بلوچستان نیشنل پارٹی کا لکپاس کے قریب دھرنا جاری
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ کا مستونگ کے علاقے لکپاس کے قریب احتجاجی دھرنا جاری ہے۔
مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے بی این پی مینگل کے دھرنے میں شرکت کی۔
اس موقعے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے بی این پی رہنما ساجد ترین ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ سیاست میں مداخلت کرکے ملک کو ترقی کی جانب گامزن نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ عام انتخابات جتنے والے جیل میں جبکہ ڈاکو ملک پر قابض ہیں۔
نیشنل پارٹی کے رہنما کبیر محمد شہی نے کہا کہ حکومت کے پاس مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنے کا 6 اپریل تک وقت ہے۔
پی ٹی آئی کے صوبائی صدر داود شاہ کاکڑ نے کہا کہ 76 سالوں سے بلوچستان کی تاریخ آج تک نہیں بدلی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اداروں نے آئین کو صرف کاغذ کا ٹکڑا سمجھ رکھا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فارم 47 کی حکومت کو ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے۔
رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ بی این پی کے لانگ کو کوئٹہ آنے کی اجازت دی جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بلوچستان بلوچستان نیشنل پارٹی بی این پی دھرنا بی این پی مینگل.ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان بلوچستان نیشنل پارٹی بی این پی دھرنا بی این پی مینگل نیشنل پارٹی بی این پی کہا کہ
پڑھیں:
وزیراعلیٰ بلوچستان خوفزدہ ہیں کہ ہم انکی کرسی نہ چھین لیں، اختر مینگل
مستونگ میں دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے اختر مینگل نے کہا کہ یہ فیصلہ ہم کرینگے کہ کوئٹہ میں کس جگہ بیٹھنا اور احتجاج کرنا ہے، آپ نہیں کرینگے۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر جان مینگل نے ترجمان حکومت بلوچستان، ڈی آئی جی کوئٹہ اور ڈی سی کوئٹہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ہم کریں گے کہ کوئٹہ میں کس جگہ بیٹھنا اور احتجاج کرنا ہے، آپ نہیں کریں گے۔ یہ ہماری مرضی ہے کہ ہم کوئٹہ میں بیٹھیں یا ہاکی گراؤنڈ میں، یہ فیصلہ آپ کا نہیں، ہمارا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مستونگ میں جاری دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے شرکاء سے کہا کہ آپ ساتھیوں کی تکالیف و مشکلات ہمارے سرخرو ہونے کا سبب بنیں گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہمارے سیاسی کارکنوں کو رہا کیا جائے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کو خوف ہے کہ لانگ مارچ کے شرکاء مجھ سے وزیراعلیٰ کی کرسی چھیننا چاہتے ہیں۔ ہم وزیراعلیٰ اور اس کے ساتھیوں کے ضمیر کو جگا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج شام کو دھرنے کے مقام سے ایک اہم اعلان کریں گے۔