سابق نگراں وفاقی وزیر کی امریکا کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ کی تجویز
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
سابق نگراں وفاقی وزیر کی امریکا کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ کی تجویز WhatsAppFacebookTwitter 0 4 April, 2025 سب نیوز
سلام آباد (آئی پی ایس )سابق نگراں وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے امریکا کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ کی تجویز دے دی اور کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ آزادانہ تجارتی معاہدے پر مذاکرات کیے جائیں۔اپنے بیان میں سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان امریکی مصنوعات کو ڈیوٹی فری درآمدات کی اجازت دے سکتا ہے، امریکا کے ساتھ پاکستانی برآمدات پر ڈیوٹیز اور ٹیکسز میں کمی کے لیے مذاکرات کیے جائیں، امریکا کا بڑا اعتراض ہے کہ پاکستان نے امریکی مصنوعات پر ٹیرف لگائے ہوئے ہیں
، امریکا کو شکایت ہے کہ پاکستان امریکی مصنوعات کو اپنی مارکیٹ میں اجازت نہیں دے رہا، امریکی مصنوعات کو پاکستان کی مارکیٹ تک کھلی اجازت دینا فائدہ مند ہے۔گوہر اعجاز نے کہا کہ پاکستان اپنی مارکیٹ کھول کر امریکا کا تجارتی خسارہ کم کر سکتا ہے، پاکستان کا امریکا کے ساتھ 3 ارب ڈالرز کا تجارتی سرپلس ہے، امریکا پاکستانی مصنوعات کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے، ٹرمپ ٹیرف پاکستان کے لیے ایک منفرد موقع ہیں۔سابق نگراں وفاقی وزیر کے مطابق پاکستان امریکی مصنوعات کو ترجیح دے سکتا ہے،
پاکستان امریکا سے کاٹن کی درآمد پر ٹیکسز اور ڈیوٹیز زیرو کر سکتا ہے، پاکستان امریکا سے مشینری کی درآمد پر ڈیوٹیز کی چھوٹ دے سکتا ہے، امریکا کی لیدر اور جوتوں کی مارکیٹ کو دیگر سپلائیرز سے دھچکا لگا ہے، پاکستان امریکہ کی لیدر اور فٹ ویئر مارکیٹ میں جگہ بنا سکتا ہے، پاکستان 9.
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سابق نگراں وفاقی وزیر امریکا کے ساتھ
پڑھیں:
برطانیہ کیلئے کینیڈا اور یورپ کیساتھ "متحدہ محاذ" بنانے کی تجویز
لبرل ڈیموکریٹ کے خارجہ امور کے ترجمان کیلم ملر ایم پی نے کہا ہے کہ ہفتوں تک ڈونلڈ ٹرمپ کے نقصاندہ رویئے پر تنقید سے گریز کرنے کے باوجود، اب یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ حکومت ٹرمپ کی عالمی تجارتی جنگ میں برطانیہ کیلئے کوئی استثنیٰ حاصل کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ ٹرمپ نے ثابت کر دیا کہ وہ معیشت کے حوالے سے ناقابلِ بھروسہ شراکت دار ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ برطانیہ کی اپوزیشن جماعت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی نے کہا ہے کہ برطانیہ کو کینیڈا اور یورپ کے ساتھ "متحدہ محاذ" بنانا چاہیئے، تاکہ ٹرمپ کی تجارتی جنگ کا مقابلہ کیا جاسکے۔ لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کی پریس ریلیز میں کہا گیا کہ لبرل ڈیموکریٹس یورپ اور کینیڈا کے ساتھ مل کر ٹرمپ کی نقصان دہ تجارتی جنگ کے خلاف کھڑے ہونے کے لیے "متحدہ محاذ" بنانے کا مطالبہ کر رہی ہے، کیونکہ برطانیہ اپنی معیشت پر پڑنے والے نئے محصولات سے بچاؤ میں ناکام رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ توقع ہے کہ برطانیہ کو ٹرمپ کی جانب سے تمام امریکی برآمدات پر 20 فیصد محصولات کا سامنا کرنا پڑے گا، کیونکہ حکومت صدر کی تجارتی جنگ سے برطانیہ کو استثنیٰ دلانے میں ناکام رہی ہے۔
پیر کے روز ڈاؤننگ اسٹریٹ نے بتایا کہ وزیراعظم اور ٹرمپ کے درمیان محصولات کے نفاذ سے قبل ایک "ثمرآور" فون کال ہوئی، جسے وائٹ ہاؤس نے "یوم آزادی" قرار دیا ہے۔ تاہم لبرل ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ حکومت کی ٹرمپ سے قریب ہونے کی پالیسی کارگر ثابت نہیں ہوئی۔ اس کے برعکس اب برطانیہ کو اپنے دولتِ مشترکہ کے اتحادی کینیڈا اور یورپ کے ساتھ مل کر ایک "متحدہ محاذ" بنانے کی ضرورت ہے، جس میں ایک نیا برطانیہ۔یورپی یونین کسٹمز یونین معاہدہ بھی شامل ہو، تاکہ ٹرمپ کی محصولات کی دھونس کا مقابلہ کیا جاسکے اور ان پر دباؤ ڈالا جاسکے کہ وہ تجارتی جنگ ختم کریں۔
اس حوالے سے لبرل ڈیموکریٹ کے خارجہ امور کے ترجمان کیلم ملر ایم پی نے کہا ہے کہ ہفتوں تک ڈونلڈ ٹرمپ کے نقصان دہ رویئے پر تنقید سے گریز کرنے کے باوجود، اب یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ حکومت ٹرمپ کی عالمی تجارتی جنگ میں برطانیہ کے لیے کوئی استثنیٰ حاصل کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ ٹرمپ نے ثابت کر دیا کہ وہ معیشت کے حوالے سے ناقابلِ بھروسہ شراکت دار ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ کوئی بھی حتیٰ کہ امریکا کے پرانے ترین اتحادی بھی اس وائٹ ہاؤس کی معاشی تباہی سے محفوظ نہیں۔ ہمیں اس تجارتی جنگ کو جتنی جلدی ممکن ہو، ختم کرنا ہوگا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے کینیڈین اور یورپی اتحادیوں کے ساتھ مل کر متحدہ محاذ بنائیں، جہاں ضروری ہو، جوابی محصولات بھی عائد کریں اور ساتھ ہی یورپی یونین کے ساتھ ایک نیا مخصوص کسٹمز یونین معاہدہ کریں، تاکہ برطانوی کاروباری طبقے کو بہتر تحفظ دیا جاسکے۔