اقتصادیات کے مطابق اس خطرناک تجارتی اقدام سے معیشت کے بدحال ہو جانے اورکئی دہائیوں پرانے اتحادوں کو بھاری نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

گرتی ہوئی اسٹاک مارکیٹ یا صارفین کی ناراضگی کے بارے میں انتباہی علامات کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ نے اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنا پسند نہیں کیا۔ محصولات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال سرمایہ کاروں، صارفین اورکاروباری اداروں کا اعتماد ختم کر رہی ہے۔

فیڈرل ریزرو بینک آف اٹلانٹا کے ماہرین اقتصادیات نے کہا کہ ایک حالیہ سروے سے ظاہر ہوا ہے کہ کارپوریٹ شعبے کے مالیاتی سربراہوں کو توقع ہے کہ اس سال قیمتوں میں اضافہ ہوگا اور نئے کارکنوں کی بھرتی اور ترقی میں کمی ہوگی۔ پریشان سرمایہ کاروں نے ممکنہ نقصانات کے مدنظر اپنے اسٹاک کو جارحانہ طور پر فروخت کرنا شروع کردیا ہے۔ فروری کے وسط سے تقریباً پانچ ٹریلین امریکی ڈالرکا صفایا ہوچکا ہے۔ ٹرمپ کے اس اقدام سے ممکنہ طور پر ہر طرف سے جوابی کارروائی کا خدشہ بھی ہے۔ اس کے باوجود وائٹ ہاؤس نے اعتماد کا اظہارکیا ہے۔

 گو ڈونلڈ ٹرمپ نے ’’ سب سے پہلے امریکا‘‘ کے نعرے کو عملی شکل دینے کی بھرپورکوشش کی ہے۔ ایک مضبوط رائے یہ بھی ہے کہ اس سے دنیا بھر میں امریکی اثر و رسوخ میں کمی آنے کے امکانات بڑھ جائیں گے، اگر چین، یورپ اور دیگر ممالک تجارتی محاذ پر ایک دوسرے کے قریب آ گئے تو امریکی معیشت کا عالمی تجارتی نظام میں کردار کم ہو جائے گا۔ مستقبل میں امریکا اور دیگر ممالک نئے تجارتی معاہدے کریں گے جس سے موجودہ حالات بدل جائیں گے اور نئی تجارتی پالیسیاں بننے لگیں گی۔ عالمی تجارت کو پر امن رکھنے کے لیے عالمی تنازعات کا حل بہت ضروری ہے، اگر جنگوں اور تنازعات کا ماحول برقرار رہا تو عالمی تجارت بھی متاثر ہوتی رہے گی۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے جوابی ٹیرف پر عالمی برہمی، مختلف ممالک نے منسوخی کا مطالبہ
  • ٹرمپ محصولات: عالمی منڈی میں ہلچل، حصص، ڈالرز اور تیل قیمتیں کم
  • ٹرمپ ٹیرف وار: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گر گئیں
  • نئی عالمی تجارتی کشمکش کے مضمرات
  • ٹرمپ ٹیرف اسٹاک مارکیٹ لے بیٹھا، کملا ہیرس کی پیشگوئی سچ ثابت
  • ٹرمپ کی ٹیرف جنگ کے بعد امریکی سٹاک مارکیٹس میں شدید مندی
  • اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا
  • ٹرمپ کا بڑے پیمانے پر عالمی ٹیرف کا اعلان، پاکستان بھی متاثر
  • جرمن اسٹارٹ اپ کمپنیوں کے بانیوں میں خواتین کی شرح کم کیوں؟