پاکستان کے دریائوں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال کے ادادوشمارجاری
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
تربیلا، منگلا اور چشمہ کے آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج، ان کی سطح اور بیراجوں میں پانی کے بہا ئوکی صورتحال حسب ذیل رہی۔دریا ئے سندھ میں تربیلاکے مقام پرآمد16 ہزار 800کیوسک اور اخراج20 ہزار کیوسک، دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پرآمد 17 ہزار کیوسک اور اخراج 17 ہزار کیوسک، خیرآباد پل آمد 33 ہزار900 کیوسک اور اخراج33 ہزار900 کیوسک،جہلم میں منگلاکے مقام پر آمد21 ہزار 900 کیوسک اور اخراج15 ہزار کیوسک، چناب میں مرالہ کے مقام پرآمد 6 ہزار 900 کیوسک اور اخراج 3 ہزار200 کیوسک رہا۔ جناح بیراج آمد39 ہزار900 کیوسک اور اخراج36 ہزار800 کیوسک، چشمہ آمد 28 ہزار 300 کیوسک اوراخراج 32 ہزار کیوسک، تونسہ آمد30 ہزار 500 کیوسک اور اخراج 30 ہزار 300 کیوسک،گدوآمد 16 ہزار600 کیوسک اور اخراج 16 ہزار600 کیوسک، سکھر آمد16 ہزار 500 کیوسک اور اخراج 6 ہزار کیوسک، کوٹری آمد 4 ہزار 600 کیوسک اور اخراج 200 کیوسک، تریموں آمد 5 ہزار100 کیوسک اور اخراج 2 ہزار 200، پنجند آمد1ہزار 600 کیوسک اور اخراج صفر کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔آبی ذخائر میںتربیلا کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1402 فٹ،پانی کی موجودہ سطح 1410.
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کیوسک اور اخراج ہزار کیوسک کے مقام پر میں پانی فٹ پانی پانی کی
پڑھیں:
ہم پانی کے مسئلے پر سیاسی کشمکش دیکھ رہے ہیں،عابد سلہری
اسلام آباد:رہنما پیپلزپارٹی شہادت اعوان کا کہنا ہے کہ میں آپ کو یاد دلاؤں گا کہ جیسے ہی ارسا کی این او سی سامنے آئی اس کے بعد یہ ایشو سینیٹ میں اور نیشنل اسمبلی میں اس پر بحث مباحثہ ہوا بلکہ پیپلزپارٹی نے اس پر ایک موشن موو کی جس پر پونے تین گھنٹے یک بحث جاری رہی، اس وقت مصدق ملک ہمارے منسٹر تھے اور وہ بھی وہاں موجود تھے۔
ایکسپریس نیوز کے پروگرام کل تک میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ آپ کو یہ معلوم ہے کہ آئین میں ہے کہ ای سی سی کا اجلاس تین مہینے میں ہو لیکن اس وقت 14واں مہینہ چل رہا ہے کہ موجودہ گورنمنٹ اجلاس ہی نہیں بلا رہی۔
ماہر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر عابد سلہری نے کہا کہ ہم پانی کے مسئلے پر سیاسی کشمکش دیکھ رہے ہیں، وجہ یہی ہے کہ جب کسی چیز کی شارٹیج آتی ہے تو حصہ اور بٹوارہ کرنے پر لڑائی ہوتی ہے یا اختلافات آتے ہیں، دنیا کے سترہ بدترین آبی قلت والے ممالک جو ایرڈ کنٹریز ہیں جہاں کہا جاتا ہے کہ یہاں پانی کی شدید قلت ہے میں پاکستان کا نمبر 14واں ہے، ہمارے پاس پانی کے تین ذرائع ہیں، ایک گراؤنڈ واٹر، دوسرا گلیشیئر پگھلنے سے دریاؤں کے ذریعے حاصل ہونے والا پانی اور تیسرا بارش سے حاصل ہونے والا پانی ہے۔
کلائمٹ چینج ایک حقیقت ہے، بارشیں کم ہونا شروع ہو گئیں،پانی کے تینوں ذرائع برے طریقے سے کم ہو رہے ہیں اور ہم اس کے مطابق اپنی تیاری نہیں کر رہے۔
ماہر واٹر اینڈ ڈیم انجنیئر سلمان نجیب نے کہا کہ پاکستان میں پانی کی کمی کا بہت ہی سادہ جواب ہے اور میں حیران ہوں اپنی قوم پر اپنے دوستوں پر کہ ہمیں اس کی سمجھ کیوںنہیں آ رہی، ہمیں تو زیریں ریپیرین بنایا گیا ہے، دشمن اپر ریپیرین ہے اور ہم زیریں ریپیرین ہیں، انگریز نے اس بات کو یقینی بنایا کہ پاکستان کے پاس پچاس یا ساٹھ سال کی شیلف لائف ہو۔
انہوں نے کہا کہ ستم ظریقی ہے پہلے جو لوگ اپنے آپ کو پاکستان کی کانگریس پارٹی کہتے ہیں وہاں سے شروع ہوا چارسدہ سے پھر کچھ سندھی بھائیوں نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا، ہم تو چاہتے ہی نہیں ہیں کہ پانی کے ذخیرے بنیں، اس وقت ہمارے پاس کم ازکم50 ایم اے ایف یعنی 65 مربع کلومیٹرپانی کا ذخیرہ ہونا چاہیے، یہ ہماری اپنی نالائقیاں ہیں، کچھ لوگ غداریاں بھی کر رہے ہیں، ہمیں سمجھ کیوں نہیں آ رہی بات کی۔