وزیراعظم کی زیر صدارت پرائم منسٹر رمضان ریلیف پیکج 2025 کے حوالے سے جائزہ اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
وزیراعظم کی زیر صدارت پرائم منسٹر رمضان ریلیف پیکج 2025 کے حوالے سے جائزہ اجلاس وزیراعظم کی رمضان ریلیف پیکج کے لئے کام کرنے والی حکومتی کور ٹیم اور معاون اداروں کی بہترین کاکردگی کی ستائش رمضان ریلیف پیکج کے حوالے سے پہلی بار ڈیجیٹل والٹ متعارف کروایا گیا جس کے ذریعے نہایت شفاف اور سہل طریقہء کار سے رقوم مستحقین تک پہنچیں : وزیراعظم رمضان پیکیج پورے پاکستان بشمول گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے لیے بلاتفریق متعارف کروایا گیا : وزیراعظم اس پیکیج کو شفاف بنانے کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان، بی آئی ایس پی، پی ٹی اے، نادرا اور دیگر معاون اداروں کی کاوشیں لائق تحسین ہیں : وزیراعظم رمضان ریلیف پیکج کے دوران موصول ہونے والی شکایات کو آئیندہ لائحہ عمل بناتے ہوئے مدنظر رکھا جائے: وزیراعظم اس ماڈل کو دیگر حکومتی اسکیموں میں اپنایا جائے : وزیراعظم کی ہدایت اجلاس کو رمضان ریلیف پیکج 2025 کے حوالے سے بریفنگ رمضان ریلیف پیکج کی 79 فیصد رقوم انتہائی شفاف طریقے سے مستحقین کو پہنچائی جا چکی ہیں : بریفنگ وزیر اعظم رمضان ریلیف پیکج کے حوالے سے 2224 ملازمین ڈیوٹی پر مامور تھے : بریفنگ رمضان ریلیف پیکج کے حوالے سے کل 1273 شکایات موصول ہوئیں جن کے حل کے لئے فوری اقدامات کئے گئے : بریفنگ بینکس اور دیگر معاون اداروں کی جانب سے اس پیکج کی آگاہی کے حوالےسے 6.
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: وزیراعظم کی وفاقی وزیر پیکج کی
پڑھیں:
رمضان المبارک میں 30 لاکھ مستحق خاندانوں کیلئے ریلیف پیکیج دیا گیا، وفاقی وزراء
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ رمضان المبارک میں 30 لاکھ مستحق خاندانوں کیلئے ریلیف پیکیج دیا گیا۔ وفاقی وزیر رانا تنویر حسین اور شزا فاطمہ کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل پاکستان کے وڑن کے تحت والٹ کے ذریعے ادائیگی کی گئی، پروگرام کے تحت 19 لاکھ ڈیجیٹل ٹرانزیکشن ہوئیں، ڈیجیٹل نظام کے ذریعے شفافیت کو بھی یقینی بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل میں نجی شعبے نے بھی اہم کردار ادا کیا، مستحق خاندانوں کو براہ راست رقم ادا کی گئی، وزیراعظم نے آج تمام ٹیم ممبرز کو مبارکباد دی، وزیر آئی ٹی شزافاطمہ کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر صنعت و پیداوار رانا تنویر حسین نے کہا کہ یوٹیلیٹی سٹورز کے ذریعے سبسڈی کے حوالے سے اشیاء کے معیار و شفافیت سے متعلق سوالات اٹھ رہے تھے، وزیراعظم نے فیصلہ کیا کہ آئندہ ڈیجیٹل طریقے سے مستحق خاندانوں کی مدد کریں گے، شفافیت سے مستحقین تک پیسے پہنچے۔ ان کا کہنا تھا کہ رمضان پیکیج کے تحت ان خاندانوں کو ریلیف ملا جو کسی اور پروگرام سے مستفید نہیں ہو رہے تھے، اگلے رمضان میں مزید شفاف طریقے سے مدد کی جائے گی۔ رانا تنویر نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل والٹ کا آئیڈیاوفاقی وزیر آئی ٹی شزافاطمہ صاحبہ نے دیا جو کامیاب ہوا، ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام پر عوام نے اطمینان کا اظہار کیا ہے، مستقبل میں اس نظام کو مزید بہتر کریں گے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ نے کہا کہ پہلی بار 20 ارب روپے کا منصوبہ ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے مکمل ہوا، ہم پورے فریم ورک کے تحت ڈیجیٹل اکانومی کی طرف بڑھ رہے ہیں، پاکستان میں جن کے پاس بینکس اکاؤنٹس نہیں ان کی تعداد بہت زیادہ ہے، تمام شعبوں میں ٹیکنالوجی کو ترقی دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل والٹ معیشت کی ڈیجیٹائزیشن کے حوالے سے اہمیت کا حامل منصوبہ ہے، تقریباً ساڑھے 9 لاکھ نئے ڈیجیٹل والٹ قائم کئے گئے، 19 لاکھ سے زائد ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز ہوئی ہیں، بغیر لائن میں لگے ادائیگی سے عوام کو آسانی میسر آئی، 8 لاکھ سے زائد خواتین نے ڈیجیٹل والٹ استعمال کیا۔ شزا فاطمہ نے کہا کہ وزیراعظم شہبازشریف، وفاقی وزراء اور تمام ٹیم کا شکریہ ادا کرتی ہوں، پی ٹی اے اور سٹیٹ بینک نے بھی ہمیں بہت سپورٹ کیا، وزیراعظم کی ہدایت پرکنٹرول روم بھی قائم ہوا، 20 لاکھ سے زائد شکایات کو حل کیا گیا، آئندہ بھی اس ڈیجیٹل طریقہ کار کو تمام پروگرامز میں شامل کریں گے۔