کرپشن الزامات کا سامنا کرنے والے پی ٹی آئی کے سابق وزیر کے گرد گھیرا تنگ
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
پی ٹی آئی کی انٹرنل اکاؤنٹیبلیٹی کمیٹی، سابق صوبائی وزیر تیمور جھگڑا کیخلاف ڈٹے گئی، عمران خان سے مکمل تحقیقات کی اجازت لینے کا فیصلہ۔
یہ بھی پڑھیں:تیمور جھگڑا اور علی امین گنڈاپور میں جھگڑا کیا ہے؟
کرپشن الزامات کا سامنے کرنے والے پی ٹی آئی رہنما اور سابق صوبائی وزیر تیمور جھگڑا کی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔ تحریک انصاف کی انٹرنل اکاؤنٹیبلیٹی کمیٹی نے ان الزامات کی تحقیقات کے لیے بانی پی ٹی آئی سے اجازت لینے کی خواہاں ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق سابق صوبائی وزیر تیمور جھگڑا کی جانب سے سماجی رابطوں کے پلیٹ فارمز پر خفیہ دستاویزات شیئر کرنے کے حوالے سے بھی انٹرنل اکاؤنٹیبلیٹی کمیٹی کو تشویش ہے۔
انٹرنل اکاؤنٹیبلیٹی کمیٹی مبینہ کرپشن اور خفیہ دستاویزات کو منظر عام پر لانے کے حوالے سے نہ صرف تحقیقات کی خواہشمند ہے، بلکہ وہ تیمور جھگڑا کیخلاف ضابطے کی کارروائی بھی چاہتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تیمور خان جھگڑا پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی میں شامل، نوٹیفکیشن جاری
یاد رہے کہ پی ٹی آئی کے سابق صوبائی وزیر کو اربوں روپے کرپشن کے الزام کا سامنا ہے، اس حوالے سے انہیں پارٹی نے انہیں ایک سوالنامہ بھی ارسال کیا تھا، تاہم تیمور جھگڑا نے اس کا جواب دینے کے بجائے تحقیقاتی کمیٹی ہی پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انٹرنل اکاؤنٹیبلیٹی کمیٹی پی ٹی آئی تحریک انصاف تیمور جھگڑا عمران خان.ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی تحریک انصاف تیمور جھگڑا تیمور جھگڑا کی پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
36 ارب کی خورد بردکا الزام، پی ٹی آئی احتساب کمیٹی نے تیمور جھگڑا سےجواب طلب کرلیا
پشاور: پی ٹی آئی احتساب کمیٹی ( انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی کمیٹی) نے سابق صوبائی وزیرخیبر پختونخوا تیمور جھگڑا سے 36 ارب روپے کی خورد برد اور رشتے داروں کی تقرریوں کے الزام پر چھان بین شروع کردی۔
کمیٹی نے تیمور جھگڑا کو محکمہ صحت اور خزانہ میں مبینہ کرپشن اور بےقاعدگیوں سے متعلق سوالنامہ بھیج دیا۔
سوالنامے میں کہا گیا ہےکہ بطور وزیر خزانہ آپ کے دور میں صوبہ کئی بار تقریباً دیوالیہ ہوا۔ پنشن، گریجویٹی کی مد میں پڑے پیسوں میں سے 36 ارب روپے نکالےگئے، محکمہ صحت سے جاری رقوم کی چھان بین محکمہ خزانہ سے نہیں کرائی گئی۔
احتساب کمیٹی نےکہا ہےکہ محکمہ خزانہ میں بڑی تعداد میں تقرریاں کی گئیں جن میں کچھ آپ کے رشتہ دار بھی تھے، محکمہ خزانہ آپ کے دور میں مسلسل مقروض رہا، صحت کارڈز میں ایسے اسپتالوں کا بھی انتخاب کیا گیا جو معیار پر پورا نہیں اترتے تھے، کورونا کے دوران یو این کی دی گئی مشینری استعمال میں نہیں لائی گی، محکمہ صحت وائرس کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہا۔
سوالنامے میں یہ بھی کہا گیا کہ آپ کا پرائیویٹ سیکرٹری سابق افغان شہری اور ان کا خاندان پشاور میں ہنڈی کےکاروبار میں ملوث ہے۔