وزیراعظم کی میانمار میں زلزلے کے نقصان پر اظہار ہمدردی و یکجہتی کے لیے میانمار سفارت خانے آمد
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی میانمار میں حالیہ تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں قیمتی جان و مال کے نقصان پر اظہار ہمدردی و یکجہتی کے لیے میانمار سفارت خانے آمد وزیراعظم کی میانمار کے سفیر ونا ہان (Wunna Han) سے ملاقات وزیراعظم کا میانمار میں حالیہ زلزلے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس ہم میانمار میں حالیہ زلزلے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحتیابی اور متاثرہ خاندانوں کی بحالی کے لیے دعا گو ہیں، وزیراعظم حکومت پاکستان خیموں، ادویات اور دیگر امدادی سامان پر مشتمل 35 ٹن کی ایک کھیپ خصوصی پرواز کے ذریعے بھجوا چکی ہے اور حسب ضرورت مزید سامان بھی بھجوایا جا رہا ہے، وزیراعظم پاکستان میانمار کے لیے مشکل کی اس گھڑی میں ہر ممکن مدد کے لیے تیار ہے، وزیراعظم میانمار کے سفیر کا وزیراعظم کی سفارت خانے آمد اور حکومت پاکستان کی جانب سے بھر پور تعاون پر اظہار تشکر پاکستان اور میانمار دوست ممالک ہیں اور اس مشکل گھڑی میں پاکستان کے تعاون پر میانمار کی قوم آپ کی مشکور ہے، سفیر ونا ہان ملاقات میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور معاون خصوصی طارق فاطمی شریک تھے۔
.ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: میانمار میں پر اظہار کے لیے
پڑھیں:
میانمار زلزلہ: فائربندی کے باوجود فوج کے مخالفین کو نشانہ بنانے پر تشویش
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 04 اپریل 2025ء) اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کہا ہے کہ میانمار میں تباہ کن زلزلے کے بعد جنگ بندی کا اعلان کرنے کے باوجود ملکی فوج کی جانب سے اپنے مخالف گروہوں پر بمباری اور زمینی حملے جاری ہیں۔
ہائی کمشنر کی ترجمان روینہ شمداسانی نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ ایسے بعض حملے گزشتہ جمعے کو زلزلہ آنے سے فوری بعد کیے گئے جبکہ لوگوں کو تباہ کن حالات کا سامنا ہے۔
Tweet URLاقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) کی جاری کردہ تازہ ترین معلومات کے مطابق زلزلہ آنے کے بعد ملک بھر میں فوج کی جانب سے 61 حملوں کی مصدقہ اطلاعات ہیں جبکہ 2 اپریل کو جنگ بندی کا اعلان ہونے کے بعد 16 حملے کیے گئے ہیں۔
(جاری ہے)
میانمار میں ادارے کی ٹیم کے سربراہ جیمز روڈیور نے کہا ہے کہ میانمار کی فوج مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے بے آواز پیرا گلائیڈر بھی استعمال کر رہی ہے۔ وولکر ترک نے حکومت سے ایسی کارروائیاں فوری طور پر بند کرنے اور زلزلہ متاثرین کو مدد پہنچانے پر توجہ مرکوز رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں چار سال سے جاری خانہ جنگی کا خاتمہ ہونا چاہیے اور اس مقصد کے لیے مشمولہ سیاسی عمل سے کام لیا جائے۔
وسیع تر ضروریاتاقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے میانمار میں تباہ کن زلزلے سے متاثرہ لوگوں کو انسانی امداد کی فوری اور بلارکاوٹ فراہمی یقینی بنانے کے لیے کہا ہے۔ 7.7 شدت کے اس زلزلے میں ملک کے وسطی علاقے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
گزشتہ روز اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس زلزلے نے میانمار کے لوگوں کی مشکلات میں بڑے پیمانے پر اضافہ کر دیا ہے جو خانہ جنگی، پے درپے آنے والی قدرتی آفات اور معاشی گراوٹ کے باعث بدترین حالات کا سامنا کر رہے تھے۔
امدادی اداروں کے مطابق، زلزلے سے وسطی علاقوں میں شہری تنصیبات بشمول طبی مراکز، سڑکوں اور پلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور تقریباً 80 فیصد تمام عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بتایا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں بجلی اور پانی کی فراہمی اور طبی خدمات تک رسائی متاثر ہوئی ہے جبکہ پانی اور خوراک کے ذریعے پھیلنے والی بیماریوں کے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے 12 لاکھ زلزلہ زدگان کے لیے ایک کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے امدادی وسائل مہیا کرنے کی اپیل کی ہے۔
امدادی کارروائیوں میں مشکلات'یو این ایچ سی آر' کے ترجمان بابر بلوچ نے بتایا ہے کہ ادارے نے منڈلے، سیگانگ، باگو، دارالحکومت نے پی ڈا اور ریاست شن کے بعض حصوں میں 25 ہزار زلزلہ متاثرین کو پلاسٹک کی چادریں اور برتن فراہم کیے یہں۔
انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس (آئی سی آر سی) نے بتایا ہے کہ زلزلے سے 136 علاقے متاثر ہوئے ہیں جن میں 25 فیصد ایسے ہیں جن پر حکومت کی عملداری نہیں ہے۔ اسی وجہ سے ان علاقوں تک امداد کی رسائی میں پیچیدگیاں حائل ہیں۔
روینہ شمداسانی نے کہا ہے کہ فوجی حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ اور مواصلاتی نظام کو بند کیے جانے کے باعث ہر جگہ سے درست اطلاعات کا حصول ممکن نہیں ہے جس کی وجہ سے امدادی اداروں اور ان کی ٹیموں کو مشکلات کا سامنا ہے۔