چین نے 6 امریکی کمپنیوں کی چین کو مصنوعات کی برآمد کی اجازت معطل کر دی
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
چین نے 6 امریکی کمپنیوں کی چین کو مصنوعات کی برآمد کی اجازت معطل کر دی WhatsAppFacebookTwitter 0 4 April, 2025 سب نیوز
بیجنگ :چین کی وزارت تجارت نے ایک اعلان جاری کیا ہے جس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ 4 اپریل 2025 سے امریکہ اور بھارت سے درآمد ہونے والی میڈیکل سی ٹی ٹیوبز پر ڈمپنگ کے خلاف تحقیقات شروع کی جائیں گی۔
اسی دن، چین کے جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز نے ایک اور اعلان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ متعلقہ درآمدی مصنوعات میں معائنہ اور قرنطینہ کے مسائل پائے جانے کی وجہ سے، ایک امریکی کمپنی کو چین کو جوار برآمد کرنے اور تین امریکی کمپنیوں کو پولٹری بونز اینڈ میلز کی برآمد کی اجازت معطل کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ دو امریکی کمپنیوں کی پولٹری مصنوعات کی چین کو برآمد پر بھی عارضی پابندی لگا دی گئی ہے۔
.ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: امریکی کمپنیوں چین کو
پڑھیں:
امریکا کےساتھ آزادانہ تجارتی معاہدے پر مذاکرات کیے جائیں،اعجاز گوہر
سابق نگران وفاقی وزیرگوہر اعجاز گوہر اعجاز کا کہنا ہے کہ امریکا کےساتھ آزادانہ تجارتی معاہدے پر مذاکرات کیے جائیں، پاکستان امریکی مصنوعات کو ڈیوٹی فری درآمدات کی اجازت دے سکتا ہے۔ سابق نگران وفاقی وزیر تجارت گوہر اعجاز نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ پاکستانی برآمدات پر ڈیوٹیز اور ٹیکسز میں کمی کے لیے مذاکرات کیے جائیں، امریکا کا بڑا اعتراض ہے کہ پاکستان نے امریکی مصنوعات پر ٹیرف لگائے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کو شکایت ہے کہ پاکستان امریکی مصنوعات کو اپنی مارکیٹ میں اجازت نہیں دے رہا، امریکی مصنوعات کو پاکستان کی مارکیٹ تک کھلی اجازت دینا فائدہ مند ہے۔گوہر اعجاز نے کہا کہ پاکستان اپنی مارکیٹ کھول کر امریکا کا تجارتی خسارہ کم کر سکتا ہے، پاکستان کا امریکا کے ساتھ 3 ارب ڈالرز کا تجارتی سرپلس ہے اور امریکا پاکستانی مصنوعات کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔گوہر اعجاز کا کہنا ہے کہ ٹرمپ ٹیرف پاکستان کے لیے ایک منفرد موقع ہے جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان امریکی مصنوعات کو ترجیح دے سکتا ہے ، پاکستان امریکا سے کاٹن خام مال ، مشینری اور جہازوں کی درآمد پر ٹیکسز اور ڈیوٹیز کی چھوٹ دے سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کی چمڑے اور جوتوں کی مارکیٹ کو دیگر سپلائیرز سے دھچکا لگا ہے، پاکستان امریکا کی چمڑے اور جوتوں کی کی مارکیٹ میں جگہ بنا سکتا ہے۔
سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان 9.5 سینٹ بجلی کے نرخ اور 100 ڈالر لیبر پر عالمی منڈی میں مقابلہ کر سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ امریکی مصنوعات کو کم ترین ٹیرف پر پاکستان تک رسائی دی جائے۔گوہر اعجاز نے مزید کہا کہ امریکا نے چین پر 54 فیصد اور ویتنام پر 46 فیصد ڈیوٹیز عائد کی ہیں، پاکستان نے گذشتہ 8 ماہ میں امریکا کو 4 ارب ڈالرز کی مصنوعات برآمد کی ہیں، توقع ہے کہ رواں سال پاکستان کی امریکا کو برآمدات دو ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔گوہر اعجاز نے کہا کہ ٹرمپ ٹیرف کے بعد چین کی صنعتوں کو پاکستان منتقل کرنے کے لیے پارٹنرشپ کی جائے، چینی صنعتیں پاکستان کے خصوصی اقتصادی زونز سے اپنی مصنوعات کم ٹیرف پر امریکا کو برآمد کر سکتی ہیں۔
اشتہار