Daily Mumtaz:
2025-04-05@02:36:41 GMT

کئی ممالک کی جانب سے نئی امریکی ٹیرف پالیسی کی مخالفت

اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT

کئی ممالک کی جانب سے نئی امریکی ٹیرف پالیسی کی مخالفت

واشنگٹن :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 2 اپریل کو اعلان کردہ ” ریسیپروکل ٹیرف ” کے بارے میں بہت سے ممالک نے مخالفت کا اظہار کیا ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے فرانسیسی صنعت کے نمائندوں کے ساتھ ایک اجلاس میں کہا کہ مختلف صنعتوں کو امریکہ میں حال ہی میں اعلان کردہ یا مستقبل قریب میں کی جانے والی سرمایہ کاری کو معطل کر دینا چاہئے۔

 

میکرون نے متنبہ کیا کہ فی الحال کسی جوابی اقدام سے انکار نہیں کیا جا سکتا ، اور ” ریسیپروکل ٹیرف ” کے خلاف جوابی اقدامات کا پیمانہ اس سے قبل امریکی اسٹیل اور ایلومینیم محصولات کے خلاف یورپی یونین کے گزشتہ جوابی اقدامات سے “کہیں زیادہ” ہوگا۔ نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کرسٹو فر ریکسن نے امریکہ کی جانب سے تجارتی محصولات میں اضافے کی مخالفت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ امریکی ٹیرف پالیسی عالمی معیشت کے لیے نقصان دہ ہے ۔ سنگاپور کے نائب وزیر اعظم اور وزیر تجارت و صنعت گان کم یونگ نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کی نئی ٹیرف پالیسی سے مایوس ہوئے ہیں اور اس بارے میں فکرمند ہیں۔

 

ویتنام کے وزیر صنعت و تجارت نگوین ہانگ ین نے3 اپریل کو امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ویتنام پر محصولات عائد کرنے کے فیصلے کو معطل کرے تاکہ ایک مشترکہ حل تلاش کیا جا سکے۔

 

کمبوڈیا کی وزارت تجارت کے ایک ترجمان نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے کمبوڈیا پر عائد محصولات “غیر معقول” ہیں اور کمبوڈیا آسیان یا ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن جیسے موجودہ میکانزم کے ذریعے امریکہ کے ساتھ بات چیت کی امید رکھتا ہے۔ 3 اپریل کو ہی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے متنبہ کیا کہ امریکا کےان اقدامات سے عالمی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ بیان میں امریکہ اور اس کے تجارتی شراکت داروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ تجارتی تناؤ اور غیر یقینی صورتحال کو بہتر کرنے کے لیے تعمیری طور پر کام کریں۔

Post Views: 1.

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کی جانب سے

پڑھیں:

ٹرمپ ٹیرف اسٹاک مارکیٹ لے بیٹھا، کملا ہیرس کی پیشگوئی سچ ثابت

امریکا کے کے 180عالمی تجارتی شراکت داروں پر محصولات لاگو ہونے کے بعد جمعرات کو کھلتے ہی امریکی اسٹاک مارکیٹیں مندی کا شکار ہوگئیں۔

یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ کا نیا ٹیرف،کسی کا فائدہ نہیں ہوگا، اٹلی اور میکسیکو

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج صبح 11 بجے ای ڈی ٹی پر 1,552 پوائنٹس یا 3.68 فیصد نیچے تھا،جبکہ S&P 500 میں 4.45 فیصد اور نیس ڈیک کمپوزٹ میں 5.68 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔

ICE  امریکی ڈالر انڈیکس 3 اکتوبر سے 102 سے اوپر رہنے کے بعد جمعرات کی صبح تک 2.2 فیصد کم ہو کر 101.41 پر آ گیا۔

S&P 500  سے جمعرات کو ٹریڈنگ کے آغاز میں تقریباً 1.7 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوا جو کہ بلومبرگ کے مطابق 2 سالوں میں بدترین کمی ہے۔

بروکریج فرم موومو میں حکمت عملی کے شمالی امریکا کے نائب صدر جسٹن زیکس نے بتایا کہ میکسیکو اور کینیڈا کے لیے چھوٹ کے باوجود مجموعی ٹیرف تاجروں کی توقع سے زیادہ خراب ہیں۔

