خبردار!سٹوڈنٹ ویزا پر امریکا جانے والوں کیلئے اہم خبر
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
اسٹوڈنٹ ویزا پر امریکا جانے والوں کے سوشل میڈیا کی چھان بین کا فیصلہ کرلیا گیا۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سفارتکاروں کو ویزا درخواست گزاروں کے سوشل میڈیا پروفائل کی کڑی نگرانی کا حکم دے دیا ۔
مارکو روبیو نے 25 مارچ کو سفارتکاروں کے نام مراسلہ بھیجا جس میں کہا گیا کہ ویزے کی درخواست دینے والے افراد کے سوشل میڈیا مواد کی چھان بین کریں ۔ جس کا مقصد امریکا اور اسرائیل پر تنقید کرنے والوں کو امریکا میں داخلے سے روکنا ہے۔
خیال رہے کہ امریکا میں اسرائیل مخالف طلبا تحریک کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے غیر ملکی اسٹوڈنٹ کے خلاف کارروائیاں تیز کردی ہے۔
.ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
ٹک ٹاکر مناہل ملک کی ایک اور نازیبا ویڈیو لیک
لاکھوں فالوورز والی ٹک ٹاک سینسیشن مناہل ملک ایک بار پھر متنازعہ ویڈیو لیک کے طوفان میں گھر گئی ہیں۔
رمضان المبارک میں عمرہ ادا کرنے اور عید منانے کے بعد اب ان کی ایک اور نجی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے جس نے صارفین میں اشتعال کو جنم دیا ہے۔
یاد رہے کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں جب مناہل کے نام سے منسوب فحش مواد نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچائی ہو۔ گزشتہ سال اکتوبر میں بھی ایسی ہی کئی ویڈیوز نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا تھا، جس کے بعد انہوں نے عارضی طور پر سوشل میڈیا چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔
موجودہ واقعے پر مناہل نے اپنے دفاع میں کہا ہے کہ یہ تمام ویڈیوز مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کی گئی جعلی مواد ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’میں نے FIA میں اس سلسلے میں شکایت درج کرا دی ہے اور امید ہے کہ مجرمان جلد ہی قانون کے شکنجے میں آجائیں گے۔‘‘
سوشل میڈیا پر اس معاملے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایک طرف تو صارفین نجی زندگی کی خلاف ورزی پر سخت برہم ہیں، وہیں دوسری طرف کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ محض شہرت حاصل کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔
اس واقعے نے ڈیجیٹل دور میں پرائیویسی کے تحفظ، آن لائن مواد کے غلط استعمال اور سوشل میڈیا اسکینڈلز کے معاشرے پر پڑنے والے اثرات جیسے اہم مسائل کو پھر سے اجاگر کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات نوجوان نسل کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔
مناہل ملک کے مداحوں کا کہنا ہے کہ یہ ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ صورتحال ہے، خاص طور پر اس وقت جب وہ مذہبی سفر سے واپس آئی ہیں۔ دوسری طرف، سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے اس واقعے کو ’’ڈیجیٹل ہراسانی‘‘ کی ایک اور مثال قرار دیا ہے۔
Post Views: 1