بیجنگ :چائنا ایسوسی ایشن آف آٹوموبائل مینوفیکچررز نے ایک بیان جاری کیا جس میں امریکی ٹیرف پالیسی پر سخت مخالفت کا اظہار کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے اپنے مفادات کے لیے محصولات بڑھانا یکطرفہ پسندی کا ایک ایسا عمل ہے جو ڈبلیو ٹی او کے قوانین کی سنگین خلاف ورزی کرتا ہے، معمول کے تجارتی نظام کو کمزور کرتا ہے اور عالمی آٹو انڈسٹری کی پیداوار اور سپلائی چین کے استحکام پر اس کا بہت منفی اثر ہو گا۔

 

اس سے گاڑیوں کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا، امریکہ سمیت مختلف ممالک میں صارفین پر اضافی بوجھ پڑے گا اور عالمی معیشت کی بحالی پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ چائنا ایسوسی ایشن آف آٹوموبائل مینوفیکچررز امریکی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ بروقت اپنے غلط طرز عمل کو درست کرے اور مشاورت اور تبادلوں کے ذریعے باہمی فائدہ مند حل تلاش کرے۔ امریکا کے نیو سول لبرٹیز الائنس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو چینی درآمدات پر محصولات عائد کرنے سے روکنے کی کوشش میں مقدمہ دائر کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے ۔امریکی ریاست فلوریڈا کی وفاقی عدالت میں دائر مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ٹرمپ کے پاس انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ کے تحت بڑے پیمانے پر محصولات عائد کرنے اور یکم فروری کو عائد کئے جانے والے محصولات کا قانونی اختیار نہیں ہے۔معلوم ہوا ہے کہ نیو سول لبرٹیز الائنس (این سی ایل اے) ایک غیر منافع بخش عوامی مفاد کی قانونی تنظیم ہے جس کا قیام 2017 میں ہوا تھا۔

Post Views: 1.

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

ٹرمپ کا بڑے پیمانے پر عالمی ٹیرف کا اعلان، پاکستان بھی متاثر

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 03 اپریل 2025ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو دنیا بھر کے ممالک پر جوابی محصولات کا اعلان کرتے ہوئے اسے امریکہ کے لیے 'لبریشن ڈے' یا آزادی کا دن قرار دیا۔

وائٹ ہاؤس کے روز گارڈن میں خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا،’’یہ ہماری آزادی کا اعلان ہے۔ امریکہ کی صنعت دوبارہ جنم لے رہی ہے۔

‘‘ ٹرمپ کے بقول، ان کا منصوبہ ''امریکہ کو دوبارہ دولت مند‘‘ بنائے گا۔

نئے امریکی محصولات سے عالمی تجارتی کشیدگی میں اضافے کا خدشہ

انہوں نے نئے ٹیرف کے منصوبے کو ''معاشی آزادی کا اعلان‘‘ اور ''خوشحالی کی نوید‘‘ قرار دیا۔

ٹرمپ نے اس تقریب میں ایک فہرست دکھائی جس میں ان ممالک کے نام درج تھے، جن پر جوابی محصولات عائد کی جا رہی ہیں اور ان ممالک کے جانب سے عائد محصولات کا بھی اس فہرست میں ذکر تھا۔

(جاری ہے)

ٹرمپ نے کہا، ’’وہ ہمارے ساتھ یہ کرتے ہیں، اب ہم ان کے ساتھ یہی کر رہے ہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ صرف اپنی صنعتوں پر عائد محصولات سے اپنا دفاع کر رہا ہے۔

فہرست میں پاکستان، بھارت، چین شامل

جوابی محصولات عائد کرنے کے حوالے سے ٹرمپ نے دلیل دی کہ ''بہت سے معاملات میں، تجارت کو لے کر دوست، دشمن سے بھی بدتر ہیں۔

‘‘

امریکہ: غیر ملکی کاروں پر 'مستقل' اضافی محصولات کا اعلان

ٹرمپ نے بتایا کہ وہ پاکستان پر 29 فیصد جوابی محصول لگانے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکہ پر 58 فیصد ٹیرف عائد کرتا ہے۔

بھارت پر جوابی ٹیرف کا اعلان کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا، ''وہ ہم سے 52 فیصد ٹیرف چارج کرتے ہیں اور ہم سالوں سے کچھ نہیں لے رہے ہیں۔

‘‘

انہوں نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ''وہ میرے بہت اچھے دوست ہیں مگر میں نے ان سے کہا ہے کہ آپ کا ہمارے ساتھ سلوک اچھا نہیں ہے۔‘‘

چینی درآمدات پر اب 34 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ اس سے ٹرمپ کی جانب سے پہلے عائد کیے گئے 20 فیصد محصولات کے ساتھ مجموعی طور پر نئی درآمدات پر محصولات 54 فیصد تک پہنچ جائیں گی۔