مزید پڑھیے: ٹرمپ ٹیرف، بٹ کوائن سمیت دیگر کرنسیز کی قیمت میں کمی کیوں ہورہی ہے؟

انہوں نے کہا کہ خبروں کے رد عمل میں اسٹاک کم ٹریڈ کر رہے ہیں، بہت سی بڑی ٹیک کمپنیوں کے ساتھ ساتھ صارفین کے اسٹاک جیسے کہ خوردہ فروش، ایئر لائنز، ملبوسات بنانے والے اور کروز لائنز نمایاں طور پر نیچے ہیں۔

سینکچوری ویلتھ کی چیف انویسٹمنٹ اسٹریٹجسٹ میری این بارٹلز نے کہا کہ یہ ٹیرف کے لیے بدترین صورت حال تھی اور مارکیٹوں میں اس کی قیمت نہیں لگائی گئی تھی اور یہی وجہ ہے کہ ہم اس طرح کا رد عمل دیکھ رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کا درآمدات پر جوابی ٹیرف کا اعلان! پاکستان پر کیا اثرات ہوں گے؟

سنہ2024  کی صدارتی مہم کے دوران ڈیموکریٹک امیدوار کملا ہیرس نے خبردار کیا تھا کہ بلند ٹیرف استعمال کرنے کا ٹرمپ کا اقتصادی منصوبہ معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔

اکتوبر 2024 میں اقتصادیات میں تقریباً 2 درجن نوبل انعام جیتنے والوں نے بھی ایسے ہی خدشات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے محصولات افراط زر کا باعث ہوں گے اور وفاقی خسارے کو بڑھا دیں گے۔

یہ بھی پڑھیے: امریکی صدر ٹرمپ کا درآمدات پر ٹیرف کا اعلان، پاکستان پر 29 فیصد ٹیرف عائد

ایک کھلے خط میں ان ماہرین اقتصادیات کا کہنا تھا کہ مہم کے دوران کملا ہیریس نے جس منصوبے کی وکالت کی تھی اس کا نتیجہ ایک مضبوط معاشی کارکردگی کا باعث بنے گا جس میں اقتصادی ترقی زیادہ مضبوط، زیادہ پائیدار اور زیادہ منصفانہ ہو گی۔

مارچ میں ماہرین اقتصادیات نے کہا تھا کہ دوسرے ممالک کی طرف سے محصولات اور محصولات کی جوابی کارروائی سے امریکی صارفین کے لیے قیمتیں بڑھیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملازمتوں میں کمی  واقع ہوگی اور کاروبار سست ہوگا۔

جمعرات کو مارکیٹ کے رد عمل نے اقتصادی ماہرین کی جانب سے ٹیرف کی صورت میں ہونے والے معاشی نقصان کی پیش گوئی سچ ثابت کردکھائی۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ ٹیرف، بٹ کوائن سمیت دیگر کرنسیز کی قیمت میں کمی کیوں ہورہی ہے؟

چیلنجر، گرے اور کرسمس کی جمعرات کی رپورٹ کے مطابق ٹیرف کی وجہ سے ہونے والا معاشی نقصان سبنہ 2020 کے وبائی امراض کے وقت پہنچنے والے نقصان سے زیادہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا کی اسٹاک مارکیٹ امریکی محصولات امریکی محصولات کے منفی اثرات

متعلقہ مضامین

  • جیسے کو تیسا ! چین نے بھی امریکی مصنوعات پر 34 فیصد ٹیکس عائد کر دیا
  • امریکی ٹیرف پالیسی غنڈہ گردی اور عالمی دشمنی ہے، چینی میڈیا سروے
  • ٹرمپ ٹیرف اسٹاک مارکیٹ لے بیٹھا، کملا ہیرس کی پیشگوئی سچ ثابت
  • امریکی وزیر خزانہ کی ٹیرف کی زد میں آنیوالے ممالک کو بڑی وارننگ
  • ٹیرف کی زد میں آنے والے ممالک جوابی اقدامات سے گریز کریں، امریکی وزیر خزانہ کی وارننگ
  • امریکی صدر کا اعلان کردہ ٹیرف بلیک میلنگ ہے، چین
  • ٹرمپ نے غریب ممالک پر بھاری ٹیرف لگا دیے، پاکستان پر 29 فیصد ٹیرف عائد
  • ٹرمپ کی ایران کو دھمکی، تین عرب ممالک کا امریکہ کے ساتھ تعاون سے انکار
  • امریکہ نے خواہ مخواہ دوسرے ممالک پر محصولات عائد کیے ہیں، چینی وزیر خارجہ