ملک بدری؛ جڑواں شہروں میں حساس اداروں کی کارروائیاں، 60 افغان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
اسلام آباد:
غیر ملکیوں کی ملک بدری کے سلسلے میں حساس اداروں اور پولیس کی مشترکہ کارروائیوں میں 60 افغان باشندوں کو گرفتار کرلیا گیا۔
ذرائع کے مطابق غیر ملکیوں کی ملک بدری کے پلان کا دوسرا مرحلہ شروع ہوگیا ہے، اس حوالے سے افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز کی رضاکارانہ واپسی کی مدت ختم ہونے کے بعد ایکشن شروع کردیا گیا ہے۔
جڑواں شہروں (اسلام آباد راولپنڈی) میں خفیہ اطلاعات پر کارروائیوں میں 60 افغان باشندوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ کارروائیاں پولیس اور حساس اداروں نے مشترکہ طور پر کی ہیں۔
اسلام آباد کے علاقوں ترنول، بہارہ کہو، غوری ٹاؤن اور میرآبادی میں سرچ آپریشن کیا گیا جہاں سے افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والے 22 باشندوں کو حراست میں لیا گیا۔ اس کے علاوہ راولپنڈی کی فوجی کالونی اور ملحقہ علاقوں سے 38 افراد کو پکڑا گیا۔
ذرائع کے مطابق تمام افغان باشندے پرانا حاجی کیمپ میں واقع عارضی کیمپ میں منتقل کیے گئے ہیں، جہاں رجسٹریشن کے بعد تمام افراد کو لنڈی کوتل لے جایا جائے گا۔ لنڈی کوتل کیمپ میں افغان باشندوں کی بائیومیٹرک کے بعد وطن واپسی ہوگی۔
ذرائع نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں فارن ایکٹ کے تحت گرفتار افغان باشندوں کو بھجوایا جائے گا۔ جیلوں میں بند افغان باشندوں کو لنڈی کوتل کیمپ منتقل کردیا جائے گا۔ ملک میں سب سے زیادہ افغان باشندے صوبہ خیبر پختونخوا میں مقیم ہیں۔ پی او آر کارڈ رکھنے والے باشندے 30 جون 2025 تک پاکستان میں رہ سکتے ہیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان افغان باشندوں کو
پڑھیں:
پنجاب سے افغان مہاجرین کے انخلاء کیلئے مہم شروع کر دی گئی
سپیشل برانچ کی بھجوائی گئی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں افغان باشندوں کی تعداد 99 ہزار 857 تک پہنچ چکی ہے۔ افغان سیٹیزن کارڈ رکھنے والوں کی تعداد 35 ہزار 235 پنجاب میں موجود ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ لاہور میں افغان باشندوں کی تعداد 8 ہزار 282 ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی حکومت نے غیرقانونی رہائش پذیر افغان مہاجرین کو واپس بھجوانے کیلئے ایک بار پھر مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ افغان سیٹیزن کارڈ ہولڈر بھی اب پاکستان میں نہیں رہ سکیں گے۔ وزارت داخلہ نے افغان باشندوں کو واپس بھجوانے کیلئے صوبائی حکومتوں کو ٹاسک سونپ دیا ہے۔ پنجاب میں سپیشل برانچ کی جانب سے افغان مہاجرین کی میپنگ رپورٹ کابینہ کو بھجوائی گئی تھی۔ سپیشل برانچ کی بھجوائی گئی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں افغان باشندوں کی تعداد 99 ہزار 857 تک پہنچ چکی ہے۔ افغان سیٹیزن کارڈ رکھنے والوں کی تعداد 35 ہزار 235 پنجاب میں موجود ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ لاہور میں افغان باشندوں کی تعداد 8 ہزار 282 ہے، افغان سیٹیزن کارڈ ہولڈرز کو بھی واپس افغانستان بھجوایا جائے گا۔ لاہور سمیت تمام اضلاع نے افغان باشندوں کی واپسی کا پلان تشکیل دیدیا ہے۔ ہوم ڈیپارٹمنٹ میں افغان شہریوں کے انخلاء کی مانیٹرنگ کیلئے کنٹرول روم قائم کر دیا ہے۔ پولیس، ایف آئی اے اور نادرا کی ٹیمیوں نے بھی افغان مہاجرین کے انخلا کیلئے ایکشن پلان پرعملدرآمد شروع کر دیا ہے۔ لاہور میں دو مقامات پر افغان شہریوں کو انخلاء کیلئے جمع کیا جائے گا، جہاں سے انہیں طور خم بارڈ پر بھجوایا جائے گا۔