ٹرمپ نے قریبی اتحادیوں کو بھی نہیں بخشا

ٹرمپ نے اپنے قریبی اتحادیوں کو بھی نہیں بخشا۔ انہوں نے یورپی یونین پر 20 فیصد اور جاپان پر 24 فیصد محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا۔

یورپی کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈئر لائن نے خبردار کیا کہ نئے محصولات عائد کرنا عالمی معیشت کے لیے ایک'بڑا دھچکا‘ ہے۔

جاپان کے وزیر تجارت نے ان کے ملک پر لگائے گئے 24 فیصد جوابی ٹیرف کو'یکطرفہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا، ''امریکہ کی طرف سے یکطرفہ ٹیرف انتہائی افسوس ناک ہے اور میں پرزور درخواست کرتا ہوں کہ جاپان پر یہ عائد نہ کیا جائے۔

‘‘

ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد کہ واشنگٹن تمام غیر ملکی گاڑیوں پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرے گا، جرمن آٹو موٹیو انڈسٹری ایسوسی ایشن نے کہا کہ نئے امریکی محصولات کے بعد ''صرف ناکام لوگ پیدا ہوں گے۔‘‘

ایسوسی ایشن نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کے خلاف مل کر اور ''ضروری قوت‘‘ کے ساتھ کام کرے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چین نے جمعرات کو کہا کہ وہ امریکہ کے ان اقدامات کی 'شدید مخالفت‘ کرتا ہے۔

بیجنگ نے'اپنے مفادات اور حقوق کے تحفظ کے لیے جوابی کارروائی‘ کا عندیہ بھی دیا۔ ماہرین اقتصادیات کیا کہتے ہیں؟

فچ ریٹنگ ایجنسی میں امریکی اقتصادی تحقیق کے سربراہ اولو سونالو نے خدشہ ظاہر کیا کہ نئے ٹیرف سے ''بہت سے ممالک ممکنہ طور پر کساد بازاری کا شکار ہوں گے۔‘‘

سونالو کے مطابق، 2024 میں یہ صرف 2.5 فیصد تھی، لیکن اب یہ 22 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا ایسا آخری بار 1910 کے آس پاس دیکھا گیا تھا۔

آئی ایم ایف کے ماہر اقتصادیات کین روگوف نے ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد کہا، ''انہوں نے عالمی تجارتی نظام پر ایٹم بم گرا دیا ہے۔‘‘

نئے ٹیرف کے اعلان کے بعد ایشیا کے مختلف ممالک میں جمعرات کے روز آغاز پر ہی مارکیٹس مندی کا شکار نظر آئیں۔

روس نئے ٹیرف سے مستشنیٰ

وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے امریکی میگزین نیوز ویک کو بتایا کہ روس ٹیرف کی فہرست میں نہیں ہے کیونکہ یوکرین پر روس کے حملے کے بعد امریکی پابندیوں کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارت ''صفر‘‘ ہے۔

بیلاروس، کیوبا اور شمالی کوریا، دوسرے ممالک جنہیں امریکی پابندیوں کا سامنا ہے، بھی 180 ممالک کی ٹیرف فہرست میں شامل نہیں تھے۔

امریکہ نے کینیڈا اور میکسیکو پر نئے ٹیرف کا اعلان نہیں کیا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں ممالک پر پچھلے ایگزیکٹیو آرڈر میں طے شدہ فریم ورک کا اطلاق ہو گا۔

یاد رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اس سے قبل کینیڈا اور میکسیکو سے درآمد کی جانے والی اشیا پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن بعد میں کچھ چھوٹ کا اعلان بھی کیا تھا۔

جنوبی افریقی ملک لیسوتھو ٹیرف سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ ٹرمپ نے اس پر 50 فیصد محصولات عائد کردی ہیں، جو بنیادی طور پر ٹیکسٹائل اور ہیرے کی درآمدات پر لگائی گئی ہیں۔

ادارت: کشور مصطفیٰ

متعلقہ مضامین

  • وہ گھبرا گئے چین کے امریکا پر جوابی ٹیرف پر ٹرمپ کا ردعمل
  • چین کا امریکا کو جواب: تمام امریکی درآمدات پر مزید 34 فیصد ٹیرف عائد کردیا
  • ٹرمپ ٹیرف وار: کینیڈا نے امریکی گاڑیوں پر 25 فیصد ٹیرف لگادیا
  • ٹرمپ کے نئے محصولات ’عالمی معیشت کے لیے دھچکا‘، یورپی یونین
  • ٹرمپ کا درآمدات پر جوابی ٹیرف کا اعلان! پاکستان پر کیا اثرات ہوں گے؟
  • ٹرمپ کا بڑے پیمانے پر عالمی ٹیرف کا اعلان، پاکستان بھی متاثر
  • ٹرمپ ٹیرف وار: امریکا کو متعدد ممالک کی طرف سے شدید ردعمل کا سامنا
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا درآمدات پر ٹیرف کا اعلان
  • امریکی صدر کا تمام درآمدات پر 10 فیصد ٹیکس عائد کرنے کا اعلان