کابینہ نے سرکاری آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں کی منظوری دے دی
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
کابینہ نے سرکاری آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں کی منظوری دے دی WhatsAppFacebookTwitter 0 4 April, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس ) وفاقی کابینہ نے سرکاری آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں کی منظوری دے دی۔حکومت نے سرکاری آئی پی پیز کے ساتھ بات چیت مکمل کر لی ہے، اب سرکاری آئی پی پیز کی درخواست نیپرا میں آئے گی۔ذرائع پاور ڈویژن نے بتایا ہے کہ مزید 21 سے زائد سرکاری آئی پی پیز کے ساتھ بات چیت ہوئی ہے، مذاکرات سے 34 ارب روپے کی بچت ہوگی،
ان مذاکرات کے نتیجے میں فی یونٹ 27 پیسے بجلی کی بنیادی قیمتوں میں کمی آئے گی۔پاور ڈویژن کے اعلی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی بنیاد پر بتایا ہے کہ آئی پی پیز 21 ہزار میگاواٹ سے زائد کیپسٹی کے حامل ہے اور ان میں نیوکلیئر پاور پلانٹس سمیت آر ایل این جی، گیس، ہائیڈل، کوئلے، فرنس آئل اور سولر پاور پلانٹس شامل ہیں۔
.ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: نے سرکاری آئی پی پیز کے ساتھ
پڑھیں:
کینالز کے مسئلے پر پیپلز پارٹی کے خلاف پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، وزیراعلیٰ سندھ
سکھر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ کچھ لوگ پروپیگنڈا کرنے میں بہت تیز ہیں، صدر مملکت نے پارلیمنٹ میں کہا ان منصوبوں کی حمایت نہیں کرسکتا، صدر مملکت نے اس معاملے پر کسی سمری پر دستخط نہیں کیے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کینالز کے مسئلے پر پیپلز پارٹی کے خلاف پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، ہم کینال کے خلاف کھڑے ہیں، آئین کہتا ہے صوبوں کے اتفاق تک پانی کامنصوبہ نہیں بن سکتا، انہوں نے واضح کیا کہ کوئی منصوبہ بنانے کی سوچ پر تو پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔ سکھر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ جولائی کے منٹس آئے اور پروپیگنڈا کیا گیا کہ صدر مملکت نے منظوری دے دی، کچھ لوگ پروپیگنڈا کرنے میں بہت تیز ہیں، صدر مملکت نے پارلیمنٹ میں کہا ان منصوبوں کی حمایت نہیں کرسکتا، صدر مملکت نے اس معاملے پر کسی سمری پر دستخط نہیں کیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ صدر مملکت کسی منصوبے کی منظوری دے ہی نہیں سکتے، پانی کا معاملہ سی سی آئی میں جاتا ہے، صوبوں کی مشاورت ہوتی ہے، ہم نے ہر چیز دیکھ کر بتادیا کہ یہ منصوبہ غلط ہے، پانی کا کوئی بھی منصوبہ صوبوں کے اتفاق کے بغیر نہیں بن سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر مملکت کے پاس کسی کو کام سے روکنے کا اختیار نہیں، صدر مملکت نے کسی سمری پر دستخط کیے نہ ہی منظوری دی، سندھ کو کوئی تکلیف نہیں ہونے دیں گے۔