راولپنڈی میں پولیس ٹیم کو علاقے کی خواتین نے محبوس کرلیا، ویڈیو سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
راولپنڈی:
راولپنڈی کے تھانہ کلرسیداں کے علاقے میں پولیس ٹیم کو مسلح افراد کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔
تفصیلات کے مطابق پولیس ایمرجنسی ون فائیو پر قمر نامی شہری کی شکایت پر پولیس ٹیم نے ڈھوک گڑھالہ میں مسماتہ یاسمین عالم کے گھر پر چھان بین کے لیے پہنچ کر تحقیقات کا آغاز کیا۔
پولیس سب انسپکٹر ندیم نے موقع پر موجود ملزمان سے دریافت کیا تو وہ مشتعل ہوگئے اور علاقہ مکینوں کو جمع ہونے کی دعوت دی۔
ملزمان نے پولیس ٹیم پر حملہ کرکے تشدد کا نشانہ بنایا۔ ان افراد میں حسن عباس اور سلیم نے پولیس اہلکاروں پر ڈنڈوں اور پستول کے بٹ سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔
ملزمان نے پولیس کے موبائل فون، نقدی اور وائرلیس سیٹ چھینے اور سرکاری گاڑی اور موٹر سائیکل کو بھی نقصان پہنچایا۔ اس دوران پولیس ٹیم کو اٹھا کر سلیم کی بیٹھک میں محبوس کر لیا گیا جہاں ان کی وردیاں بھی پھاڑ دی گئیں۔
ویڈیو فوٹیج میں خواتین کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ "یہ ہماری پولیس ہے جو رات کو آ کر فائرنگ کرتی ہے اور خواتین و بچوں کو مارتے اور ڈراتے ہیں"۔
ایک خاتون وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اپیل کرتی ہوئی بھی نظر آئیں۔ ویڈیو میں سب انسپکٹر احمد کا جواب بھی سنا جا سکتا ہے کہ "یہ اچھی بات نہیں ہے"۔
پولیس ترجمان نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی موقع پر پولیس کی جانب سے فائرنگ نہیں کی گئی۔ پولیس نے مزاحمت کرنے والے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے 8 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
.
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پولیس ٹیم
پڑھیں:
شہریوں کی فائرنگ سے زخمی ڈاکوؤں کا کریڈٹ پولیس اپنے نام کرنے پر تُل گئی
کراچی:شہر قائد میں شہریوں کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے 2 ڈاکوؤں کو پولیس نے حراست میں لینے کے چند گھنٹوں بعد پولیس مقابلہ ظاہر کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق شاہ لطیف تھانے کی حدود قائدآباد سویڈش کالج کے قریب جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب موٹرسائیکل سوار 2 ڈاکو شہریوں سے لوٹ مار کر کے فرار ہو رہے تھے کہ عوام نے ملزمان کا تعاقب کیا۔
مزید پڑھیں: کراچی، شاہ لطیف ٹاؤن مبینہ پولیس مقابلے میں اسٹریٹ کرائم کا اہم ملزم زخمی حالت میں گرفتار
ملزمان کے ہاتھ نہ لگنے پر نامعلوم شہری نے ملزمان پر عقب سے فائرنگ کر دی جس سے دونوں ڈاکو زخمی ہوگئے تاہم وہ رکے نہیں ، ملزمان پل کراس کر کے ملیر تھانے کی حدود میں داخل ہوئے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موٹرسائیکل سے گر گئے۔
جہاں ملیر سٹی تھانے کی پولیس نے ملزمان کو حراست میں لے کر ایدھی ایمبولینس کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کیا، شہریوں کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے ملزمان کو دو تھانوں کی پولیس نے مشاورت کے بعد پولیس مقابلہ ظاہر کر کے ترجمان کراچی پولیس کو واٹس ایپ میسج کر کے اپنی کارکردگی ظاہر کر دی۔
مزید پڑھیں: کراچی؛ گاڑیاں چھیننے میں حاضر سروس پولیس اہلکاروں کے ملوث ہونے کا ایک اور واقعہ
بعدازاں کراچی پولیس کی جانب سے ایک واٹس ایپ میسج میڈیا کے لیے کیا گیا جس میں بتایا گیا کہ مذکورہ مقابلہ شاہ لطیف پولیس کے چوق و چابند دستے کے بارے میں بتاتے ہوئے زخمی ملزمان کی شناخت 14 سالہ بلال اور 20 سالہ ارشد خان ولد وارث خان کے نام سے کی گئی۔
یہ کوئی ایسا کوئی پہلا واقعہ نہیں اکثر پولیس عوام کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے واقعے کو پولیس مقابلہ اس لیے ظاہر کر دیتے ہیں کہ ان کی کوئی شکایت کرنے والا موجود نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی اس چیز کا دعویدار ہوتا ہے کہ ڈاکوؤں کو اس نے مارا ہے، عموماً حقیقی پولیس مقابلوں میں ڈاکوؤں سے زیادہ پولیس کا نقصان ہوتا ہے ۔