کرم میں اب تک 988 بنکرز مسمار
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
— فائل فوٹو
کوہاٹ امن معاہدے کے تحت ضلع کرم میں فریقین کے بنکرز کی مسماری کا عمل جاری ہے۔
ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ضلع کرم میں اب تک 988 چھوٹے بڑے بنکرز تباہ کیے جا چکے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق ضلع کرم میں پائیدار اور دیرپا امن و امان ضروری ہے، اس لیے فریقین کے بنکرز گرانے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔
مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ کرم میں فریقین کے 900 بنکرز گرائے جاچکے ہیں۔
اپر کرم میں اب تک 635 اور لوئر کرم میں 353 بنکرز تباہ کیے جا چکے ہیں۔
دوسری طرف امن معاہدے کے باوجود ضلع کرم میں آمد و رفت کے راستے تاحال بند ہیں۔
راستوں کی بندش کے خلاف پاراچنار پریس کلب کے باہر شہریوں کا احتجاجی دھرنا جاری ہے۔
.ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: فریقین کے
پڑھیں:
یہود مخالفت سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کا لائحہ عمل جاری
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 05 اپریل 2025ء) دنیا بھر میں یہود مخالفت کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات کے پیش نظر اقوام متحدہ نے اس لعنت پر قابو پانے کے لیے ایک بڑا لائحہ عمل جاری کیا ہے جس کے تحت اقوام متحدہ کے پورے نظام میں اس مسئلے کی نگرانی اور اسے روکنے کے اقدامات میں اضافہ کیا جائے گا۔
اقوام متحدہ کے 'تہذیبوں کے اتحاد' (یو این اے او سی) اور نسل کشی کی روک تھام پر خصوصی مشیر کے دفتر کی جانب سے یہ لائحہ عمل رواں سال جنوری میں سامنے لایا گیا تھا۔
یہ اقدام یہود مخالفت اور شناخت کی بنیاد پر نفرت سے نمٹنے کے سابقہ اقدامات کا تسلسل ہے جو مساوات، انصاف اور انسانی وقار کے فروغ سے متعلق ادارے کے عزم کو تقویت دیتا ہے۔ Tweet URLاس پر عملدرآمد کے حوالے سے ایک ابتدائی ٹھوس اقدام کے طور پر اقوام متحدہ 'یو این سسٹم سٹاف کالج' کی شراکت سے آن لائن آگاہی کا نمونہ بھی تیار کر رہا ہے۔
(جاری ہے)
یہ صارفین کو ایسے علم اور ذرائع سے کام لینے کے قابل بنائے گا جن کی بدولت وہ یہود مخالفت کو پہچاننے کے ساتھ اس کے خلاف ردعمل بھی دے سکیں گے۔یہود مخالفت کے خلاف غیرمتزلزل عزم'یو این اے او سی' کے اعلیٰ سطحی نمائندے میگوئل اینجل موریشنز نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کا قیام ہولوکاسٹ کے بعد عمل میں آیا تھا۔ ادارہ یہود مخالفت، انتہاپسندی اور کسی بھی مذہب کے خلاف نفرت کی ترغیب اور تشدد سے نمٹنے کے لیے ثابت قدمی سے کوششیں کر رہا ہے جن کی اب پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس لائحہ عمل سے کام لینے کے لیے مشترکہ کوششوں کی بدولت شناخت کی بنیاد پر نفرت سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے کام کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔
یہود مخالفت پر قابو پانے کی کوششوں کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ایسے نقصان دہ دقیانوسی تصورات کا مقابلہ اور ان کا ابطال کیا جائے جو اسے دوام دیتے ہیں۔ عام طور پر ایسے تصورات کی بنیاد صدیوں پرانے سازشی نظریات اور غلط و گمراہ کن اطلاعات پر ہوتی ہے جن سے خوف اور بداعتمادی کا ماحول تشکیل پاتا ہے۔
ایسے تصورات جھوٹے بیانیوں یا متعدد سماجی مسائل یا اقدامات پر مفروضہ اجتماعی ذمہ داری عائد کرنے کے ذریعے تمام یہودیوں کے خلاف الزام تراشی کو ہوا دیتے ہیں۔ پریشان کن طور سے یہ ہولوکاسٹ سے انکار یا ان واقعات کو توڑموڑ کر پیش کرنے کا سبب بھی ہوتے ہیں۔
دقیانوسی تصورات کا قلع قمعنسل کشی کی روک تھام پر سیکرٹری جنرل کی قائمقام خصوصی مشیر ورجینیا گامبا نے اس مسئلے کے حوالے سے عالمگیر آگاہی کو بہتر بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہود مخالفت کے مختلف النوع اظہار اور ان نقصان دہ دقیانوسی تصورات کو بہتر طور پر سمجھ کر اور ان سے نمٹںے کے لیے مزید علم کی بدولت دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے ساتھیوں کے کام کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ یہ بات کبھی نہیں بھولنی چاہیے کہ عدم رواداری، امتیازی سلوک اور کسی ایک مذہب کے پیروکاروں پر حملے دوسروں کے خلاف بھی عدم برداشت، تفریق اور حملوں کا باعث بنتے ہیں۔