کے پی حکومت کسی بھی افغان مہاجرکو زبردستی نہیں نکالے گی، علی امین گنڈاپور کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
پشاور (نیوز ڈیسک)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ عمران خان کی حکومت میں دہشتگردی ختم ہوچکی تھی۔ خیبرپختونخوا کی افغانستان کے ساتھ طویل سرحد ہے۔ توجہ ہٹنے سے دہشتگردوں کو اپنے پاؤں پھیلانے میں مددملی۔
پی ٹی آئی کوختم کرنے کیلئے پورازورلگایاگیا۔ بانی پی ٹی آئی کی حکومت جس طرح ہٹائی گئی ہمارے اس پر تحفظات ہیں۔ وفاقی حکومت کو کہتے ہیں افغانستان سے آگے بڑھنے کیلئے ٹی اوآرز بنائے۔ افغانستان کے ساتھ معاملہ آگےبڑھانے پر سنجیدگی سے غورکرناہوگا۔
ہمارے افغانستان کے ساتھ تعلقات خراب ہوتے جارہے ہیں۔ ٹی او آرز دیئے ہوئے2سے3مہینے ہوگئے۔ جب تک افغانستان میں امن نہیں ہوگا اس پورے خطے میں امن نہیں ہوگا۔ دہشتگردی کا حل مذاکرات کے ذریعے نکل سکتا ہے۔
میری اپیل ہے کہ ہر معاملے پر سیاست نہ کی جائے۔ ہم نے صوبائی ایکشن پلان پر کام شروع کیا ہوا ہے۔ مجھے وزیراعظم ،وفاقی وزرا کے بیانات پر افسوس ہے۔ جنگ جیتنے کےلئے لوگوں کے دل جیتنے ہوں گے۔
کے پی حکومت کسی بھی افغان مہاجرکو زبردستی نہیں نکالے گی۔ افغان حکومت جب تک ان کو لینے کو تیار نہیں ہوتی ہم واپس نہیں بھیجیں گے۔ دعاگوہوں آصف علی زرداری جلد صحت یاب ہوں۔ وزیراعلیٰخیبرپختونخوا نے کہاکہ آنکھیں بند کرنے سے مسئلے حل نہیں ہوتے۔ این ایف سی ایوارڈ کے معاملے پر سڑکوں پرنکلیں گے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم نے اپنے شہریوں کو تحفظ دینا ہے۔
وفاقی حکومت کی پالیسیوں کے نتائج انتہائی خطرناک ہوں گے۔
خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع دہشتگردی کی زد میں ہیں۔ میں وزیراعلیٰ ہوتے ہوئے بھی بانی سے کئی مہینے بعد ملاقات کرپاتاہوں۔ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات میں مختلف امور زیر بحث آئے۔
پارا چنار کا مسئلہ پرانا ہے ہم اس کومکمل حل کررہےہیں۔ اس وقت جو لوگ ستو پی کر سو رہے تھے ان کا میں ذمہ دار نہیں۔ میری کوشش ہے یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل ۔ درخواست کی کہ مجھے جہاز دیں تاکہ وہاں سے لوگوں کو نکالوں۔ میرا ایک ہیلی کاپٹر زیادہ سے زیادہ 20 لوگوں کو لےجا سکتا ہے۔
انہوںنے کہاکہ میں مجبوری کے تحت حکومت کے ساتھ بیٹھتا ہوں ۔ یوٹیوب پے بیٹھنے والے پیسے کے لیے کچھ بھی بول لیتے ہیں۔ یوٹیوبر کاروبار کرتے ہیں ،شرلی چھوڑتے ہیں۔ کبھی وہ ایک تو کبھی دوسری مارتے ہیں ۔
یوٹیوبر کی کیا حیثیت ہے میں ان پر بات کرنا مناسب ہی نہیں سمجھتا۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے اس وجہ سے مسلم ممالک نشانے پر ہیں ۔ تمام مسلم ممالک میں حالات آپکے سامنے ہیں ۔
اسلامی تاریخ کے مطابق نقصان مسلمانوں کو ہونا ہے وہ ہو رہا ہے۔
عمران خان نے ہمیشہ خود مزاکرات کی بات کی ہے ۔ عمران خان ڈیل نہیں کرے گا ۔۔یہ لوگ ڈیل کر کے آئے ہیں۔ مذاکرات پاکستان کے لیے ،جو غلط ہوا ہے ان پر ہم کریں گے ۔
خان صاحب کے ساتھ ملاقات میں حکومتی ،سیاسی،دہشتگرردی پر بات ہوئی ہے .
مزیدپڑھیں:گوگل میپس میں صارفین کیلئے ایک نئے فیچر کا اضافہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: کے ساتھ
پڑھیں:
انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں عام شہریوں کی شہادتیں برداشت نہیں کریں گے، وزیراعلی خیبرپختونخوا
انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں عام شہریوں کی شہادتیں برداشت نہیں کریں گے، وزیراعلی خیبرپختونخوا WhatsAppFacebookTwitter 0 4 April, 2025 سب نیوز
پشاور (آئی پی ایس )وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ چھوٹے چھوٹے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں عام شہریوں کی ہلاکتیں برداشت نہیں کریں گے، وفاقی حکومت اور وفاقی وزرا پر افسوس ہے کہ عام شہریوں کی ہلاکتوں کو انہوں نے ایسا رنگ دیا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔وزیراعلی خیبرپختونخوا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کاٹلنگ میں ہونے والے ڈرون حملے میں 10 شہریوں کی ہلا کتوں کے حوالے سے کہا کہ اس انٹیلی جنس آپریشن میں ہمارے 10 بے گناہ شہری جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں،
جس کی ہم مذمت کرتے ہیں اور ہماری ذمے داری بھی ہے کہ اپنے شہریوں کو تحفظ دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ہر چیز پر سیاست نہ کی جائے، مجھے وفاقی حکومت، اور وفاقی وزرا پر افسوس ہے کہ جس طریقے سے ہمارے شہری شہید ہوئے اور انہوں نے اس واقعے کو ایسا رنگ دیا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو جبکہ یہ ناکامی ان کی ہے۔علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کے جنوب میں سارے اضلاع دہشت گردی کی لپیٹ میں آئیہوئے ہیں، اسی علاقے میں یہ دہشت گرد پائے جاتے ہیں، یہیں دو بڑے دہشت گرد بھی مارے گئے ہیں جن کے سروں کی قیمت مقرر کی گئی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان علاقوں میں جہاں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ملتی ہے وہاں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ہوتے رہتے ہیں، اور اس میں فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مل کر کام کرتے ہیں، تاہم اس ( کاٹلنگ آپریشن) انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن سے ہماری حکومت لاعلم تھی اور نہ ہی ہماری پولیس کو پتا تھا، یہ آپریشن خالصتا وفاقی حکومت کے ماتحت آنے والے اداروں کا تھا۔