وزیر توانائی نے عوام کو ایک اور ریلیف کی خوشخبری سنادی
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے بجلی کی قیمت میں مزید کمی کی خوشخبری سناتے ہوئے کہا ہے کہ جن کمپنیوں سے معاہدے ہوئے تھے ان سے ابھی بات چیت جاری ہے۔ جس کے بعد عوام کو ایک بار پھر ریلیف دیا جائے گا۔
وفاقی دارالحکومت میں میڈیا نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن اویس لغاری نے بجلی کے شعبے سے متعلق کئی اہم اقدامات اور چیلنجز پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے بتایا کہ 36 آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات سے 3,696 ارب روپے کی بچت ہوئی ہے، جو آنے والے سالوں میں صارفین کے لیے بڑے ریلیف کا باعث بنے گی۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کے شعبے کا سب سے بڑا چیلنج پیداواری لاگت ہے، جس میں ٹیرف میں اضافے اور 2,400 ارب روپے کے گردشی قرضے نے مشکلات بڑھا دی ہیں۔ اسی طرح ڈسکوز کی ناقص کارکردگی اور کوآرڈینیشن کی کمی بھی بڑا مسئلہ ہے جب کہ بجلی کی طلب میں مسلسل کمی بھی شعبے کے لیے بڑا چیلنج ہے۔
وفاقی وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ ٹرانسمشن لائنز کے نقصانات کی وجہ سے بجلی کی قیمت میں 1 سے 2 روپے کا اضافہ ہوتا ہے۔ ان نقصانات کو کم کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 1.
اویس لغاری نے کہا کہ 6 سال کے اندر گردشی قرضے کو ختم کر دیا جائے گا اور آئندہ سالوں میں اسے زیرو پر لایا جائے گا۔ تمام بجلی کے میٹرز کو آٹومیٹڈ سسٹم سے تبدیل کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح آئیسکو، فیسکو اور گیپکو کی نجکاری کا عمل جاری ہے، جبکہ دوسرے مرحلے میں لیسکو، میپکو اور ہزیکو کی نجکاری کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ 27,000 ٹیوب ویلز کو 7 ماہ میں سولر انرجی پر منتقل کر دیا جائے گا۔
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا کہنا تھا کہ سی پیک کے تحت چائنیز پلانٹس میں کوئلے سے بجلی کی پیداوار پر توجہ دی جائے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جولائی سے دسمبر تک ڈسکوز کے نقصانات کا ہدف 303 ارب روپے تھا، لیکن 145 ارب روپے کی بچت کرتے ہوئے نقصانات 158 ارب روپے تک محدود رہے۔گردشی قرضے کے شعبے میں 9 ارب روپے کی بچت کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم مہنگی بجلی خریدنے کے بجائے مستقبل کے لیے پائیدار حل تلاش کر رہے ہیں۔ 10 سالہ الیکٹرک پالیسی کے تحت بجلی کے شعبے کو مستحکم کرنے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
اویس لغاری نے مزید کہا کہ بجلی کے بنیادی ٹیرف میں کمی یا اضافے کا ابھی سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔ بجلی کے بنیادی ٹیرف میں جون تک کیا صورتحال ہوگی دیکھنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ بذریعہ ریگولیٹر ہی تمام امور انجام دئیے جاتے ہیں کام حکومت کرتی ہے۔ 7 روپے 41 پیسے کا جو ریلیف دیا گیا ہے، یہ بنیادی ٹیرف میں بھی شامل ہے۔ بنیادی ٹیرف کے بارے میں فل الحال کوئی پیشنگوئی نہیں کرسکتا۔
مزیدپڑھیں:دنیا کی امیر ترین خاتون کون ہیں؟
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: اویس لغاری نے وزیر توانائی بنیادی ٹیرف وفاقی وزیر کی گئی ہے نے کہا کہ ٹیرف میں انہوں نے ارب روپے جائے گا بجلی کے کے شعبے بجلی کی کے لیے
پڑھیں:
بجلی کی قیمتوں میں کمی کے بعد صارفین کے لئے ایک اور بڑا ریلیف
چیئرمین نیپرا وسیم مختارکا کہنا ہے کہ اگلے ہفتے تک بجلی صارفین کو مختلف ایڈجسٹمنٹس میں پانچ روپے تین پیسے فی یونٹ کا فوری ریلیف ملے گا۔تفصیلات کے مطابق ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے ایک روپے اکہتر پیسے سستی کرنے پر نیپرا نے سماعت مکمل کر لی۔
نیپرا اتھارٹی اعدادوشمار کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ جاری کرے گی، پاور ڈویژن کے حکام کا کہنا تھا کہ معاشی صورتحال بہتر رہنے تک انشااللہ صارفین کو ریلیف ملتا رہے گا، اس وقت سالانہ ری بیسنگ نہیں ہوسکتی اس لیے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت ریلیف دیا جا رہا ہے۔سماعت کے دوران پاورڈویژن حکام کا کہنا تھا کہ تین ماہ میں پٹرولیم لیوی کی مد میں اٹھاون ارب سترکروڑکی وصولیوں کا تخمینہ ہے، عوام کو پٹرولیم لیوی کی وصولیوں کے تحت تین ماہ کے لیے بجلی میں ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے۔
دوسری سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں پانچ آئی پی پیز کے ساتھ ہونیوالےمعاہدوں کا بارہ ارب کا ریلیف ملا ہے جبکہ بتیس آئی پی پیز کے ساتھ نظرثانی معاہدے ہوچکے ہیں۔حکام نے کہا کہ گردشی قرضے میں کمی کے لیے آئِی ایم ایف کے ساتھ بات چیت جاری ہے، مذاکرات حتمی نتیجے پر پہنچنے کے بعد اس کا ریلیف عوام کو ملے گا۔
چئیرمین نیپرا نے کہا کہ بجلی صارفین کو مختلف ایڈجسٹمنٹس سے پانچ روپے تین پیسے فی یونٹ کا فوری ریلیف ملے گا ، ابھی تیسری سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس کی درخواستیں آئی ہیں جس سے مزید کمی کا امکان ہے، عوام کو تیسری سہ ماہی ایڈجسٹ٘منٹ کا فوری ریلیف فراہم کیاجائے گا۔حکام نے کہا کہ اس سال کی سبسڈی کا حجم دو سوچھیاسٹھ ارب روپے ہوجائے گا۔ حکومتی منصوبہ بندی سے موسم گرما میں عوام کو ریلیف مل رہاہے۔ پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ دو ہزار چار سو ارب روپے تک ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے بجلی کی قیمت میں کمی معاشی صورتحال سے مشروط ہے.